مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی ایجنڈے پر

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد  سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دونوں ملکوں کی قیادت  کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے خاص طور سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ   ’وہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مل کر ’ہزار سال‘ پرانے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے‘۔

پاکستان نے فوری طور سے اس پیشکش کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس پر  ردعمل دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کا خیر مقدم کرتا ہے۔ تاہم  ’مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے اور کشمیریوں کو خودارادیت کا ناقابلِ تنسیخ حق ملنا چاہیے‘۔ واضح رہے کہ ان قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کی فوجیں  کشمیر کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جائیں گی اور پھر عالمی ادارے کی نگرانی میں ہونے والے استصواب   میں کشمیری عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے نقطہ نظر سے   عالمی ایجنڈے پر کشمیر کو مسئلہ قرار دلوالینا ایک اہم پیش  رفت ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے ۔ اگست 2019 میں   نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان اور کشمیری لیڈروں کی شدید مخالفت  کے باوجود بھارتی آئین کی شق 370 منسوخ کردی تھی جس کے تحت  مقبوضہ کشمیر کو ریاست کی حیثیت حاصل تھی اور  اسے اپنے  کئی معاملات میں خود مختاری بھی دی گئی تھی۔  اس کے بعد سے  بھارتی لیڈروں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعوے بھی شروع کردیے تھے  کہ اسے بھی بھارت کے ساتھ ملایا جائے۔ آزاد کشمیر  پر قبضہ   پاکستان کے خلاف بھارت کی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ رہا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر آزادی کے وقت سے تنازعہ کا سبب بنا رہا۔ انڈیا کی تقسیم کے معاہدے کے تحت ہر خود مختار ریاست کے راجہ یا نواب کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہے۔ بدقسمتی سے اس اعلان میں ریاستوں کے عوام کی مرضی کا ذکر نہیں تھا۔  اس لیے ریاستوں کے حکمرانوں کو ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا۔ مقبوضہ کشمیر پر اس وقت  مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ اس  اندیشے کے تحت کہ  کشمیری حکمرانغیر مسلم ہونے کی وجہ سے  اکثریتی آبادی کی مرضی کے خلاف  کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کا اعلان نہ کردے پاکستان کے طرف  سے قبائیلی لشکر وں نے کشمیر چڑھائی کردی۔ اس حملے میں کشمیر کے کافی بڑے حصے پر پاکستان کا قبضہ ہوگیا جسے اس وقت آزاد کشمیر کے طور پر پاکستان کے زیر انتظام علاقہ کہا جاتا ہے۔  تاہم یہ لشکر کشی سری نگر ی یا پورے کشمیر پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی کیوں کہ راجہ ہری سنگھ نے بھارتی فوج کو مدد کے لیے بلا لیا۔ اس طرح کشمیر مستقل طور سے دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ 

بھارت اس معاملہ کو اقوام متحدہ میں لے گیا۔ سلامتی  کونسل نے 1948 میں منظور کی گئی قرار داد کے تحت استصواب رائے سے کشمیری عوام کو ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا  تھا۔ بھارت اور پاکستان نے اس فیصلے پر صاد کیالیکن اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔  شروع میں بھارتی  لیڈر تکنیکی وجوہات کی بنا پر ریفرنڈم سے بچتے رہے لیکن  یہ تسلیم کرتے رہے کہ کشمیر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہی ہوگا۔ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ  یہ وعدے سیاسی  ضرورتوں میں پس منظر میں چلے گئے اور بھارت نے کشمیر کو  اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا۔ نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کشمیر  کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنانے کا اعلان کیا اور اگست  2019  میں اس کی خود مختار حیثیت ختم کرکے اسے مرکز کی زیر نگرانی اکائیوں میں تقسیم کردیا۔   مقبوضہ کشمیر پر کئی برس تک نئی دہلی سے حکومت کرنے کے بعد  سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں گزشتہ سال وہاں  انتخابات کرائے گئے۔ بھارت کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ کشمیر میں انتخابات کے ذریعے جمہوری عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی  وہاں کے عوام  کی مرضی ہے۔ البتہ   مقبوضہ کشمیر کی ایسی سب جماعتوں نے بھی اگست 2019  میں آئینی   شق 370    کالعدم کرکے کشمیر کی خود مختارانہ حیثیت  ختم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس پارٹی نے گزشتہ سال کا انتخاب اسی شق کو بحال کرانے کے ایجنڈے کی بنیاد پر ہی لڑا تھا تاہم ابھی تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

