ایک نیا فیلڈ مارشل
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 20 / مئ / 2025
وفاقی کابینہ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کافیصلہ کیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں آپریشن بنیان مرصوص کی قیادت کرنے اور پاکستان کو فتح دلانے پر عطا کیا گیا ہے۔ عاصم منیر ملکی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے جنرل ہوں گے۔ اس سے پہلے جنرل محمد ایوب خان نے 1959 میں اپنی ہی کابینہ سے فیلڈ مارشل کا اعزاز حاصل کرنے کی منظوری لی تھی۔
فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پانے کے لیے کسی جنرل کا کمانڈنگ عہدے پر فائز ہونا ضروری نہیں ہوتا بلکہ بیشتر صورتوں میں یہ عہدہ ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ پہلے یا بعد میں دیا جاتا ہے۔ ایوب خان بھی 1959 میں اس وقت فیلڈ مارشل بنے تھے جب وہ کمانڈر انچیف کے عہدے سے سبک دوش ہوچکے تھے اور جنرل محمد موسی خان اکتوبر 1958 سے اس عہدے پر کام کررہے تھے۔ فیلڈ مارشل چونکہ کبھی ’ریٹائر‘ نہیں ہوتا ، اس لیے وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر فوجی وردی پہن سکتا ہے۔ اسی لیے 1965 کی جنگ کے دوران کسی باقاعدہ فوجی عہدے پر نہ ہونے کے باوجود فیلڈ مارشل ایوب خان نے وردی پہنی تھی۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے کبھی وردی نہیں پہنی۔
یوں تو آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کی خبر حیرت انگیز نہیں ہے کیوں کہ 7 سے 10 مئی کے دوران بھارت کے ساتھ فوجی جھڑپوں کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں فیلڈ مارشل بنانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ حکومت نے بھی ایک بیان میں یہی واضح کیا ہے کہ ’حکومت پاکستان نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملکی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شکست دینے پر جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی ہے‘۔وفاقی کابینہ نے قرار دیا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرات وعزم کے ساتھ پاکستانی فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا۔ آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ اُن (عاصم منیر) کی شاندار عسکری قیادت، جرات اور بہادری، پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں دلیرانہ دفاع کے اعتراف میں کابینہ نے ، جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی وزیراعظم کی تجویز منظور کر لی ہے۔
بعد میں آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں یہ اعزاز ملنے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ’یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہدا اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں۔صدر پاکستان، وزیرِ اعظم اور کابینہ کے اعتماد کا شکر گزار ہوں۔ یہ اعزاز قوم کی امانت ہے جس کو نبھانے کے لیے لاکھوں عاصم بھی قربان ہیں۔ یہ انفرادی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے لیے اعزاز ہے‘۔ فیلڈ مارشل کو فائیو سٹار جنرل بھی کہا جاتا ہے جو کسی فوج میں اعلیٰ ترین عہدہ ہے۔ اس عہدے پر فائز شخص اپنے رتبے کے لحاظ سے بری، بحری اور فضائی فورسز کے سب کمانڈروں پر فائق ہوتا ہے۔ یوں تو اس عہدے پر ترقی پانے کے بعد کسی شخص کے اختیارات یا مالی مراعات میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس اعزاز کو قوم و ملک کے لیے خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے جو عام طور سے کسی جنگ میں فتح یابی ہی ہوتا ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی اب تک دو جنرلوں کو ہی فیلڈ مارشل بنایا گیا ہے۔ ان میں ایک سیم مانک شا تھے جنہیں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جنوری 1973 میں ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے 1971 کی جنگ میں پاکستانی فوج کو شکست دینے اور بنگلہ دیش قائم کرنے کا راستہ ہموار کرنے کے لیے، اس اعزاز کا مستحق سمجھا تھا۔ وہ البتہ 15 جنوری 1973 کو ریٹائر ہوگئے تھے۔ فیلڈ مارشل بنائے جانے والے دوسرے بھارتی جنرل کے ایم کریاپا تھے۔ انہیں البتہ ان کی ریٹائرمنٹ کے 22 سال بعد 1986 میں یہ عہدہ دیا گیا تھا۔ اس اعزاز کے ذریعے انڈین حکومت نے کریاپا کی طویل فوجی سروس کے دوران خدمات اور اعزازات کو پیش نظر رکھا تھا۔ پاکستان میں ایوب خان کے خود ہی فیلڈ مارشل بننے کے برعکس بھارت میں البتہ سویلین حکومتوں نے یہ فیصلے کیے تھے۔ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ بھی ایک منتخب سویلین کابینہ نے کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں بھارت کے ساتھ ایک جنگ میں کامیابی کے بعد یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ اس حد تک اس ترقی پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دامن صاف رہے گا۔
