چار روزہ جنگ کے بعد مودی کی مایوسی

نریندر مودی نے پیر کے روز اپنی قوم سے خطاب کیا۔ اس کے عین ایک روز بعد بھارتی پنجاب کے قلب میں واقع آدم پور ایئربیس پہنچ گئے۔ وہاں موجود فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے کسی ’’پیپر میں کم نمبر‘‘ آنے کو معمول کی بات ٹھہرایا۔ بعدازاں ایک ٹویٹ بھی لکھا جس میں اس امر پر زور دیا کہ اصل توجہ حتمی نتائج پر مبذول رکھنا چاہیے۔ ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘ قسم کا پیغام دہراتے دکھائی دئے۔

اتفاقاََ جس روز مودی آدم پور گیا اس روز بھارت میں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے داخلے کا میرٹ طے کرتے انتخابات کے نتائج بھی آئے تھے۔ میں نے ٹی وی سکرین پر مودی کی آدم پور میں ہوئی تقریر کا ’’کم نمبر‘‘ آنے کے حوالے سے تجزیہ کیا تو کئی مہربانوں نے مجھے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی کہ بھارت کا وزیر اعظم اپنی ایئرفورس کا دل بڑھانے کے لئے امتحانات میں ’’کم نمبر‘‘ آنے کا ذکر نہیں کر رہا تھا۔ اس کے ٹویٹ کے مخاطب کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ تھے۔ میری بدقسمتی کہ میں نے مودی کا آدم پور میں خطاب ایک دوست کی مدد سے موبائل پر نہایت توجہ سے لفظ بہ لفظ سنا تھا۔ وہاں ہوئی تقریر کا آغاز بھی توقع سے کم نتائج آنے کے ذکر سے ہوا تھا۔

ان سوالات کا جواب کہ کس موقعہ پر کیا الفاظ ادا ہوئے ڈھونڈنے میں الجھ گئے تو اصل موضوع نظرانداز ہو جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ منگل کے روز قوم سے خطاب کے عین ایک دن بعد مودی نے آدم پور ایئربیس جانے کی ضرورت محسوس کیوں کی۔ آدم پور، جالندھر اور ہوشیارپور کے درمیان واقع ہے۔ بھارتی پنجاب ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے فضائی دفاع کے لئے ہلواڑہ، پٹھان کوٹ اور آدم پور کے ہوائی اڈوں پر مشتمل بھارتی فضائیہ نے مثلث کی صورت ایک نظام قائم کر رکھا ہے۔ آدم پور اس تکون کا سر ہے۔ اسی باعث وہاں روس سے خریدی وہ بیٹریاں نصب ہیں جو مخالف سمت سے آئے جہازوں کو ’’اندھا‘‘ بنا دیتی ہیں۔ ہماری فضائیہ نے مگر آدم پور کو 6 اور 7مئی کی درمیانی رات ہوئے بھارتی حملوں کا جواب دینے کے لئے مسلسل اپنی زد میں رکھا۔ وہاں موجود کم از کم ایک متحرک بیٹری ناکارہ بنا دینے کی اطلاعات بھی آئیں۔ قوم سے خطاب کے عین ایک روز بعد نریندرمودی نے درحقیقت اس دعویٰ کو اثبات فراہم کیا کہ آدم پور کا دفاع اتنا مضبوط ثابت نہیں ہوا جتنا فرض کیا گیا تھا۔

بدھ کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ جب یہ کالم چھپے اس وقت تک نریندر مودی بھارتی افواج کے کسی اور مرکز کا دورہ کر چکے ہوں۔ روزانہ کی بنیاد پر اپنی قوم اور افواج سے مودی کا خطاب واضح انداز میں عندیہ دے رہا ہے کہ بھارتی عوام کی اکثریت 56 انچ چھاتی کے دعوے دار مودی کی جانب سے محض 4 دن کی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی پر آمادگی سے خوش نہیں۔ ’’تو کمزور تھا تو لڑی کیوں تھا؟‘‘ جیسے سوال اٹھا رہی ہے۔ یہ بات لکھنے کے بعد یہ اضافہ کرنے کو بھی مجبور ہوں کہ ذاتی طورپر مجھے دو ایٹمی ملکوں کے مابین ایک گھنٹے کی جنگی جھڑپ سے بھی خوف آتا ہے۔ میں لیکن ریاستی فیصلہ سازنہیں محض ایک رپورٹر ہوں۔

