محمد بن سلمان: عظیم کرشماتی شخصیت
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 16 / مئ / 2025
سعودی عرب 1932 میں اپنے قیام سے لے کر آج تک ہمیشہ امریکنوں کی آنکھوں کا تارا رہا ہے۔ اس دوستی میں نشیب و فراز ضرور آئے مگر گرمجوش تعلقات میں بریک یا انقطاع کبھی نہیں ہوا۔ تمام امریکی صدور خواہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ ان کے بیرونی دوروں میں سعودی عرب بالعموم ترجیح رہا ۔
موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح اپنی پہلی ٹرم میں اپنے غیرملکی دورے کا آغاز سعودی عرب سے کیا تھا، اسی طرح اپنی موجودہ ٹرم میں بھی بیرونی دوروں کا آغاز سعودی کنگڈم سے کیا گیا ہے۔ یہ دورے محض نشستند گفتند تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان میں علاقائی و دوطرفہ ایشوز پر اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جیسے کہ ٹرمپ کے حالیہ دورے میں محض اقتصادی و دفاعی معاہدے نہیں ہوئے بلکہ نئی شامی انقلابی حکومت کے جائز ہونے کا مخمصہ یا مسئلہ حل کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کردی گئی ہے، جو سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
شام میں شیعہ سنی خلفشار بلکہ محاذ آرائی و جنگ و جدل کی ایک طویل تاریخ ہے جو شاید امام کوفہ اور امیر شام سے بھی پہلے ہاشمیوں اور امویوں کی لڑائی کے ابتدائی ادوار سے چلی آ رہی ہے۔ یہی خلفشار آج ایرانیوں اور سعودیوں کی پراکسیوں کے ذریعے جاری و ساری ہے۔ جیسے کہ ہم سب آگاہ ہیں کہ شام کی حالیہ تاریخ میں حافظ الاسد اور مابعد ان کے فرزند بشارالاسد کی پرجوش حمایت و سرپرستی ایران کی اسلامی انقلابی شیعہ حکومتیں کرتی چلی آرہی تھیں، جسے روس کی بھی تائید و حمایت حاصل رہی حالانکہ شام کی بھاری اکثریت سنی العقیدہ ہے، سو ان کی باہمی کشیدگی کبھی ختم نہ ہوسکی۔ پچھلے دنوں جس طرح سنی انقلابیوں نے اپنے لیڈر ابو محمد الجولانی کی قیادت میں صدر بشارالاسد کی علوی حکومت کا تختہ الٹ دیا، اس کا پس منظر سب کے سامنے ہے۔ ان انقلابیوں کی پشت پناہی شاید ترک صدر اردوان سے بھی بڑھ کر سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کرتے آرہے تھے۔ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ الجولانی القاعدہ اور داعش کے پسِ منظر میں اپنا ایک مخصوص و متنازعہ جہادی تعارف رکھتے تھے، جن کے سر کی قیمت امریکا نے ایک کروڑ ڈالر رکھی ہوئی تھی۔
سعودی کراؤن پرنس کی تمنا تھی کہ جس طرح امریکا نے الجولانی کی انقلابی حکومت کو تسلیم کیا ہے، اسی طرح وہ شام پر عائد تمام سابقہ پابندیاں ختم کرتے ہوئے اس انقلابی حکومت کو وہی سٹیٹس دے جو بشمول سعودی دیگر عرب ریاستوں کو دیتا ہے۔ نئے شامی صدر الجولانی کا خاندانی پسند منظر اگرچہ جولان ہائٹس سے ہے لیکن ان کی پیدائش ریاض میں ہوئی تھی اور اب وہ اپنی سابقہ جہادی پہچان کو ختم کرتے ہوئے مغربی لباس اور ٹائی وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، اسی طرح اپنے اصلی نام محمد الشرع سے پکارا جانا پسند کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ سعودی عرب میں سعودی کراؤن پرنس ایم بی ایس نے امریکی صدر سے یہ اعلان کروایا کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ شام سے تمام پابندیاں ہٹادی ہیں۔ نئے تعلقات کا آغاز کرتے ہوئے اگلے روز محمد الشرع سے صدر ٹرمپ کی ملاقات بھی کروائی گئی۔ امریکی صدر جب سعودی امریکی سرمایہ کاری فورم میں خطاب کرتے ہوئے اس نوع کا اعلان کر رہے تھے تو سعودی کراؤن پرنس کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ سینے پر شکریے کا ہاتھ رکھتے ہوئے تالیاں بجاتے اٹھ کھڑے ہوئے اور امریکی صدر کو اس فیصلے پر بھرپور داد دی۔
دوسری طرف امریکی صدر نے سعودی کراؤن پرنس کو خطے کی عظیم کرشماتی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ محمد آپ لوگوں کی بھلائی کا اس قدر سوچتے ہیں، دن رات اتنا کام کرتے ، میں غور کرتا ہوں کہ اس قدر متفکر رہ کر آپ رات کو بھی کیسے سوتے ہوں گے۔ ایم بی ایس کی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امرکی صدر نے جہاں اپنے شاندار تاریخی استقبال پر ایم بی ایس کا شکریہ ادا کیا، وہیں اپنی ایک دلی خواہش و تمنا کا اظہار کرنا ضروری سمجھا۔ خود صدر ٹرمپ کےاپنے الفاظ میں ”سعودی عرب کا میں بہت زیادہ احترام کرتا ہوں اور میرا یہ خواب ہے کہ آپ جلد یا بدیر ابراہیمی معاہدے میں شریک ہوکر اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ یہ میری حقیقی عزت افزائی ہوگی اور مڈل ایسٹ کے مستقبل میں بہتری کے لیے یہ اہم ترین پیش رفت قرار پائے گی۔ امریکی صدر ٹرمپ اس ایشو پر اس قدر حریص تھے کہ انہوں نے سعودی کراؤن پرنس کے علاوہ شامی عبوری صدر احمد الشرع اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی یہ فرمائش کی۔
