بھارتی جارحیت کے بعد قومی سیاسی مکالمہ کی ضرورت

وزیر اعظم شہباز شریف نے  پاکستان کی طرف سے امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو کسی نئی جنگ کے خلاف متنبہ کیا ہے۔  دوسری طرف   پاکستان تحریک انصاف کی قیادت   کی طرف سے  بھی مسلح افواج کے ساتھ اظہار یک جہتی کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔ ایکس پر ایک پیغام نے عمران خان نے کہا ہے کہ ’میں نے ہمیشہ کہاہے کہ ملک بھی میرا، فوج بھی میری ہے‘۔

اپنے پیغام میں عمران خان  نے  مودی کی پاکستان سے نفرت اور بزدلانہ حملہ کا ذکر کرتے ہوئے  افواج پاکستان  اور عوام کو خراج تحسین پیش کیا ۔  تحریک انصاف کے بانی  نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بزدلانہ حملہ کا بہادری سے جواب دینے پر افواج پاکستان اور عوام کی توصیف کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ’ملک بھی میرا، فوج بھی میری ہے‘۔ پاکستانی افواج نے زمینی اور فضائی مقابلے میں جیسے مودی کو شکست دی ہے ، بالکل اسی طرح سوشل میڈیا پر مودی کی انتہا پسندی اور آر ایس ایس کے بیانیہ کو پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ شہریوں، بچوں ، عورتوں اور معمر افراد کو نشانہ بنا کر نریندر مودی نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کیا۔  ہم   پوری طرح ان حملوں میں جام شہادت  نوش کرنے والے فوجیوں اور شہریوں کے اہل خاندان کے ساتھ ہیں۔ پاکستانی فضائیہ اور فوج نے انتہائی پروفیشنل طریقے سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مودی کی طرح ہم نے شہریوں پر حملے نہیں کیے بلکہ ہماری افواج نے بھارتی طیاروں اور عسکری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس پیغام میں عمران خان نے  واضح  کیا کہ نریندر مودی پاکستان  سے  شدید نفرت  کرتا ہے۔

اس سے پہلے کوٹ لکھپت جیل میں قید تحریک انصاف کے نائب چئیرمین شاہ محمود قریشی نے   ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں بھارت کے ساتھ سیز فائر کے ساتھ ملک کے اندر بھی جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم اس بیان میں شاہ محمود قریشی نے پاک فوج کو ذبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا  کہ  پاکستان اور بھارت سیز فائر پر راضی ہوگئے ہیں۔ اور مل کر باہمی معاملات طے کرنے پر اتفاق ہؤا ہے۔ میری درخواست ہے کہ ملک کے اندر بھی ’جنگ بندی  ‘ کا اعلان کیا جائے اور  قومی مکالمہ  شروع ہو جو  قومی بقا اور داخلی امور طے کرنے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چند روز  کسی جواز اور ثبوت کے بغیر  بھارتی جارحیت کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان کے خلاف  اقدامات ناجائز اور غیر قانونی تھے۔  لیکن  پاکستان نے تدبر، تحمل اور اخلاقی جرات سے اس جارحیت کا مقابلہ کیا۔ اس دوران 9 مئی کو  پاک فوج ، ائرفورس اور بحریہ کے ترجمانوں کی پریس کانفرنس  پوری قوم کے لیے فخر کا مرحلہ تھا۔ پاکستانی افواج نے پیشہ وارانہ  مہارت، قومی وقار اور واضح مقصد سے ساری صورت حال پیش کرکے پاکستان کا یہ مؤقف پوری وضاحت سے دنیا کے سامنے رکھا کہ ہم امن پسند قوم ہیں لیکن اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی میں بھارت کے عسکری اثاثوں کو نشانہ بنایا اور شہری آبادیوں پر حملوں سے گریز کیا۔ اس نازک مرحلے میں تحریک انصاف کے حامی اور پاکستان کے شہری آہنی دیوار کی طرح ملک کا دفاع کرنے والی افواج کے ساتھ کھڑے تھے۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت پاک  بھارت جنگ ختم ہونے کے بعد قومی مکالمہ اور سیاسی مفاہمت کی بات کررہی ہے۔ متعدد تجزیہ نگار بھی یہ تجویز پیش کررہے ہیں کہ  پاکستانی قوم اور افواج نے نہات بہادری اور شجاعت سے دشمن کے حملوں کا مقابلہ کیا ہے ۔ اب جنگ بندی ہوچکی ہے ، اس لیے قومی سطح پر مفاہمت کا کام نظر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ قومی یک جہتی کے اس مرحلہ سے فائدہ اٹھا کر سیاسی اختلافات سے قطع نظر بنیادی قومی  معاملات پر بات چیت کی جائے اور پاکستان تحریک انصاف کو بھی اس مکالمہ میں شامل کیا جائے۔ اس طرح پی ٹی آئی بھی تبدیل شدہ حالات اور ہمسایہ دشمن کی جارحیت سے پیدا ہونے والے خطرہ کی صورت کا ادراک کرے  تاکہ  باقی قومی قیادت کے ساتھ مل کر  مفاہمت کا ماحول پیدا کیا جاسکے۔ اس طرح ایک طرف بھارتی جارحیت کے خلاف قوم کو متحدہ و متفق  ہوسکے گی ، دوسرے  سیاسی اتفاق رائے سے  دہشت گردی اور بلوچستان میں علیحدگی پسندی جیسے سنگین معاملات پر مل جل کر  کام ہوسکے گا۔