قوم سے خطاب کے دوران نریندر مودی کا چہرہ اور لہجہ مجھے جواہر لال نہرو کی یاد دلاتا رہا۔ نہرو بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ انگریزوں سے آزادی کے حصول کے لئے چلائی تحریک کے دوران الٰہ آباد کے یہ کشمیری پنڈت کرشماتی شخصیت کے طورپر ابھرے۔ کئی مسلمان نوجوان اور سیاسی رہ نما بھی انہیں ہندو انتہا پسند قرار دینے کے بجائے نہایت سنجیدگی سے ایک ’’کٹر سیکولر‘‘ شمار کرتے تھے۔ اس ’’کٹر سیکولر‘‘ ہی نے مگر کشمیری پنڈت ہونے کی وجہ سے ریاست کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کی ٹھان لی۔ ان دنوں شیخ عبداللہ وادی کشمیر کے کرشماتی اور انتہائی مقبول سیاسی رہ نما تھے۔ موصوف بھی ’’سیکولرازم‘‘ کے پرچارک تھے۔ اس نظریہ کو جواز بناتے ہوئے شیخ صاحب نے نہرو کا ساتھ  دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیر کو ’’اٹوٹ انگ‘‘بناتے ہی نہرو نے شیخ عبداللہ کی ’’خود مختارانہ‘‘ سوچ سے گھبرا کر انہیں محلاتی سازشوں سے وزارت اعلیٰ کے منصب سے فارغ کروایا اور کشمیر سے بہت دور جیلوں یا سیف ہائوسز میں نظربند کر دیا۔

’’سیکولر‘‘ ہونے کے علاوہ پنڈت نہرو امریکہ اور سوویت یونین کے مابین چھڑی جنگ کے دوران ’’غیر جانبدار‘‘ ہونے کے دعوے دار بھی تھے۔ چین سے ان کی قربت کی تاریخ تھی جس کی بنا پر 1947 سے 1960 کی دہائی کے آغاز تک بھارت میں چینی وفود کی آمد کے موقع پر ’’ہندی چینی – بھائی بھائی‘‘ کے نعرے لگا کرتے تھے۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی لکیر مگر برطانوی سامراج نے طے کی تھی۔ سامراج دشمن ماؤزے تنگ اس لکیر کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ماؤزے تنگ کوتبت کی خود مختاری بھی قبول نہ تھی جو بدھ مت کا کٹر پیروکار اور دلائی لاما کا مرید تھا۔

چینی قیادت کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور غیر جانبداری کے دعویٰ کے باوجود پنڈت نہرو بھارت اور چین کے مابین مذاکرات کے ذریعے ماؤزے تنگ کے لئے قابل قبول سرحد طے کرنے میں ناکام رہے۔ تبت کو’’گوریلا جنگ‘‘ کے ذریعے چین سے الگ کرنے کے منصوبے بھی بنائے۔ تبت کے حوالے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی بھنک پاتے ہی چین نے لداخ اور ہماچل پردیش کی پہاڑیوں میں تعینات بھارتی افواج کو فرار ہونے کو مجبور کر دیا۔ چین کے ہاتھوں بھارت کی شکست نے نہرو کو دل برداشتہ کردیا۔ اپنی جند چھڑانے کے لئے اپنے وزیر دفاع کرشنا مینن کو فارغ کر دیا۔ مینن امریکہ اور برطانیہ کے قریب تصور ہوتا تھا۔ نہرو کی کرشماتی شخصیت مگر چین سے شکست کھانے کے بعد مرجھاگئی۔ ماؤزے تنگ کا چین ان دنوں ماسکو سے کمیونسٹ ہونے کے باوجود فاصلہ رکھتے ہوئے اپنی ثقافتی شناخت اجاگر کرنا چاہ رہا تھا۔ روس کی جانب سے بھارت کی چین کے خلاف حمایت بھی مگر پنڈت نہرو کے کام نہ آئی۔

وہ غیر جانبداری کے دعویٰ کے باوجود امریکہ سے دوستی بڑھانے کو مجبور ہوا۔ وہاں کنیڈی صدر منتخب ہو چکا تھا جو اپنے تئیں ایک کرشماتی شخصیت تھا۔ اداسی اور تنہائی کے ان ہی دنوں میں پنڈت نہرو نے پاکستان کے ساتھ دائمی امن کے قیام کے لئے مذاکرات کا آغاز کرنے کی کوشش کی اور شیخ عبداللہ کو جیل سے رہا کرکے مذاکرات کی راہ نکالنے کے لئے پاکستان بھجوا دیا۔ نہرو کی بدقسمتی کہ شیخ عبداللہ کے پاکستان میں قیام کے دوران ہی پنڈت نہرو کا دیہانت ہو گیا۔

میری دانست میں نریندر مودی چار روزہ پاک- بھارت جنگ کے بعد ٹرمپ کے رویے کی وجہ سے اسی طرح دل برداشتہ محسوس کر رہے ہیں جیسے پنڈت نہرو 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے بعد محسوس کر رہے تھے۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)