ریاض میں خلیج تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھی اس حوالے سے اصرار کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مثال دی جو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوکر خطے میں بہتر کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے یمن اور لبنان میں ایرانی پراکسیوں کے رول پر سخت تنقید کی اور کہا کہ حزب اللہ نے مشرق کا پیرس کہلانے والے شہر بیروت کی رونقیں برباد کردی ہیں۔ حوثی باغیوں نے اگر دوبارہ حملے کیے تو انہیں مزید سزا ملے گی۔ ایرانیوں کو امیر قطر کا شکرگزار ہونا چاہیے جن کی مہربانی سے ایران پر متوقع حملہ نہیں کیا گیا۔ اب اگر ایرانی قیادت نے زیتوں کی شاخ اٹھانے کی بجائے جوہری بندش کی ڈیل سے انکار کیا تو نہ صرف یہ کہ مزید پابندیاں لگیں گی بلکہ تہران کی آئل برامدآت زیرو کردیں گے۔ اور یہ ایشو جنگ تک جاسکتا ہے۔ حالانکہ میں جنگوں کو روکنا چاہتا ہوں، جس طرح انڈیا اور پاکستان جیسی دو ایٹمی قوتوں کے درمیان متوقع جنگ کو روکا ہے۔ یا رشیا اور یوکرائن کی جنگ روکنے کے لیے کوشاں ہوں۔ ہم غزہ جنگ کو بھی روکنا چاہتے ہیں غزہ کے لوگ بھی زیادہ بہتر مستقبل کے حقدار ہیں۔ مگر یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک وہاں کے رہنما معصوم لوگوں کو اغوا اور تشدد کا ہدف بناتے رہیں گے۔ ٹیررازم ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے ۔
امریکی صدر کے دورۂ سعودی عرب کے موقع پر سعودیہ اور امریکا میں 142ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ دفاعی معاہدے 600ارب ڈالر کی اس سعودی سرمایہ کاری کا حصہ ہیں جس کا اعلان سعودیوں نے کر رکھا ہے اور ایم بی ایس کے مطابق ہم اسے ایک ہزار ارب تک لے جائیں گے، جیسے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان معاہدوں میں جی ای گیس ٹربائنز کی برآمدات توانائی کے شعبے میں اربوں ڈالرز، بوئنگ طیارے، ایف 35، دفاع، معدنیات کی کانکنی، سعودیوں کو ٹیکنالوجی اور آلات کی تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ ہمارے کچھ لوگ اتنی بھاری سعودی سرمایہ کاری پر انگلیاں اٹھاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ امریکا ہی ہے جس کی بدولت سعودیوں کو سیال سونے کے بہتے کنویں نصیب ہوئے۔ امریکی ہمیشہ سعودیوں پر حفاظتی چھتری تانے کھڑے رہے۔
صدر ٹرمپ بنیادی طور پر سیاستدان کی بجائے ایک کامیاب بزنس مین کی پہچان رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بعد انہوں نے قطر اور متحدہ عرب امارات کے بھی کامیاب دورے کیے ہیں اور امریکا کے لیے بھاری سرمایہ کاری لپیٹ کر واپس لوٹے ہیں۔ کسی مصری من چلے نے کیا خوب کہا ہے کہ پچھلے چودہ سو سالوں میں مسلمانوں نے مسیحیوں سے جزیہ کے نام پر جتنی رقوم بٹوری تھیں، امریکی صدر ٹرمپ وہ سب اکٹھی وصولتے ہوۓ چلتے بنے۔ دوحا میں امریکی ایئربیس کے لیے سرمایہ کاری کرواتے ہوئے انہوں نے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا ہے کہ ہم افغانستان کی بگرام ایئربیس کا کنٹرول نہیں چھوڑیں گے۔ اسے اپنےپاس رکھیں گے۔
ہمارے کچھ روایتی طبقات نے عرب کلچر میں ابھرتی جدت پسندی پر اعتراضات اٹھائے ہیں، جیسے کہ سعودی عرب میں معزز خواتین نے کھلے مسکراتے چہروں کے ساتھ امریکی صدر سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ اور متحدہ عرب امارات میں کھلے بالوں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے نوجوان خواتین نے اپنے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا۔ درویش کی نظر میں ہماری روایتی دیسی مسلمانی کو عرب جدت اور لبرل اپروچ سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تیزی سے آگے بڑھتا پہیہ اب الٹا پیچھے کو نہیں گھمایا