سرگودھا میں احمدی ڈاکٹرکا قتل اور قومی یک جہتی کا واویلا

قومی یک جہتی کے بلند بانگ دعوؤں کے عین بیچ سرگودھا میں ایک احمدی ڈاکٹر   بلا اشتعال قتل کردیا گیا  لیکن جماعت احمدیہ اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سوا کسی طرف سے  مذمت  کی آواز سنائی نہیں دی۔ اس وقت ملک بھر میں بھارت میں ہندو انتہا پسندی اور بی جے پی کی مسلم دشمن پالیسیوں کا چرچا ہے لیکن  پاکستان میں عقیدے کی بنیاد پر ہونے والی خوں ریزی پر کسی ذمہ دار سیاست دان کا بیان تک سنائی نہیں دیتا۔

البتہ  آج قومی اسمبلی میں  شادی کے لیے  عمر کی حد 18 سال مقرر کرنے کے ایک بل کے خلاف جمیعت علمائے اسلام  (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان کی بے چینی دیدنی تھی۔ ان کا  کہنا تھا کہ ’ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ اس قسم کی حرکتیں نہ کی جائیں۔اسپیکر  بل کے خلاف رولنگ  دیں۔ ورنہ ایسے بل منظور کرنے پر ہم  سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے‘۔  مولانا کو معتدل مزاج   سیاسی و مذہبی لیڈر اور   ہوشمند  رہنما کہا جاتا ہے۔ لیکن شادی کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کے سوال  پر ان کا تمام  اعتدال  راکھ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

  حالانکہ  انہیں اس قسم کے معتدل مزاج قوانین کی حمایت کرکے لوگوں میں اسلام  کے بارے میں مثبت  شعور پیدا کرنے کے لیے کام کرنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان  کے ہمنواؤں  کے بیانات سنے جائیں تو یوں لگتا ہے کہ اسلام کی ’حفاظت ‘کا واحد راستہ کم سن بچیوں کی شادیاں ہیں اور اگر مسلمہ  طبی و سماجی حقائق کی بنیاد پر   کوئی معقول قانون سازی ہوتی ہے تو ا س کے خلاف طوفان کھڑا کرکے پہلے سے لڑکھڑاتی حکومت کو راہ فرار اختیار کرنے  پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ درحقیقت مذہب کی ناجائز تفہیم اور  معاشرے میں  لڑکیوں اور خواتین کے مساوی حقوق کے خلاف  مہم جوئی کے مترادف ہے۔ حالانکہ ملک میں مذہبی روایات  کو  فروغ دینے والے عناصر کو اپنی تعلیمات  میں سے ضد، غصہ، دھونس اور بلیک میلنگ کا عنصر نکالنا چاہئے۔

اسی معاملے میں دیکھ لیا جائے۔  پاکستان اور بھارت کی حالیہ جھڑپوں یا جنگ  میں  حاصل ہونے والی  کامیابی کا کریڈٹ مسلح افواج کی اعلیٰ تربیت کو  جاتا ہے۔ انہوں نے دشمن کو مناسب اور ٹھوس جواب دے کر نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت کی بلکہ  یہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان کم وسائل کے باوجود  اپنی حفاظت کرنے  کی صلاحیت  رکھتا ہے۔ اس کامیابی کا دوسرا کریڈٹ ان  عسکری  و تکنیکی وسائل کو دیا جائے گا جو مؤثر  و کارگر ثابت ہوئے اور بھارت اپنے قیمتی اسلحہ کے باوجود پاکستان کے جوابی وار کا  مقابلہ نہیں کرسکا۔ محاورے کے طور پر ضرور کہا جاتا ہے کہ فوج قومی یک جہتی ہی کی صورت میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے لیکن دیکھا جائے تو 7 مئی کے بھارتی حملوں سے پہلے ملک میں سیاسی اختلاف رائے عام تھا، حکومت پر معاشی کامیابی کے باوجود عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا  تھا اور متعدد سیاسی عناصربراہ راست فوج کو نکتہ چینی کا نشانہ بنا رہے تھے۔ البتہ 7 مئی کو بھارتی حملے کے ساتھ ہی  پوری قوم یک آواز ہوچکی تھی۔  سیاسی بنیادوں پر شدت پسندی کا شکار تھوڑے سے عناصر کے علاوہ ملک کا بچہ بچہ مسلح افواج کے  کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیا۔ کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ  دشمن کے حملہ کی صورت میں  شہریوں کی حفاظت صرف  مسلح افواج ہی کرسکتی تھیں۔

البتہ  پاکستانی فوج کی اس کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لیے ملک بھر کے مولویوں نے حیلے بہانے سے جلسے اور ریلیوں کی صورت میں قومی یک جہتی پیدا کرنے میں حصہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ملک میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں اور آپس میں لڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ حالانکہ ان ملاؤں کو یہ جواب دینا چاہئے کہ آپ کس خوشی میں ’جشن  فتح‘ منا رہے ہیں؟  بدقسمتی  سے ملک کے مذہبی رہنماؤں کا قومی یک جہتی پیدا کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ لیکن یہ سب عناصر اپنے اپنے طور پر خود کو کسی بھی  طرح  پاک فوج کے ساتھ  مربوط رکھنا چاہتے ہیں لہذا  اب بڑھ چڑھ کر قومی یک جہتی کے  علمبردار بنے ہوئے  ہیں۔