تاہم پاکستانی منظر نامہ میں دیکھا  جاسکتا ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے بعد  حکومت اور اس کے حامی فی الوقت  ’فتح کا جشن‘ منانے اور مسلح افواج کے ساتھ روابط بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اس  ماحول میں ملکی سیاسی حالات پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ حکومتی رویہ سے تو یوں لگتا ہے جیسے بھارت کے ساتھ مختصر جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں شاید  وزیر اعظم اور ان کے ساتھی خود کو سیاسی لحاظ سے طاقت ور اور محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔  اسی لیے سیاسی مخالفین   سے مکالمہ کا موضوع شاید شہباز شریف کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ ابھی وہ  پاک فوج کے ساتھ اپنے پہلے سے خوشگوار تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور بھارت کے ساتھ  ممکنہ تصادم کی صورت حال میں نیا سیاسی  وعسکری بیانیہ مرتب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آج پسرور چھاؤنی کے دورے کے دوران افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے  اسی رویہ کا مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ  کہ پاک فوج نے بھارت سے 1971 کا بدلہ لے لیا ہے۔  تاریخ ہمیشہ اس بات کو یاد رکھے گی کہ کس طرح چند گھنٹوں میں پاکستان کے محافظوں نے بے مثال درستی اور عزم کے ساتھ بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ افواج پاکستان کو دشمن کے خلاف عظیم کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ پاکستان امن کا داعی ہے، امن چاہتا ہے مگر ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو اس کا خوفناک جواب دیاجائے گا۔

پاکستان پر بھارت کے بلا اشتعال حملہ کے بعد قومی یک جہتی کا ایک نیا چہرہ دیکھنے میں آرہا ہے۔  عوام کی اکثریت نے سیاسی وابستگی سے قطع نظر  قومی یک جہتی کامظاہرہ کیا اور بھارت کے خلاف برسر پیکار مسلح افواج  کا پوری  طرح ساتھ دیا۔  یہ مظاہرہ ملک بھر کے گلی کوچوں میں بھی دیکھا گیا  اور سوشل میڈیا پر بھی مسلح افواج کے ساتھ جوش و خروش سے شانہ بشانہ مل کر چلنے  کا عزم دہرایا گیا۔ یہ درست ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی اس وقت  مسلح افواج کی گراں قدر خدمات کی توصیف کررہے ہیں  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تصادم کے   چار دنوں کے دوران تحریک انصاف ، سیاسی قوت کے طور پر پوری پاکستانی قوم کے  جذبات کا ساتھ دینے میں ناکام رہی۔ ملک کے اندر اور باہر   تحریک انصاف کے ایسے ہوشمند لیڈر موجود تھے جنہوں نے  بھارتی جارحیت کی صورت حال میں قومی یک جہتی کو اہم  کہااور کسی سیاسی اختلاف کی نشاندہی  سے گریز کیا لیکن  یہ بات تحریک انصاف کی تمام قیادت اور خاص طور سے  پاکستان میں پارٹی کے معاملات کی ذمہ دار  قیادت کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی۔ امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی کے متعدد  حامی  لیڈر اور یوٹیوبر پاکستان دشمن بیانیہ ترتیب دینے میں مصروف رہے اور بھارتی ٹی وی چینلوں  کے پروگراموں میں شامل ہوکر  عمران خان کو ہی ایسا لیڈر ثابت کرنے پر مصر رہے جو کسی مشکل میں قوم کی قیادت کرسکتا ہے۔

