ٹرمپ سعودی عرب میں: کیا غزہ میں جنگ بند ہوسکے گی؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 13 / مئ / 2025
سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شام کے بارے میں رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے تاہم اس دورہ کے پہلے روز ہونے والی ملاقاتوں میں غزہ کے مستقبل اور وہاں جاری اسرائیلی جارحیت کےحوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ امید کی جاسکتی ہے کہ بدھ کو قطر روانہ ہونے سے پہلے صدر ٹرمپ کی متعدد عرب لیڈروں سے طے شدہ ملاقات میں اس معاملہ پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں آئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورہ پر آج دن کے وقت جب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے تو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ ائیر پورٹ کے استقبالیہ ہال میں ایک مختصر تقریب کے بعد میں سرمایہ کاری سے متعلق ایک اجلاس میں دونوں ملکوں لیڈروں نے خطاب کیا اور سعودی عرب و امریکہ کے درمیان تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ سعودی ولی عہد نے امریکہ سے 142 ارب ڈالر کے ہتھیار اور دفاعی ساز و سامان اور سہولتیں خریدنے کا معاہدہ کرنے کے علاوہ امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ۔ ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ دونوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی سرمایہ کاری اس سے کہیں زیادہ ہوگی اور شاید یہ ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جائے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت میں بھی اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا ہی انتخاب کیا ہے۔ ان کا اہم ترین سیاسی ایجنڈا چونکہ امریکہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔ اس مقصد سے انہوں نے پہلے ہی اشارے دینے شروع کردیے تھے کہ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے وہ سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کرسکتے ہیں۔ تاہم اس دورہ کی خاص بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اس دورے میں امریکی صدر اسرائیل نہیں جائیں گے۔ بلکہ سعودی عرب سے قطر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔ ان دونوں ممالک کے حکمران بھی امریکہ میں نئی سرمایہ کاری کے اشارے دے چکے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ دورہ البتہ محض سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کے تین اہم ملکوں اور امریکہ کے درمیان تعاون کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔ امریکہ مشرق وسطیٰ کی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے ان تینوں ملکوں پر انحصار کرتا ہے ۔ امریکی لیڈر سمجھتے ہیں کہ ان ملکوں میں مستحکم حکومتیں برسر اقتدار ہیں اور ان کے پاس تیل و گیس کی وجہ سے دولت کی ریل پیل ہے۔ صدر ٹرمپ چونکہ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے اور بیرونی سرمایہ امریکہ میں لاکر اس کی صنعتی پیدواری صلاحیت میں اضافہ کا خواب دیکھتے ہیں، اس حوالے سے بھی عرب ممالک ان کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ اب عرب ممالک امریکہ کے ساتھ محض دفاعی معاہدے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں بین الاقوامی معاملات اور سفارت کاری میں اہمیت دی جائے۔ اس حوالے سے قطر کافی عرصہ سے متحرک رہا ہے اور غزہ میں جنگ بند کرانے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسے حماس اور اسرائیل کے درمیان پل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سعودی عرب نے روس یوکرین جنگ کے خاتمہ کے لیے ملاقاتوں کی میزبانی کرکے اپنی سفارتی اہمیت واضح کی ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ دورے میں بھی اگرچہ بظاہر مالی معاملات ہی نمایاں ہوں گے اور ٹرمپ عرب ملکوں کو امریکی حفاظتی چھتری میں رکھنے کو احسان کے طور پر پیش کریں گے لیکن میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ کے استحکام، ایران کے ساتھ معاملات میں توازن اور فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی فریم ورک پر سنجیدہ گفتگو ہوگی۔
ٹرمپ کے ریاض روانہ ہونے سے پہلے ہی یہ اشارے دیے جارہے تھے کہ سعودی حکام خاص طور سے تین نکات پر معاملات طے کرانے کی کوشش کریں گے۔ ان میں ایک تو شام پر سابق صدر بشار الاسد کے زمانے کی عائد اقتصادی پابندیوں کا معاملہ ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں تباہ حال شام میں سرمایہ کاری کے ذریعے اس ملک کی معاشی بحالی میں کردار ادا کرنے کے ساتھ اپنا سفارتی و سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے عرب ممالک ابھی تک شام میں کوئی بڑا اتقصادی منصوبہ شروع نہیں کرسکے۔ تاہم لگتا ہے کہ اس حوالے سے پہلے سے معاملات طے ہوچکے تھے۔ صدر ٹرمپ نے آج ریاض میں تقریر کرتے ہوئے شام پر سے امریکی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا۔ اس طرح سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو ایک مثبت پیغام دیا گیا ہے تاکہ وہ باہمی تعلقات کی دو طرفہ افادیت سے مطمئن رہیں۔
