لپکنا، جھپکنا پلٹ کر رونا

یہ لالچ بھی کیا بری بلا ہے جو انسان کو انسانیت کے درجے سے کہیں نیچے گرا دیتا ہے۔ ہم سب بظاہر انسان ہیں، ہمارے سارے خدوخال انسانوں والے ہیں، ہماری عزت یا غیرت پر حرف آئے تو ہم جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں۔ لیکن دوستو اگر کوئی بندہ آپ کے بارے یہ کہے کہ "میں ہڈی پھینکوں تو آپ سب دم ہلاتے آ جاتے ہیں"، اس جملے کو سن لینے کے بعد بھی کوئی ایسا ہی کرے کہ ہڈی دیکھ کر اسی طرف لپکے تو کیا پھر وہ انسان کہلانے کے قابل ہوگا؟

شاید نئی نسل کو علم نہ ہو لیکن ہم اپنے کانوں سے اس جملے کو سننے کے بعد اپنی آنکھوں سے اپنے سیاستدانوں کو لپکتے دیکھ چکے ہیں۔ یوں تو اس ملک پر ناجائز قبضہ کرنے والے ہر آمر نے سیاستدانوں اور سویلین کے لیے کئی توہین آمیز جملے بولے ہوئے ہیں۔ مگر ایک آمر کے دو جملے ہماری تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جنرل ضیا نے ایک جملہ یہ فرمایا تھا کہ "ملک کا آئین کوئی صیغہ آسمانی نہیں بلکہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے میں جب چاہوں ردی میں پھینک دوں" ۔(جنرل صاحب کو کسی نے جواب نہ دیا کہ کسی بھی ملک کا آئین صحیغہ آسمانی ہی کی طرح مقدس دستاویز ہوتی ہے جس کے بغیر ملک چل سکتا ہے نہ قائم رہ سکتا ہے)۔ دوسرا فقرہ سیاستدانوں کے بارے تھا کہ ’میں جب ہڈی پھینکوں تو یہ سب دم ہلاتے دوڑے چلے آتے ہیں‘۔

اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کاغذ کے ٹکڑے کو ردی میں پھینکا گیا اور ہمارے وہ تمام سیاستدان جن کو ضیا  نے ہڈی دکھائی تو دوڑے دوڑے گئے، پہلے مجلس شوریٰ میں بیٹھے، پھر غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا، پھر آمر کے نامزد ممبر کو وزیراعظم بنایا اور آمر کے حکم پر آٹھویں آئینی ترمیم کر کے آئین کا حلیہ بگاڑا۔ لیکن جب آمر کو ضرورت نہ رہی تو اپنے ہی وزیراعظم کو جنیوا سے واپسی پر راستے ہی میں وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا اور وہ ائیر پورٹ سے ٹیکسی لے کر گھر چلا گیا۔ اس کے آگے بھی بہت بھیانک تاریخ ہے۔ بینظیر کو انتخابات میں واضح کامیابی کے باوجود کن شرائط پر وزیراعظم بننے دیا گیا سارا پاکستان جانتا ہے۔ اور 90 کی دہائی میں جو میوزیکل چئیر کا کھیل چلتا رہا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آج ہڈی پر لپکنے والے سیاستدان نہیں رہے ہیں؟ میرے خیال میں تو ان کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔ پچھلی پوری دہائی میں جو کچھ ہوتا رہا اور اب 2022 سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ تو سب کے سامنے ہے۔

حالیہ پاک بھارت جھڑپ میں پاکستان کا پلہ بہت بھاری رہا، ہماری فضائیہ کی مہارت اور چینی ٹیکنالوجی جیت گئی۔ اس سے نہ صرف دنیا نے پاک فوج کی صلاحیتوں کا لوہا مانا بلکہ دنیا میں ٹیکنالوجی مقابلے کی بحث بھی چل نکلی۔ چین امریکہ تجارتی جنگ بھی تھم گئی اور دونوں ملکوں میں باعزت معاہدہ طے پا گیا۔ اب بات یہ ہے کہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے جو وہ کامیابی سے کر رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی معاملات میں بھی ہاتھ بٹا رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینا ہو یا چین سے کوئی مدد درکار ہو، یورپ کے ساتھ لین دین کرنا ہو یا عرب برادران سے مالی مدد کی ضرورت ہو ہر جگہ فوجی قیادت کی ضمانت اور معاونت کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ دنیا ہماری حکومت پر اعتبار نہیں کرتی ہے۔

دنیا اعتبار کرے بھی کیوں جب ہمارے سیاستدانوں کو خود اپنے اوپر اعتبار نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر سکتے ہیں یا کتنی دیر حکومت میں رہ سکتے ہیں۔ اب پاک بھارت جھڑپ کے بعد ملک میں ہر طرف فوجی قیادت کے حق میں پینا فلیکسز لگائے جا رہے ہیں اور ہر کوئی بڑھ چڑھ کر خوشامد میں مصروف ہے. فوج کو شاباش دینی چاہیے اور جب فوج دشمن سے لڑتی ہے تو ساری قیادت اور پورے ملک کو فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر اخلاقی مدد کرنی چاہیے۔ لیکن جس طرح ہمارے سیاستدان، سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑھ چڑھ
کر خوشامد کر رہے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ سب کو اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کی ضرورت ہے اور اس ملک میں کوئی بھی کام اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یہ ملک اور جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ ہمیں ہر کام میں توازن رکھنا چاہیے۔ پچھلے تین سال میں جس طرح فوج کے خلاف مہم چلائی گئی اور 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، وہ انتہائی غلط، قابل مذمت اور شرمناک اقدامات تھے۔ اس کے بعد سے ہر طرف سے نہ صرف فوجی قیادت بلکہ پوری فوج کے خلاف زہر اگلا جا رہا تھا اور اب ایک دم سے سارا ملک واری جا رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں غیر متوازن معاشرہ۔ اور غیر متوازن معاشرے پر دنیا کا کوئی ملک اعتبار کر سکتا ہے نہ ملک کے اندر کسی کو کسی پر اعتماد ہوتا ہے۔ اب بہترین وقت ہے فوجی قیادت بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ساری توجہ ملکی سرحدوں اور فوج کی تربیت پر مرکوز کرے اور حالیہ صورتحال میں جہاں کوئی کمزوری نظر آئی ہو اس پر قابو پایا جائے۔ سیاستدانوں اور دوسرے اداروں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔

سیاستدانوں کو بھی اپنی روش بدلنا ہوگی اور کاسہ لیسی کی پالیسی چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنی حیثیت منوائیں۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر کل کو یہ شکایت نہ کریں کہ سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ مداخلت کرتی ہے۔ شنید ہے کہ خان صاحب نے بھی شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اقتدار اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کی بہتری کے لیے فوری مذاکرات کیے جائیں۔ اور ملک میں استحکام پیدا کر کے مسائل کے حل کی طرف بڑھا جائے۔ دفاع کے لیے جو ضروری ہے حکومت فوری طور پر وسائل مہیا کرے۔ ملکی آمدن اور پیداوار میں اضافے کے لیے ہر ممکن ذرائع پیدا کیے جائیں۔ بے روزگاری اور مہنگائی کو کم کرنے کے لیے ساری سیاسی قیادت کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

سیاسی قیادت کو اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت مضبوط کرنے پر کام کرنا ہوگا۔ جماعتوں کو خاندانی وراثت سے آزاد کر کے میرٹ پر نئی قیادت آگے لانی چاہیے۔