کس قوم کو للکارا
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- بدھ 14 / مئ / 2025
ماشااللہ پاکستان کی افواج اور فضائیہ کی گھنٹوں کی تیز کاروائی نے بھارت کو گھٹنوں پر گرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے بھارت کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں اور اسے امریکہ بہادر کے کہنے پر سیز فائر کرنا پڑا ہے۔
اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مسائل ڈائیلاگ اور مذاکرات کی میز پر ہی ہوتے ہیں۔ بھارت ایک مکار اور بزدل دشمن ہے۔ رات کے ا ندھیرے میں چھپ کر وار کرتا ہے۔ سفید جھنڈے لہرا کر امن وامان کو تاراج کرتا ہے۔ اس سے کچھ بھی بعید نہیں ہو سکتا۔ بھارت کے جنگی جنون کو جذبہ جنوں سے ہی کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی فوج نے نہ صرف اپنی پیشہ وارانہ قابلیت کو ثابت کیا ہے بلکہ اپنی فضائی برتری کو بھی ثابت کر دیا ہے۔ پاکستانی عوام نے بھی اپنی ریاست اور فوج سے دلی وابستگی اور ہم آ ہنگی کا برملا ثبوت دیا ہے۔
بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں درگت بنتے دیکھ کر امریکہ بھی ثالثی پر مجبور ہوگیا ہے۔ جب کے اس سے قبل کشمیر کے حوالے سے اس کے مضحکہ خیز بیانات بھی سامنے آ ئے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے خطے میں تھانیداری رویہ رکھنے والے بھارت کا سارا دفاعی نظام زمین بوس ہوتا نظر آ یا ہے۔ آدم پور پٹھان کوٹ اور اودھم پور میں پاکستانی پائلٹوں نے جو اودھم مچایا ہے، اس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ اب دنیا پر پاکستان نے ایک نیا بیانیہ جاری کیا ہے اور نقشے پر ایک مضبوط ملک کی طرح نظر آ یا ہے۔ خطے میں بھارت کو گویا چاروں شانے چت کرکے اس کی اصلیت کا چہرہ ساری دنیا پر واضح کر دیا ہے۔
پاکستانی ڈرون دہلی پر گھنٹوں پرواز کرتے رہے ہیں اور بھارت کے تباہ ہوتے نظر آ تے رہے ہیں۔ اربوں کے بھارتی میزائل سسٹم تباہ کئے گئے ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑا ہے بلکہ پوری دنیا میں اپنا مکمل اور واضح مقدمہ پیش کر کے بھارت کی اصلیت بھی ظاہر کر دی۔
لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور بھارت کے حوالے سے اس مقولے کو پاکستان اور اس کی افواج نے سچ کر دکھایا ہے۔ تحمل، برداشت اور برد باری کی اعلی مثال پیش کرتے ہوئے صحیح وقت پر بھارت کو دندان شکن جواب دیا ہے جس پر پوری قوم خوش ہے۔
اگرچہ اب دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کا فیصلہ ہو چکا ہے مگر پاکستانی عوام کا کہنا ہے کہ ابھی تو انہیں مزہ آ نا شروع ہوا تھا، اتنی جلد جنگ ختم بھی ہو گئی۔ اب جبکہ 12 مئی سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا تو پاکستان کو اپنے دو اہم مطالبات ایجنڈے پر رکھنے ہوں گے: ایک کشمیر کے دیرینہ مسئلے کا فوری اور قابل قبول حل اور دوسرے بھارت کی آ بی جا رحیت کے آ گے بند باندھنا۔
بھارت نے مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر میں بربریت اور درندگی کی جو انتہا کی ہوئی ہے اسے روکنا بھی بہت ضروری ہے۔ اب جبکہ بھارتی بالا دستی کا خاتمہ کیا گیا ہے اور معاملات مذاکرات کی میز پر چلے گئے ہیں ہمیں بحثیت قوم بھی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا ہوگا۔ ریاست اور اس کے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کے فروغ کے لئے سبھی سٹیک ہولڈر کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان کی افواج نے ثابت کیا ہے کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ حالیہ بنیان مرصوص آپریشن نے جہاں بھارتی جنگی جنون اور ہتھیاروں کی بالا دستی کو ختم کیا ہے، وہاں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاک فوج کا دفاعی نظام ناقابل تسخیر ہے۔ اور یہ ایک آہنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے اور اس کے بجٹ کا بھی صحیح استعمال ہو رہا ہے۔ فوج کے بجٹ کو متنازعہ بنانے والے اور اس پر بلا وجہ تنقید کرنے والوں کی آ نکھیں اور کان اب کھل جانے چائیں۔
یہ ہماری مسلح افواج ہی ہیں جن کے پاس دنیا کی سب سے بہترین فوج ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ ہماری افواج ہی ہیں جو سرحدوں کی حفاظت میں قمیتی جانوں کا نذرانہ دے کر عوام کو چین اور سکھ کی نیند فراہم کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کی فوج کے بجٹ پر کسی کی نظریں نہیں ہونی چائیں۔ اللہ پاکستان کی افواج کو ہمیشہ نظر بد سے بچائے۔ آمین۔
اب ہماری حکومت اپوزیشن اور سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ ریاست کے سارے ستونوں کو مضبوط ہونے دیں۔ عوام کے حقوقِ اور ان کو سہولیات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں لہذا سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کو اولیت اور اہمیت دی جائے۔ ریاست کے تمام اداروں اور عوام کے درمیان خیر سگالی اور بھائی چارے کی فضا کا قائم ہونا بھی ضروری ہے۔ عوامی مسائل کے خاتمے، صوبوں کی محرومیوں اور امن وامان کے قیام کے ساتھ معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرنے اور تحمل برداشت اور بردباری کی روایات کو پروان چڑھانے کی موجودہ دور میں اشد ضرورت ہے۔
امریکہ بہادر نے جس طرح پاک بھارت جنگ میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے، اب معاملات کو حل کرانے میں بھی سنجیدہ ہونا چاہیے اور عالمی خطے میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آ واز اٹھانے اور فلسطین اسرائیل جنگ کے خاتمے اور تصفیے کے لئے بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