پاک بھارت لڑائی میں پاکستانی فضائیہ کی برتری

جیسا کہ دنیا میں پیش آنے والے ہر غیر معمولی واقعہ پر ہر زاویہ سے بحث کا آغاز ہوتا ہے، اسی طرح حالیہ پاکستان ہندوستان فوجی تصادم بھی عالمی عسکری ماہرین اور جنگی امور کے محققین کے تبصروں اور تجزیوں کا حصہ بناہوا ہے۔

 اور ماضی کی جنگوں کی طرح اس تصادم میں پیش آنے والے حربی واقعات کےمطالعہ سے یہ تعین کیا جا رہاہے کہ اس میں کون سے تزویراتی عوامل فریقین کے درمیان ہونے والی معرکہ آرائی میں کامیابی اور ناکامی میں فیصلہ کُن رہے۔ تمام عالمی میڈیا اور عسکری ماہرین کی رائے کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو اس معرکہ میں پاکستان کی برتری تسلیم شُدہ ہے۔ ماہرین نے اس کا پیمانہ دونوں اطراف کے عسکری نقصانات کو بنایا ہے۔  ساتھ ہی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کس کا حملہ زیادہ کارگر تھا اور اور کس کا دفاعی نظام توقعات کے برعکس حملہ روکنے میں ناکام رہا۔

تمام ماہرین نے اس موقع پر پاکستان کی برتری کو چین کے عسکری سازوسامان سے منسلک کرتے ہوئے اس جنگ میں پاکستان کے زیر استعمال لڑاکا طیاروں اور میزائل کو گردانا ہے۔ لیکن ساتھ ہی سب ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ اس چینی اسلحہ کی برتری کو چارچاند پاکستان کے پائلٹوں اور اس سازوسامان کو آپریٹ کرنے والے عسکری عملہ نے لگائے۔ جو پاکستان فضائیہ کی اعلیٰ صلاحیتوں اور پیشہ وارانہ قابلیت کا اعتراف ہے۔ ہندوستان کی طرف سے لاکھ عذر بہانوں کے باوجود اب عالمی عسکری تجزیہ کار اور جنگی صحافی دو ٹوک الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان لڑے جانے والے معرکہ میں تین رافیل، ایک سخوئی، ایک مگ اور ایک یو اے وی طیارہ پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہوا ہے۔  یہی تباہ ہونے والے طیارے ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ وہ ان طیاروں کی ناکامی اور پاکستان کی ان کو مار گرانے کی صلاحیت کا مطالعہ کر کے یہ نتیجہ اخذکرنے میں مصروف عمل ہیں کہ کون سے عوامل اس سلسلہ میں کارآمد اور کون سے غیر کارآمد رہے۔ تاکہ انہیں مستقبل کے معرکوں کی پیش بندی کےلیے بروئےکار لایا جا سکے۔

اگر دیکھا جائے تو ہر جنگ جنگی سازوسامان کی پیداوار سے وابستہ صنعت کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ تاکہ جنگ میں برتری حاصل کرنے والے اسلحہ کا مشاہدہ کر کے دفاعی اسلحہ پر توجہ دی جائے اور ساتھ ہی اس اسلحہ کے ہم پلہ اسلحہ ایجاد کر کے اس کا توڑ نکالا جائے۔ لہذا اس معرکہ کا سب سے بڑا اثر یہ ہو گا کہ اسلحہ سازی میں مقابلے کی نئی دوڑ کا آغاز ہوگا۔ سردست اگر عسکری ماہرین کے تجزیوں کو دیکھا جائے تو وہ ہندوستان کی طرف سے استعمال کیے جانے والے رافیل طیاروں کی خامیوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید ہندوستان کی طرف سے رافیل حاصل کرنے پہ ضرورت سے زیادہ غرور کا اظہار تھا۔ ہندوستان اس کے سہارے خطے میں اپنی فضائی برتری کے زعم میں مبتلا تھا۔ لہذا عسکری ماہرین رافیل طیاروں کی ناکامی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ سردست دو نقطوں کے گرد بحث گھوم رہی ہے ایک یہ کہ رافیل کی stealth اہلیت سے محرومی یعنی کے دشمن کے راڈار پر ظاہر نہ ہونے کی اہلیت اور دوسرا SEAD :Suppression of enemy Air Defenc ہے جو دشمن کے زمین پر دفاعی سسٹم کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رافیل اس معرکہ میں ان دونوں صلاحیتوں سے محروم نظر آیا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ J۔10C لڑاکا طیارے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہونے کے ساتھ یلغار کرنے کی ایسی صلاحیتوں سے لیس ہیں جن سے ان کو ہر طرح اپنے مد مقابل پر برتری حاصل تھی۔ اسی طرح ماہرین پاکستان کی طرف سےاستعمال ہونے والے میزائل PL-15 کی بھی قصیدہ گوئی میں مشغول ہیں   کیونکہ BVRٹیکنالوجی سے لیس یہ میزائل ہندوستان کے لیے بھیانک ثابت ہوئے۔ جس کے سامنے اُس کی دفاعی قوت بے بس دکھائی دی اور اس طرح پاکستان نے اپنے سے کئی گناہ بڑی فوج کو چنے چبوائے۔ اس کے ساتھ ہی ماہرین پاکستان کی کامیابی کا سہرا پاکستان کے Erieye-Equiped Saab 2000 ( AEW &C) طیارے کے سر باندھتے ہیں جو 450 کلومیٹر کے فاصلے پر دشمن طیاروں کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے حتیٰ کہ راڈار کی زد سے بچنے کے لیے نیچلی پرواز کرنے والے طیاروں کو بھی ڈھونڈ نکالتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ سسٹم اپنے حلیف طیاروں سے ان کے کے راڈار سسٹم کے بند ہونے کے باوجود رابطہ برقرار رکھ کر انہیں معرکہ آرائی کی حربی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے جس سے وہ دشمن کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ حالیہ لڑائی میں استعمال ہونے والا PL-15 میزائل ایسے سسٹم سے لیس ہے جو فائر ہونے کے بعد AEW&C پلیٹ فارم سے ڈیٹالنک کے ذریعے راہنمائی لیتے ہوئے اپنے ہدف کو داغنے والے طیارے کی طرف سے ہدف کو روشن کیے بغیر نشانہ بنا لیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سسٹم نشانہ پہ طیارہ کو پیشگی وارننگ سے محروم رکھتا ہے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ انڈیا کی فضائی قوت پاکستان کے مقابلے میں کم تر ثابت ہوئی ہے جس کی وجہ چین سے حاصل کی گئی ٹیکنالوجی ہے اور جس کا عملی مظاہرہ حالیہ فضائی جھڑپوں میں دیکھنے کو ملا۔ عسکری تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان جھڑپوں نے جہاں پاکستان کی برتری ثابت کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن کو بدل دیاہے، وہاں اس نے چین کو عالمی سطح پر فضائی جنگی طاقت کے نئے پہلوان کے طور پر بھی متعارف کروایا ہے۔ اور چین کے لیے نئی فضائی اسلحہ کی سفارتکاری کا راستہ بھی کھول دیا ہے۔ جس سے عالمی سطح پر چین کے اثرورسوخ کو وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ چینی اسلحہ کی مانگ بڑھنے کے قوی امکانات ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اُبھر رہا ہے کہ ہندوستان کی انٹیلیجنس پاکستان کے پاس اسلحہ کا صحیح اندازہ لگانے میں کیوں ناکام رہی۔