طاقت کا توازن بدل گیا، بھارت پاکستان کو کم تر نہ سمجھے

(یہ پاک بھارت تنازعہ پر ناروے کے اخبار روزنامہ آفتن پوستن میں 15 مئی کو شائع  ہونے والے مضمون کا اردو ترجمہ ہے)

گزشتہ ہفتے امریکہ نے  شاید ایٹمی ہتھیاروں سے لیس انڈیا اور پاکستان کے درمیان سنگئن تصادم کو روکا ہے۔ انڈیا اور پاکستان اپنی خود مختاری کے 77 سالوں میں چار بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی لڑائی بے قابو ہوسکتی تھی۔ دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور وہ کہتے رہے ہیں کہ اگر انہیں خطرہ محسوس ہؤا تو انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایٹم بم کی دھمکی

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے متعدد سیاست دانوں اور مبصرین نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بات کی۔ پاکستان کے ایک ممتاز ایڈیٹر نے بھارتی صحافی کرن تھاپڑ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا تھا اگر پاکستان کو خطرہ لاحق ہؤا تو وہ بھارت کو بھی ساتھ لے بیٹھے گا۔  اس گفتگو میں اس بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان آخری تصادم 22 اپریل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں واقع پہلگام میں  دہشت گردوں کے ہاتھوں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد شروع  ہؤا۔ بھارتی حکام نے فوری طور سے پاکستان پر اس دہشت گرد حملہ کا الزام عائد کیا۔ لیکن پاکستان نے اس سے انکار کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی تاکہ اس دہشت گردی کے ذمہ داروں کو پکڑا جاسکے مگر پاکستان نے واضح کیا کہ یہ تحقیقات غیر جانبدارانہ ہونی چاہئے۔ بھارتی لیڈروں نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے گریزکیا۔ یہ حقیقت جزوی طور سے اس صورت حال کو زیادہ سنگین بناتی تھی کہ ماضی میں پاکستان کے انتہا پسند گروہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔

پاکستان کو شمالی علاقوں میں دہشت گردی کا سامنا ہھے جبکہ بلوچستان میں مسلح گروہ علیحگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں بھارت میں یہ سمجھا گیا کہ پہلگام حملے میں پاکستان ملوث ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے کوئی ثبوت مہیا نہیں تھے۔ 22 اپریل کے سانحہ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بھارتی لیڈروں کے دو واضح اہداف تھے۔ پہلا ملک میں سیاسی حمایت حاصل کرنا۔ مودی کی انتہاپسند پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس سال کے آخر میں ریاست بہار میں ایک اہم انتخاب کا سامنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی لیڈر اپنی طاقت منوانا چاہتے تھے۔ اس ہدف میں یہ خواہش بھی شامل تھی کہ مستقبل میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر قبضہ کرلیا جائے۔

بھارت بہت عرصے سے اس ریجن میں سپر پاور بننا چاہتا ہے۔ امریکی حمایت کے علاوہ پاکساتن سے سات گنا دفاعی بجٹ کے ساتھ بھارت کو خود پر حد سے زیادہ اعتماد تھا۔  جدید فرانسیسی فائیٹر جیٹ کی بھارتی فضائیہ میں شمیولیت نے اس اعتماد میں اضافہ کیا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے۔

آبی معاہدہ معطل

پاکستان پہلے ہی مشکل صورت حال سے دوچار تھا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جو سخت اقدامات کیے تھے، ان میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام سب سے سنگین تھا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے بہنے والے تین دریاؤں کا پانی پاکستان کو ملتا ہے۔ 1960 میں ہونے والا یہ معاہدہ پاکستان کی آبی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ پاکستان میں سنگین سیاسی بحران موجود تھا۔ اور مالی لحاظ سے ملک دیگر ذرائع کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مدد لینے پرمجبور تھا۔ بھارت نے پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے یہی سوچا کہ پاکستان کمزور ہے، معاشی لحاظ سے محتاج اور سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہے۔

تاہم بعد میں واضح ہؤا کہ 7 مئی کو مریدکے اور بہاولپور سمیت متعدد مقامات پر حملے کرتے ہوئے  بھارت نے اندازے کی غلطی کی۔ ان میزائل حملوں میں 31 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوئے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت نے پاکستان میں شہری ٹھکانوں پر حملہ کیا اور مساجد کو شہید کیا۔ پاکستان نے اس جارحیت کا جواب دینے کا عہد کیا۔ اس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تین دن بعد پاکستان نے بھارت کے  26 عسکری ٹھکانوں پر حملے کیے۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان تصادم میں شدید اضافہ کی صورت حال تھی۔ پوری دنیا اس کے نتائج کے بارے میں خوفزدہ تھی۔

پاکستانی حملہ کے چند گھنٹے بعد دونوں ملکوں نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔ امریکہ نے اس معاہدہ میں ثالث کا کردار ادا کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خبر کی سب سے پہلے اطلاع دی۔ اس کے بعد ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کشمیر کے معاملہ  پر دونوں ملکوں میں بات چیت کرانے کی پیش کش بھی کی۔ پاکستان نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا لیکن بھارت کی طرف سے سناٹا چھایا رہا۔

بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔  جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کی 1948 کی قرار داد کے مطابق کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہئے۔

طاقت کا توازن بدل گیا

مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان اس شدید تصادم کو کیسے دیکھا جائے گا؟ ہم کچھ نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ بھارت اس ریجن کی سپر پاور نہیں ہے۔ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان کے ساتھ ’بدمعاشی‘ نہیں کرسکتا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کو ایٹمی ہتھیار کے بغیر اپنے تنازعات حل کرنے چاہئیں اور پوری دنیا کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ تیسرا اہم نکتہ علاقے میں چین کے کردار کے بارے میں ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ اس تنازعہ میں چین کی عسکری ٹیکنالوجی بالاتر ثابت ہوئی۔

ان چند دنوں میں برصغیر میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا۔ بھارت یا کوئی دوسرا ملک اب پاکستان کو کم تر نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے علاوہ چین نے  عسکری ٹیکنالوجی میں اپنی برتری ثابت کی  ہے۔  اس طرح اس نے اپنی قوت میں مزید اضافہ کرلیا ہے۔

نوٹ: آفتن پوستن میں شائع ہونے والے اصل مضمون کا  لنک درج زیل ہے:

Maktbalansen har endret seg. India bør ikke undervurdere Pakistan. - Aftenposten