گزشتہ چند سالوں میں  مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے  نریندر مودی کی حکومت نے دو  اہم کام کیے۔ ان میں سے ایک اس علاقے پر مرکز کا کنٹرول مضبوط کرنے  کے علاوہ وہاں مسلمان  اکثریت  کو  غیر مؤثر کرنے کے لیے  ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں جن کے تحت   انڈیا کے علاقوں سے ہزاروں  ہندوؤں کو ریاست میں آباد کرنے اور جائیدادیں خریدنے کا حق دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت اس طرح مقبوضہ علاقے میں مسلم  آبادی کا کسی انتخابی عمل میں  کردار ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ ا س کے علاوہ   متعدد ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے بھارتی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ لگانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ  وہاں روزگار کے  مواقع پیدا ہوں اور سیاحت کو فروغ ملے۔ ان ہی اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کچھ مدت میں سیاحت میں اضافہ ہؤا اور  زندگی معمول پر دکھائی دینے لگی۔ البتہ وہاں امن و امان بحال رکھنے کے لیے اب بھی پانچ لاکھ بھارتی فوج تعینات کی گئی ہے جو سرکاری پالیسی کے خلاف بات کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر  ہلاک کرنے یا گرفتار کرکے بھارتی جیلوں میں بھیجنے کا کام کرتی ہے۔  انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق  کی خلاف ورزی اور ریاستی جبر کے متعلق متعدد رپورٹیں شائع  کرچکی ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت انہیں خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں ہوتی۔

22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والا سانحہ اس لحاظ سے بھارتی حکومت کے لیے شدید دھچکہ تھا کہ ایک تو   کثیر تعداد میں فوج تعینات کرنے کے باوجود  بھارتی حکومت اس قتل  عام کو روک نہیں سکی۔ دوسرے اس دہشت گردی سے مقبوضہ کشمیر  کو پر امن خطہ قرار دینے کا سرکاری بیانیہ  تباہ ہوگیا۔  بھارتی حکام ابھی تک یہ حقائق سامنے نہیں لاسکے کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہؤا اور اس میں کون لوگ ملوث تھے لیکن  اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیر  پر بھارتی تسلط کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے گروہوں میں سے کسی نےیہ کام کیا ہو۔ اس طرح ایک بار پھر یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ کشمیر ی عوام جعلی طور سے مسلط کی گئی سیاسی حکومت یا معاشی بحالی کو حقیقی آزادی نہیں سمجھتے۔  ان ہی حالات کی وجہ سے کشمیر کا معاملہ  حل طلب ہے تاکہ ایک تو پاکستان  اور بھارت کے درمیان تصادم کی صورت حال ختم ہو اور دوسرے  کشمیری عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

مسئلہ کشمیر حل کرنے کی بجائے بھارتی حکومت نے  اسے مسئلہ ماننے  سے انکار کی پالیسی اختیار کی اور اس کے  خلاف  اٹھنے والی ہر آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ اسی لیے پہلگام سانحہ میں انتظامی ناکامی، سیاسی غلطی اور عوامی ناراضی کے عوامل تلاش کرنے کی بجائے اس کا سار ملبہ پاکستان پر ڈال کر خطے میں ایک ایسی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی جس میں پاکستان کو ہمیشہ کے لیے  دبا دیا جائے اور اسے بھارتی عسکری  تسلط  کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ البتہ 7  سے 10 مئی کے درمیان رونما ہونے والے واقعات   سے ایک مختلف تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے۔  بھارتی قیادت نے ایسی تصویر  کا قیاس نہیں کیا تھا۔ اب  خطے میں بھارتی عسکری بالادستی کا بھرم ہی ختم نہیں ہؤا بلکہ  پاکستان کو مسئلہ کشمیر سے  منفی کرنے کا  طریقہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔ اسی لیے صدر ٹرمپ  کشمیر کے مسئلہ کو دونوں ملکوں کی قیادت کے ساتھ مل کر حل کرنے کی بات کررہے ہیں۔

ٹرمپ  کی پیشکش پر پاکستان کا مثبت  جواب اور بھارت کی خاموشی  سے علاقے اور دنیا میں ایک نئی اسٹریٹیجیکل حقیقت   منکشف ہورہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تازہ تصادم سے پہلے نہ تو کوئی امریکی صدر کشمیر کو حل طلب مسئلہ قرار دینے کی ضرورت محسوس کرتا اور نہ ہی بھارتی لیڈر اس  پر منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہتے۔  پاکستان  نے بھارتی عسکری جارحیت کے خلاف اپنا کامیاب دفاع کرکے نہ صرف  اپنی دفاعی قوت کوتسلیم کرایا ہے بلکہ عالمی لیڈروں کو یہ باور کرانے میں بھی کامیاب ہوگیا ہے کہ جوہری صلاحیت کے حامل دو ملکوں  کے  درمیان مستقل امن کے لیے بنیادی مسائل  حل کرنا بے حد ضروری ہے۔ ایسے مسائل میں پانی کی تقسیم کے علاوہ کشمیر کا مسئلہ سر فہرست ہے۔

امید کرنی چاہئے کہ دونوں ملکوں کی قیادت ہوشمندی  سے اس نئے چیلنج کو قبول کرے گی اور کمسن بچوں کی طرح  ایک دوسرے سے کٹی  کرکے بیٹھے رہنے کی بجائے ذمہ دار ریاستوں  کی طرح  مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تمام حل طلب مسائل  پر بات چیت کی جائے گی۔  تاکہ  برصغیر کے پونے دو ارب لوگوں کو جنگی کیفیت سے  نکال کر امن سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر آمادہ کیا جائے۔ اور  اس خطے میں بھی خوشحالی اور فلاح و بہبود کا دور دورہ ہو۔