پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں امریکا کا کوئی کردار نہیں تھا: بھارت
بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مِسری نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے جنگ بندی میں امریکا کے کسی بھی کردار کو مسترد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرکے توجہ کا مرکز بننے کی کوشش کی تھی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مسری کا یہ بیان اس کے باوجود سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اس جنگ بندی میں اپنی انتظامیہ کے کردار کا کریڈٹ لے چکے ہیں، جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
ہندوستان ٹائمز نے ایک سینئر قانون ساز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ گزشتہ روز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کی زیر صدارت بھارت کی پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس کے دوران وکرم مسری نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کی پیشکش پاکستان کی جانب سے آئی تھی۔ ان مذاکرات میں کوئی اور ملک شامل نہیں تھا۔ جب ارکان پارلیمنٹ نے امریکا کے صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا کہ واشنگٹن نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ حل کرنے میں مدد دی، تو مسری نے کہا کہ نئی دہلی کی امریکا کے ساتھ معمول کے مطابق بات چیت ہوتی رہتی ہے، لیکن کوئی ثالثی نہیں ہوئی۔
سیکرٹری خارجہ مسری کی 31 رکنی پارلیمانی پینل کے سامنے پہلی پیشی تھی۔ اجلاس 3 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا، جس دوران ارکان نے سیکریٹری خارجہ سے متعدد سوالات کیے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وکرم مسری نے حکومت کے اس مؤقف کو دہرایا کہ فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ دو طرفہ سطح پر کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران مسری سے پوچھا گیا کہ بھارتی حکومت صدر ٹرمپ کو مرکزی حیثیت کیوں دے رہی ہے۔ ان کے جنگ بندی میں ثالثی کے دعوؤں کی تردید کیوں نہیں کر رہی؟ مسری نے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق پینل کے ایک رکن نے سوال کیا کہ ٹرمپ نے عوامی طور پر کم از کم 7 بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنگ بندی میں مدد کی۔ بھارت خاموش کیوں رہا؟
ایک اور رکن نے سوال کیا کہ بھارت نے ٹرمپ کو بار بار بیانیہ پھیلانے کی اجازت کیوں دی۔ جو امریکی صدر کے جنگ بندی سے متعلق بیانات کی طرف اشارہ تھا۔ انڈیا ٹوڈے نے لکھا کہ ارکان پارلیمنٹ کو جو تاثر ملا وہ یہ تھا کہ بھارت نے نہ تو پاکستان کے ساتھ بات چیت میں امریکا کو شامل کیا اور نہ ہی بھارت امریکا کے اس فیصلے میں شامل تھا کہ وہ اس کا اعلان کرے۔
ٹائمز آف انڈیا نے بھی اسی طرح رپورٹ کیا کہ مسری نے مبینہ طور پر کہا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی سے متعلق ریمارکس سوشل میڈیا پر دیے، نہ کہ کسی سرکاری چینل کے ذریعے، جہاں بھارت اپنا موقف پیش کر سکتا۔ ان کیمرہ سیشن کے دوران، خارجہ سیکرٹری نے یہ امکان بھی مسترد کر دیا کہ پاکستان کے ساتھ ”قریب مستقبل میں معمول کے تعلقات بحال“ ہو سکیں گے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق مسری نے یہ بھی کہا کہ حالیہ فوجی محاذ آرائی مکمل طور پر روایتی دائرے میں تھی اور اس میں پاکستان کی جانب سے کسی قسم کے ایٹمی ہتھیار استعمال کا اشارہ نہیں دیا گیا۔ واضح رہے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایٹمی جنگ کبھی بھی حکومت کا آپشن نہیں تھی۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مسری سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ’جھڑپ کے دوران بھارت کے کتنے طیارے تباہ ہوئے؟ سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