یوں طویل عرصہ تک جنگ اور داخلی انتشار کا شکار رہنے کے بعد شام میں معاشی استحکام اور بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے ۔ اور سعودی عرب کی قیادت میں دیگر خلیجی ریاستیں ، اس ملک میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا سکیں گی۔ اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر کو کم کیا جائے گا۔ بشارالاسد کی معزولی اور جلاوطنی کے بعد شام میں ایران کو طویل المدت سیاسی و سفارتی اثر و روسوخ ختم ہوگیا تھا۔ سعودی عرب اس خلا کو پورا کرکے علاقے اور دنیا میں اپنی اہمیت و طاقت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے ’خطرے‘ کو کم کرنا اس کی حکمت عملی کا اہم ترین حصہ ہے۔ ایران نے شام ہی کے راستے لبنان میں حزب اللہ کو مستحکم کیا تھا اور یمن میں حوثیوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔ سعودی عرب دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر تقریباً ایک دہائی سے یمن میں حوثیوں کی سیاست ختم کرنا چاہتا تھا لیکن اسے اس مقصد میں کامیابی نہیں ملی۔ البتہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد حالات تبدیل ہوئے ہیں۔ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کو کمزور کرچکا ہے اور شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ایران مشرق وسطیٰ کی سیاست سے مزید دور ہوگیا ہے۔ اب سعودی عرب اور اس کے ساتھی عرب ممالک وہ تمام سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انہیں یمن میں دس سال کی جنگ جوئی سے نہیں مل سکے تھے۔
تاہم تبدیل شدہ حالات میں سعودی عرب کی خواہش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری صلاحیت کے معاملہ پر کوئی معاہدہ ہوجائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن کی صورت پیدا ہوسکے۔ عرب ممالک کا خیال ہے کہ اپنی حدود میں خوشحال اور پر امن ایران ان کے لیے خطرہ نہیں ہوگا لیکن اگر امریکہ نے ایران کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو مشرق وسطیٰ میں انتشار و بربادی کی ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جس میں شاید بہت سی مطلق العنان عرب حکومتیں بھی حالات پر قابو نہ پاسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب صدر ٹرمپ پر زور دیتا رہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ کسی معاہدہ تک پہنچ جائے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ امریکہ کے علاوہ ایرانی قیادت بھی اس بات چیت کوکامیب دیکھنا چاہتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ریاض میں کی گئی تقریر میں ایران کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں اپنے میزبانوں کو یقین دلایا کہ ’وہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایران نے ان کی پیشکش مسترد کی تو پھر وہ اس پر دباؤ میں اضافہ کر یں گے اور تہران کی تیل کی برآمدات صفرکر دیں گے‘۔
سعودی عرب کے علاوہ متعدد عرب ممالک صدر ٹرمپ سے غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی بند کرانے اور غزہ کی بحالی کے کسی منصوبہ پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیں گے۔ صدر ٹرمپ نے آج بالواسطہ طور سے غزہ کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ’غزہ کے لوگ زیادہ بہتر مستقبل کے حقدار ہیں۔ تاہم یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہاں کے رہنما معصوم لوگوں کو اغوا، تشدد اور ہدف بناتے رہیں گے‘۔ انہوں نے اسی تقریر میں امید بھی ظاہر کی کہ سعودی عرب مناسب وقت پر ابراہم اکارڈ کا حصہ بن جائے گا یعنی اسرائیل کو تسلیم کرلے گا۔ سعودی عرب متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ صرف اسی وقت اسرائیل کو تسلیم کرے گا جب اسرائیل، فلسطینی ریاست کے قیام میں سنجیدہ پیش رفت پر آمادہ ہو۔ تاہم فلسطینی ریاست کے قیام سے قطع نظر اس وقت غزہ میں چوبیس لاکھ نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملے اور وہاں قحط کی صورت حال ہے۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ غذا کی قلت سے کثیر تعداد میں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں اور وہاں خوراک کی عدم فراہمی سے پیدا ہونے والی صورت حال ایک پوری نسل کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔
ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے پہلے روز غزہ کے بارے میں کوئی خاص بات سامنے نہیں آسکی۔ البتہ اگر شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر عرب لیڈر کسی صورت صدر ٹرمپ کو اسرائیلی حملے رکوانے اور غزہ میں بحالی کا کام شروع کرانے کے کسی منصوبے پر آمادہ نہ کرسکے تو عرب لیڈروں کو اپنے ممالک میں آمرانہ نظام کے باوجود عوام کے جذبات کا سامنا کرنے میں دشواری ہوگی۔ البتہ یہ بھی واضح ہے کہ غزہ کے مستقبل کے بارے میں کسی حل کے لیے حماس کو غیر مسلح ہونا پڑے گا یا سب عرب ممالک کو مل کر کوئی ایسا طریقہ میز پر رکھنا ہوگا جس کے نتیجے میں غزہ کے معاملات میں حماس غیر متعلق ہوجائے۔ یہی اس مسئلہ کا سب سے مشکل اور پیچیدہ پہلو ہے۔ امریکہ نے گزشتہ روز حماس سے براہ راست ڈیل کرتے ہوئے اپنا ایک شہری رہا کرایا ہے۔ سوال ہے کہ کیا اب وہ عرب دوست ممالک کے ساتھ مل کر حماس کو عسکری ونگ ختم کرنے اور سیاسی جد و جہد کی طرف آنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔
شاید فوری طو رسے حماس کے خاتمے کا اعلان نہ کیا جاسکے البتہ حماس کے قبضہ سے یرغمالیوں کی رہائی کے کسی معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی جنگ جوئی بند کرانا ممکن ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اپنے بے پناہ اقتصادی وسائل اور سفارتی اثر و رسوخ کے باوجود اگر ایسا کوئی معاہدہ کرانے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ اسرائیل کو غزہ کے باشندوں کی نسل کشی کا لائسنس دینے کے مترادف ہوگا۔