غزہ پر قبضہ کا اسرائیلی منصوبہ
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 18 / مئ / 2025
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کا چار روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد واشنگٹن واپس پہنچ چکے ہیں۔ اس دورہ کے دوران تینوں عرب ممالک نے امریکہ میں کئی سو ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ مہنگا امریکی اسلحہ اور عسکری سروسز خریدنے کے معاہدے کیے ہیں۔ اس دوران تمام شان و شوکت اور ایک دوسرے کی توصیف میں کہے گئے کلمات کے باوجود غزہ کے حوالے سے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریر میں غزہ کے باشندوں کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضرور یہ کہا کہ جب تک وہاں سے اسرائیل پر حملے کرنے اور لوگوں کو اغوا کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، اس وقت تک اس مسئلہ کا کوئی مناسب حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان کے عرب میزبان مہر بلب رہے۔
اس دوران غزہ کے بارے میں امریکی منصوبے اور اس کے متبادل عرب منصوبے کے حوالے سے بھی کوئی مباحث سامنے نہیں آئے۔ حیرت انگیز طور پر اسرائیل جیسی بڑی عسکری قوت غزہ کے چوبیس لاکھ باشندوں کو ہلاک کرنے کے لیے دن رات فوجی کارورائی کررہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد جاں بحق ہورہے ہیں۔ صورت حال اس حد تک سنگین ہوچکی ہے کہ چھوٹے بچے یہ کہنے لگے ہیں کہ ہماری دعا ہے کہ کوئی اسرائیلی بم انہیں ہلاک کردے تاکہ وہ اس تکلیف دہ زندگی سے نجات پاسکیں۔ لیکن عرب ممالک ہی کیا ، دنیابھر کا ضمیر خاموش ہے۔
13 مئی کوصدر ٹرمپ کے عرب ملکوں کا دورہ شروع ہونے سے ایک روز پہلے امریکہ نے حماس کے ساتھ براہ راست ڈیل کرتے ہوئے 21 سالہ اسرائیلی امریکی ایدان الیگزنڈر کو رہاکرایا تھا۔ وہ ٹرمپ کے ریاض پہنچنے سے ایک دن پہلے رہا ہوکر تل ابیب پہنچا۔ اس طرح امریکہ نے پہلی بار حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت کے ذریعے کوئی رعایت حاصل کی ہے ۔ مبصرین اسے ایک ایسا امریکی اقدام قرار دے رہے ہیں جو نیتن یاہو کی حکومت سے بالا ہی بالا کیا گیا ہے۔ یوں اس تنازعہ میں پہلی بار یہ اشارہ سامنے آیاہے کہ کسی معاملہ پر امریکہ نے اسرائیل کی پالیسی کو نظرانداز بھی کیا ہے لیکن فلسطینی مسئلہ کے بارے میں اس کی عملی اہمیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔
تین عرب ملکوں کے دورہ کے دوران صدر ٹرمپ اسرائیل بھی نہیں گئے۔ اسے بھی اسرئیلی وزیر اعظم کی حکومت کے لیے سخت امریکی اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے غزہ پر ایک وسیع حملہ کا پروگرام بنایا تھا۔ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ آنے سے پہلے ہی اس عسکری منصوبے کا اعلان کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج امریکی صدر کی مشرق وسطیٰ سے واپسی کے بعد غزہ میں پیش قدمی کرے گی۔ آج یہ فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ اس دوران دوحا میں حماس کے ساتھ اسرائیل کے بالواسطہ مذاکرات شروع ہوئے تھے تاکہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر کوئی اتفاق رائے ہوسکے لیکن فریقین کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
نئے اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں بظاہر اسرائیل باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہاکرانا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ حماس کے سب جنگ جوؤں کو ہلاک کردیا جائے۔ لیکن ان دعوؤں کے درپردہ اسرائیل غزہ کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہاہے اور اسے سکیورٹی اقدام کا نام دیاجارہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت فلسطینیوں کو جنوب میں مصری سرحدی علاقے رفاح کی طرف دھکیلا جائے گا اور باقی ماندہ خطے پر اسرائیل قابض ہوجائے گا۔ اس دوران وزیر اعظم نیتن یاہو یہ اعلان کرچکے ہیں کہ فلسطینیوں کو خود ان کی ’حفاظت‘ کے نقطہ نظر سے غزہ سے منتقل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی غزہ کے لوگوں کو ہمسایہ عرب ملکوں میں بھیج کر غزہ کو امریکی ملکیت میں لینے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ دو ماہ پہلے امریکہ و اسرائیل نے مشترکہ طور پر سوڈان، صومایہ اور صومالی لینڈ سے غزہ کے فلسطینی شہریوں کو اپنے ملکوں میں منتقل کرنے کا معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ان میں سے کسی ملک نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ البتہ اب غزہ کے چوبیس لاکھ باشندوں کو جنوبی غزہ کے مختصر علاقے میں جمع کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کیا گیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے بعد ان بے بس و لاچار فلسطینیوں کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے گا۔
غزہ کے لیے خوراک و دیگر امدادی سامان کی فراہمی گزشتہ دس ہفتوں سے بند ہے۔ غزہ میں اس وقت قحط کی صورت حال ہے اور اقوام متحدہ بار بار کہہ چکی ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے غزہ کے شہریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ غزہ کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکمران ولی عہد محمد بن سلطان اور قطر کی حکومت بھی اسرائیلی ہتھکنڈوں کے بارے میں نسل کشی کے الفاظ استعمال کرچکی ہے۔ حیرت ہے کہ ان ملکوں کے حکمرانوں نے صدر ٹرمپ کا استقبال کرتے ہوئے اس سنگین اور افسوسناک انسانی المیہ کا کوئی ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ عین ممکن ہے کہ درپردہ ہونے والی بات چیت میں کوئی اتفاق رائے ہؤا ہو لیکن جب تک غزہ کے باشندوں کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں، اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا اور فلسطینی ریاست کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوتی، اس وقت تک غزہ اور کی صورت حال عالمی ضمیر اور عرب لیڈروں کی سیاست پر بدنما داغ کے طور پر موجود رہے گی۔
اس وقت اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر انسانوں کو ہلاک کرنے کے طریقے پر عمل کررہا ہے اور دنیا بھر کے ممالک خاموش تماشائی بنے ، اس ہلاک خیزی کو دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں۔ اس لاتعلقی کوتاریخ میں دنیا کے انسانوں کے بے حسی اور سفاکی کے طور یاد رکھا جائے گا۔ عرب ممالک جب تک امریکہ کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کریں گے اور ٹرمپ کی نام نہاد ڈیل کرنے کی پالیسی کے تحت اپنی کثیر سرمایہ کاری کو غزہ کے انسانوں اور دیگر فلسطینیوں کی حفاظت سے مشروط نہیں کریں گے ، اس وقت عرب لیگ یا اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس بے مقصد و بے نتیجہ رہیں گے۔