پہلگام سانحہ کے بعد  بھارت کی طرف سے کسی ثبوت کے بغیر   قومی سطح پر اس حملہ کی ذمہ داری براہ راست پاکستان پر عائد  کی گئی تھی۔   اس موقع پر پاکستان میں بھی  ایک ایسے قومی بیانیہ کہ ضرورت تھی کہ ہم بطور قوم بھارتی حکومت کے اس بے بنیاد الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے  ان دنوں میں تحریک انصاف خلوص دل سے قومی  یک جہتی کے منصوبہ کا حصہ نہیں تھی۔ اس کے متعدد لیڈروں کو یہی قیاس رہا کہ وہ اپنی سیاسی مقبولیت کی وجہ سے حکومت اور فوج کی کمزوری ہیں۔ اس لیے بھارتی جارحیت کی صورت میں فوجی قیادت خود  تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کا راستہ نکالے گی۔ یہ صورت حال کسی حد تک بھارتی حملوں اور اس کے بعد پاکستان کی کامیاب جنگی کارروائی کے بعد بھی جاری رہی۔ حتی کہ   پی ٹی آئی کے بعض لیڈروں اور سوشل میڈیا  پر متحرک عناصر نے  یہ مؤقف  ترتیب دینے کی کوشش بھی کی کہ کامیابی  تو فضائیہ نے حاصل کی ہے۔ فوج کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس مؤقف کے مطابق فضائیہ چونکہ ملکی سیاست میں حصہ نہیں  لیتی ، اس لیے  اس نے  بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ یہ باور کرنے میں پوری طرح ناکام رہے کہ  جنگ کی صورت میں تینوں افواج علیحدہ علیحدہ یونٹ کی بجائے، اکائی کے طور پر کام کرتی ہیں ۔  ان کے باہم اشتراک سے ہی کوئی عسکری کارروائی کامیاب ہوپاتی ہے۔

اب عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے بیانات میں مسلح افوج سے اظہار یک جہتی کے ذریعے درحقیقت اسی غلط  پالیسی کی تلافی کی کوشش کی جارہی ہے۔  تاہم ان بیانات سے ان مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوگا جو قومی بحران کے دوران تحریک انصاف کی غیر واضح اور کسی حد تک قومی مقصد کے خلاف  اختیار کی گئی حکمت عملی کی وجہ سے دو چند ہوچکی ہیں۔  حالانکہ  پی ٹی آئی  قومی یک جہتی میں حصہ ڈال کر خود اپنی  حب الوطنی اور سیاسی اہمیت   منوا سکتی تھی۔  بھارتی جارحیت کے بعد فوج کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہؤا ہے اور  اس کے سیاسی کردار پر اٹھنے والے سوالات فی الوقت فراموش کردیے گئے ہیں۔   شہباز شریف کی  حکومت یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ ملکی حکومت اور فوج کے درمیان مکمل اشتراک عمل کی وجہ سے بھارتی جارحیت کا مناسب جواب دیا  جاسکا ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ ان حالات میں حکومت کس حد تک تحریک انصاف کے ساتھ  بات چیت کرنے اور اسے دوبارہ قومی سیاست میں اہمیت دینے پر آمادہ ہوگی۔ اگرچہ  یہی موقع  ہے کہ حکومت خود کو ’مضبوط‘ سمجھنے کی بجائے تحریک انصاف اور دیگر ناراض سیاسی  جماعتوں کی طرف دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھائے۔

 البتہ اس موقع پر تحریک انصاف کو ایک تو  اپنے ان ساتھیوں کا سخت احتساب کرنا چاہئے جو بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران بھی پاکستان دشمن بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ دوسرے  پی ٹی آئی کو اپنے اس مؤقف  کو تبدیل کرنا چاہئے کہ   حکومت میں شامل پارٹیوں سے بات چیت نہیں ہوسکتی کیوں کہ  وہ ’چور لٹیرے‘ ہیں اور ان کی حکومت جعلی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔ تحریک انصاف اگر یہ دو اقدام کرسکے تو واقعی ملک میں سیاسی مکالمہ کا ایک نیا اور حوصلہ  افزا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