البتہ دوسری طرف شہباز شریف کی حکومت کے حق نمائیندگی کے بارے میں مسلسل سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات کو دھاندلی زدہ کہہ کر مسترد کرتی ہیں۔ یہ معاملہ مختلف سطح پر عدالتوں میں بھی زیر غور رہا ہے لیکن حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کے شبہات دور کرنے کے لیے انتخابات کی تحقیقات کرانے یا حق نمائیندگی کو ثابت کرنے کے لیے ازسر نو انتخابات کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد چونکہ سیاسی اپوزیشن کمزور ہوئی ہے، اس لیے اب اس بات کا امکان بھی نہیں ہے کہ حکومت 2029 سے پہلے انتخابات پر غور کرے گی۔ البتہ موجودہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح غیر نمائیندہ کہا جاتا رہے گا۔
دوسری طرف 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام ملکی اسٹبلشمنٹ یا عسکری قیادت پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ شہباز شریف ’کٹھ پتلی‘ وزیر اعظم ہیں اور ان کی حکومت ملکی فوجی قیادت یعنی عاصم منیر کی براہ راست تائید و حمایت کے بغیر چند گھنٹے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ اس پس منظر میں ایسی مشکوک حکومت کی طرف سے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ بھی ہمیشہ مشکوک رہے گا۔ یہ سوال اٹھایاجاتا رہے گا کہ کیا یہ فیصلہ کسی پروفیشنل میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے یا شہباز شریف نے فوج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے محض خوشامد کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ کرایا ہے۔ اس پس منظر میں بہتر ہوتا کہ پاکستانی حکومت عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر یا اس سے پہلے انہیں فیلڈ مارشل کا اعزاز دیتی تاکہ ایسے شبہات جنم نہ لیتے۔ یا اب بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر نیا اور فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز پانے کے بعد خود ہی حکومت سے کہیں کہ فوج کی قیادت کسی فور اسٹار جنرل کے حوالے کی جائے۔ وہ فیلڈ مارشل کے طور پر ہمیشہ فوج کی رہنمائی کا فرض ادا کرتے رہیں گے۔
آرمی چیف عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے کے بعد جائینٹ کمیٹی آف چیفس آف اسٹاف کے چئیرمین جنرل شمشاد مرزا کی پوزیشن بھی کمزور ہوگی۔ چئیرمین جائینٹ کمیٹی آف چیفس آف اسٹاف کے طور پر اگرچہ جنرل شمشاد مرزا کے پاس کوئی کمانڈنگ عہدہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ مسلح افواج کے عملی اقدامات میں مداخلت کے مجاز ہیں لیکن اس کمیٹی کے سربراہ کے طور پر ایک تو وہ پرنسپل اسٹاف آفیسر اور سول حکومت کے چیف ملٹری ایڈاوئزر ہیں۔ دوسرے اس عہدے پر فائز ہوتے ہوئے وہ تکنیکی لحاظ سے مسلح افواج کے تینوں سربراہان کے سینئر بھی ہیں۔ البتہ آرمی چیف کے فیلڈ مارشل بننے کے بعد جائینٹ کمیٹی آف چیفس آف اسٹاف کے چئیرمین کی پوزیشن اور آئینی اختیار کے بارے میں سوالات جنم لیں گے۔
پاکستان نے حالیہ جھڑپوں میں بھارت پر سبقت ضرور حاصل کی ہے لیکن اسے فیصلہ کن فتح قرار دینا مشکل ہے۔ بھارتی حکومت اب تک ہٹ دھرمی اور ضد کا مظاہرہ کررہی ہے۔ متعدد ماہرین یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ نریندر مودی اس عسکری ہزیمت کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کے بعد ایک بار پھر پاکستان پر بڑا اور بھرپور حملہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ابھی سیاسی ، سفارتی اور عسکری لحاظ سے معاملات پیچیدہ اور نازک ہیں۔ حتیٰ کہ ڈی جی ایم اوز کی بات چیت کے ذریعے ہونے جنگ بندی بھی مسلسل بے یقینی کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے یا فتح کا جشن منانے کے فیصلے قبل از وقت ہیں۔