یہ عناصر اگر  واقعی  ملک میں یک جہتی  پیدا کرنے کے خواہاں  ہیں تو وہ عقیدہ اور مسلک کی بنیاد پر لوگوں کو آپس میں لڑانے اور اکسانے کا طریقہ ترک کریں۔ اگر واقعی اب یہ طے کرلیا گیا ہے کہ ملک کو ایک بہت بڑے دشمن کا سامنا ہے جو ہندو توا کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو نیست  و نابود کرنا چاہتا ہے تو ان ملاؤں کو اپنے وطن میں مذہبی انتہا پسندی کا وتیرہ ترک کرکے سب عقائد و مسالک کے درمیان بھائی چارے کا ماحول پیدا کرنا چاہئے ۔  لیکن  قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کی تقریر سے دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد قومی یک جہتی نہیں بلکہ ان کے سر پر کسی بھی صورت اپنی سیاسی اہمیت منوانے کی   دھن سوار  رہتی ہے۔ اس کے لیے کسی بھی معاملہ پر مذہب کو  ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہی مولانا فضل الرحمان  نے  گزشتہ سال  اگست میں ایک احمدی کو ضمانت دینے کے معمولی معاملہ میں سپریم کورٹ کا گھیراؤ کرنے کا دعویٰ کیا اور  عدالت عظمی کو ناجائز طور سے دباؤ میں لاکر ایک طے شدہ معاملہ پر فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ لیکن اب ایک پر امن شہری اور عام لوگوں کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے  ایک ڈاکٹر کو سرگودھا میں انتہائی  دیدہ دلیری سے قتل کیا گیا ہے لیکن مولانا فضل الرحمان سمیت کسی ’عالم دین‘ نے اس غیر انسانی  وقوعہ کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اسے خلاف اسلام قرار دیا ہے۔  وہ سب سیاست دان اور دین کے ٹھیکیدار بھی مہر بلب ہیں جو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام نے ’ایک انسان کے قتل کو پوری  انسانیت کا قتل‘ قرار دیا ہے،   اس لیے کوئی مسلمان کسی بھی انسان کو قتل نہیں کرسکتا۔

جامعہ مسجد  نئی دہلی کے امام  سید احمد بخاری نے  قرآن کے اسی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے   25 اپریل کے خطبے میں پہلگام  دہشت گردی سے  دست برداری کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا عالم دین نہیں ہے  جو  کسی احمدی یا دوسرے غیر مسلم کے قتل ناحق پر اسی آیت کا حوالہ دے کر ان عناصر کی مذمت کرے جو ایسی غیر انسانی خوں ریزی میں ملوث ہیں۔ صرف  ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے عہدیداروں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک نامور احمدی ڈاکٹر کے قتل کی مذمت کی ہے۔ ایچ آر سی پی کی جانب سے پاکستان کی وزارتِ داخلہ کو  خط لکھا گیا ہے کہ احمدیہ برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافے پر فوری طور پر اداروں کو احکامات جاری کیے جائیں اور  احمدیوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جائے۔ ایچ آر سی پی کی ایک عہدیدار نے اس کرب کا اظہار  بھی کیا کہ’لگتا ہے کہ ریاست کی جانب سے ایسے گروہوں کو ان کارروائیوں کی کُھلی چھوٹ دے دی گئی ہے‘۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان عامر محمود کے مطابق 1984 کے امتیازی قوانین کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 291 احمدیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے جن میں 30 ڈاکٹرز شامل ہیں۔  اس گھناؤنے جرم کی روک تھام کرنے کی بجائے، پاکستانی سیاست دان ایسے کسی متعصبانہ قانون کو ختم کرنے کا ذکر  کرنے سے بھی بچتے ہیں  جو  شہریوں میں عقیدہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی سیاسی رویہ سے حوصلہ پاکر  ملک میں ایسے مذہبی عناصر طاقت پکڑ رہے ہیں  جو احمدیوں کو قتل کرنے، ان کی  عبادت گاہوں کو گرانے یا قبروں کو نقصان پہنچانے کو  ہی اصل  ’اسلام‘ سمجھتے ہیں۔

ایسے میں قومی یک جہتی کا دعویٰ و خواہش  اور  مودی حکومت کی ہندو انتہاپسندی کے سامنے سینہ سپر ہونے کی خواہش رکھنے  والی حکومت ، اگر اپنے ملک میں مذہب کے نام پر پھیلنے  والی شدت  پسندی کو نہیں روکے گی تو  قومی یک جہتی کا خواب شاید کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔ ملک میں افتراق اور دہشت گردی کا فروغ بھی در حقیقت مذہبی انتہاپسندی ہی کا شاخسانہ ہے۔