17 مئی، ناروے کا یوم آئین اورآزادی و خود مختاری کی علامت
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعہ 16 / مئ / 2025
17مئی ناروے کا یوم آئین ہے۔ انتہائی شان و شوکت اور قومی جذبے کے ساتھ منائے جانے والے قومی دن کا نظارہ ہم ہر سال کرتےہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ناروے والوں نے ایک طویل عرصہ غلام رہنے کے بعد قومی خود مختاری کا عزم کرتے ہوئے 1814 کو نارویجن آزادی کا اعلان کیا تھا۔
ناروے کی سلطنت کو 1536 میں ڈنمارک نے اپنے اندر ضم کر لیا تھا۔ 1814 میں جب نپولین کی افواج کو حتمی شکست ہوئی تو نپولین کا اتحادی ڈنمارک بھی شکست خوردہ ملک ٹھہرا۔ جب کے نپولین مخالف اتحاد میں شامل سویڈن فاتح ملک قرار پایا۔ سویڈن کے بادشاہ کارل یوہان نے نپولین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے عوض مطالبہ کیا کہ ناروے کی سلطنت بطور انعام ڈنمارک سے لے کر اُسے دی جائے۔ کیل Kiel کے مقام پر جنوری 1814 میں طے پائے جانے والے امن معاہدہ کے تحت ناروے کو باضابطہ طور پر سویڈن کے حوالے کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس طرح ناروے سویڈن کو سونپ دیا گیا۔ یورپ کی بڑے اور نپولین کو شکست دینے والے ممالک یہ فیصلہ کر رہے تھے تو اس وقت ناروے کی قومی حمیت نے کروٹ لی اور نارویجن عمائدین نے آئیدسول کے مقام پر ایک ملک گیر اجلاس طلب کیا جس میں ہر مکتب فکر کی نمائندگی موجود تھی۔ نارویجن قوم کے ان نمائندوں نے اس اجلاس میں کیل معاہدہ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے فاتح اتحاد کے فیصلے کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ ایک قوم ہیں اور کوئی مال مویشی نہیں کہ جن کو ہانک کرکسی کے حوالے کر دیا جائے۔ لہذا انہوں نے ناروے کو ایک خودمختار ریاست بنانے کا عہد کیا۔ ان عمائدین نے آزادی کا اعلان کرنے سے پہلے ایک آئین مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُنہوں نے اپنی قومی ریاست کے قیام کی بنیاد ایک آئین پر رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے آئین سازی کے عمل کا آغاز کیا۔ 16اپریل 1814کو آئیدسؤل کے مقام پر 112 نمائندگان پر مشتمل ناروے کی قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔
16 اپریل کو شروع ہونے والے اجلاس کے اراکین نے شب و روز محنت کر کے 16مئی 1814 کو ناروے کا آئین تشکیل دے لیا۔ اور ناروے میں ڈنمارک کے وائسرائے شہزادہ کرسچیائن کو 17 مئی 1814 کو اپنا بادشاہ چن کر ناروے کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ ناروے کی طرف سے آزادی کے اس اعلان کو یورپ کے کسی ملک کی طرف سے حمایت نہ ملی۔ سویڈن کے بادشاہ نے کیل معاہدے پر عمل درآمد کروانےکے لیے ناروے پر فوج کشی کر دی۔ سویڈن والے ناروے کے اعلان آزادی کو ڈنمارک کی سازش تصور کرتے تھے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ڈنمارک نے ناروے کی آزادی کے نام پر اپنے شہزادے کو ناروے کا بادشاہ بنوا کر تین صدیوں سے چلے آتے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے چال چلی ہے۔ سویڈن کی طرف سے فوج کشی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مختصر جنگ ہوئی۔ سویڈش بادشاہ کارل یوہان Karl Johan بزور شمشیر ناروے پر قبضہ سے اجتناب چاہتا تھا کیونکہ وہ ایسے ملک پر حکمرانی چاہتا تھا جہاں عوام میں جنگ کے زخم نفرت کا موجب نہ بنیں۔
جنگ بندی کے بعد ناروے کے شہر موس میں امن مذاکرات کا آغاز ہوا اور 14 اگست 1814 کو دونوں ممالک کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا، جس کے مطابق سویڈن نے ناروے کی بطورایک مملکت حثیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ مان لیا کہ ناروے کا اپنا آئین ہو گا اور اس کی اپنی پارلیمنٹ بھی ہو گی۔ موس معاہدہ کی روشنی میں ناروے کی پارلیمنٹ نے 16 اکتوبر1814 کو اجلاس منعقد کرکے نئے ترمیم شدہ آئین کو منظور کرتے ہوئے 17 مئی کو منتخب ہونے والے بادشاہ کو علیحدہ کر دیا اور ناروے اور سویڈن کے درمیان قائم کی جانے والی یونین کی توثیق کی۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کےدو اہم نکات کو ناروے والے اپنی فتح تصور کرتےہیں۔ اول یہ کہ ناروے اور سویڈن کی یونین Kiel معاہدے سے آزاد ہوگی اور نارویجن پارلیمنٹ اپنے آئین کے تحت خود مختار ہوگی اور سویڈن آئینی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ نارویجن پارلیمنٹ نے آئین کو قابل عمل بنانے کے لیے مختلف ترامیم کے ساتھ باضابطہ طور پر 4 نومبر 1814 کو منظور کرنے کے بعد سویڈن کے بادشاہ کارل یوہان کو اپنا بادشاہ چُنا۔ اس طرح ناروے سویڈن کے زیر تسلط ہو جانے کے باوجود اپنے آپ کو مملکت منوانے میں کامیاب ہوا۔ یوں 17 مئی ناروے کا قومی دن بنا کیونکہ نارویجن آزادی کی بنیاد اسی دن رکھی گئی اور آئین بنایا گیا تھا۔
ناروے کا قومی دن منانے کے لیے مختلف اوقات پر کوشش کی جاتی رہی لیکن بادشاہ کارل یوہان اس کو منانے کے خلاف تھا۔ کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ ناروے اس کی آڑ میں علیحدگی کی ڈگر پر چل پڑے گا۔ طویل عرصہ تک ہر سال نارویجن عوام کی طرف سے 17 مئی کو منانے کی کوشش پر حکومت اور عوام میں تصادم ہوتا رہا۔ موجودہ انداز میں نارویجن قومی دن کو منانے کی ابتدا کا سہرا ناروے کے شاعر اور قومی ترانے کے خالق بیورن ستیرنے بیورنشن کے سر جاتا ہے، جس نے 1870 میں ناروے کے دارالحکومت جس کا اس وقت نام کرسچیانیا تھا، میں 1200 سکول کے بچوں کے ساتھ قومی آزادی کی ریلی نکالی۔ یہ ریلی اب ایک روایت بن گئی ہے، جسے ہر سال پورے قومی جذبے اور ولولہ کے ساتھ بڑی شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
1905 میں سویڈن سے مکمل آزادی کے بعد اس قومی دن اسکول کے بچوں پر مشتمل آزادی ریلیاں ملک کے طول وعرض میں نکالی جاتی ہیں۔ 1906 کے بعد ہر 17 مئی پر نارویجن شاہی خاندان کئی گھنٹے محل کی بلکونی میں کھڑے ہو کر بچوں کی ریلی سے سلامی لیتا ہے۔