کم عمری کی شادی کیوں؟

حال ہی میں سینٹ نے کم عمری کی شادیوں پر ممانعت کا جو بل پاس کیا ہے، یہ ہمارے آئینی و جمہوری ادارے کا نہایت ضروری اور قابل ستائش فیصلہ ہے، جس کی ہر طرف سے تحسین ہونی چاہیے تھی۔ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس پر بجاۓ معزز ادارے کومبارک باد دینے کے کچھ حلقے اس پر تنقیدی نشتر چلانا شروع ہو گئے ہیں۔

اس کائنات میں انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ یہ قدرت کا سب سے خوبصورت شاہکار ہے۔ دیگر تمام تر مخلوقات اس کی تابع مہمل یا خدمتگار ہیں۔ روایتی مذہبی متھ کے مطابق بھی فرشتوں یا قدسیوں کا تقدس سب پر واضح تھا۔ مگر انہیں بھی یہ حکم صادر ہوا کہ آدم کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ، جنہوں نے سرنگوں ہوتے ہوئے سجدہ کیا وہ سرخرو ہوئے اور جس نے تکبر، عقیدے یا کسی نظریے کے زیراثر عظمتِ انسانی کے سامنے سرنگوں ہونے سے اجتناب یا ا نکار کیا وہ ہمیشہ کے لیے رائندہ درگاہ ہو گیا۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں اشارہ یہ ہے کہ دنیا میں انسانیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ جو انسانوں سے محبت کرتا ہے، وہی خدا کا محبوب ہے۔ اور جو ان سے اجنبیت و حقارت کا رویہ اختیا ر کرتا ہے، وہ درحقیقت شیطان ابلیس ہے۔

کسی کے اعلیٰ ترین فن پارے، تخلیق یا شاہکار سے الفت و اپنائیت درحقیقت تخلیق کار ہی کی قدر افزائی ہوتی ہے۔ عظمتِ انسانی کا بنیادی سبب اس کا شعور اور فکرو نظر کی جبلی مثبت آزاد روی ہے۔ جبکہ فرشتے فطری طورپر جبری نیکی پر کاربند یا مجبور محض ہیں۔ اگر کوئی فرد یا جتھہ کسی بھی سوچ یا عقیدے کے زیر اثر انسانی شعور پر قدغن لگاتا ہے یا شعوری فیصلہ کرنے کے حق آزادی کو دبوچتا ہے تو درحقیقت وہ انسانوں سے ان کا مقامِ عظمت چھینتا ہے:
عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام

ہمارے بہت بڑے عبقری مرزا غالبؒ  نے اپنے زمانے میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ:
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

انسانیت صدیوں کا شعوری سفر طے کرتے ہوئے آج اس مقام پر پہنچی ہے کہ تمام انسان بلاتمیز رنگ و نسل و جنس و عقیدہ برابر قابلِ قدرو احترام ہیں۔ اسی وجہ سے آج کی دنیا میں انسانی حقوق، آزادیوں اور جمہوریت کا بول بالا ہوا ہے۔ دنیا بھر کی مہذب اقوام نے یہ اصول قبول کر لیا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ زندوں پر حکومت کریں۔ ہر دور کی اپنی سچائیاں ہوتی ہیں اور ہر انسانی نسل کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی زندگیوں یا قسمتوں کے فیصلے اپنی آزادانہ مرضی اور شعوری بحث و منفعت کے ساتھ کریں۔ بلاشبہ کچھ حقائق یونیورسل ہوتے ہیں لیکن لازم نہیں کہ جو چیز پچھلی صدی میں موزوں تھی، وہ اس صدی میں بھی اسی طرح موزوں ہو۔۔۔ ایک شخص کو جو لباس بچپن میں فٹ آتا تھا، وہ جوانی میں بھی اُسی طرح موزوں ہو۔ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ لہٰذا فیصلے بھی انہی کی مناسبت میں کیے جانے چاہئیں۔

درویش کے ذہنی کینوس پر ان حقائق کا شانِ نزول کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے لائے گئے بل پر ہونے والی بحث ہے۔ حالانکہ یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ پارلیمنٹ انسانی مفاد میں کوئی بھی قانون سازی کر سکتی ہے۔ شادی کا تعلق رضا مندی اور بلوغت سے ہے۔ مان لیتے ہیں کہ بلوغت مختلف خطوں یا مختلف لوگوں میں مختلف اوقات میں ہو سکتی ہے لیکن جب ہم نے قومی سطح پر بلوغت کی عمر یونیورسل اصول کی مطابقت میں اٹھارہ سال مقرر کر رکھی ہے تو لڑکے یا لڑکی کی شادی کا پیمانہ بھی اسی کو کیوں نہ بنایا جائے؟

عربوں میں بلوغت اگر پہلے ہو جاتی تھی یا ہو جاتی ہے تو لازم نہیں کہ ہم عرب کلچر کو ہو بہو کاپی کریں۔ جب میڈیکلی یہ چیز ثابت ہے کہ کچی عمر کی شادیاں کئی جسمانی عوارض یا پیچد گیوں کا باعث بن سکتی ہیں تو پھر اس پر اصرار کیوں کیا جائے؟مسئلہ محض جسمانی بلوغت کا نہیں ہے بالخصوص بچیوں کے معاملے میں ذہنی و شعوری بلوغت کی پختگی کا بھی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں جب مائیں بنتی ہیں تو یہ بڑی تکلیف دہ کیفیت ہوتی ہے۔ وہ بچیاں ابھی خود سنبھالے جانے کے قابل ہوتی ہیں چہ جائیکہ وہ آگے اپنی بچیوں یا بچوں کو سنبھال رہی ہوں۔ 18سال بھی کوئی بہت زیادہ عمر تو نہیں ہے کہ اس حد تک بھی صبر نہ کیا جائے۔

جو لوگ اس ایشو کو مذہب سے جوڑتے ہیں اور طرح طرح کی روایات لا رہے ہوتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ درویش بھی ریٹائرڈ مولوی کی حیثیت سے بڑی بڑی روایات لا سکتا ہے۔ مگر یہ کہ اس نزع یا بحث میں نہ ہی پڑا جائے تو بہتر ہے۔ اس بحث میں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ کیا آپ پچیس برس کی عمر میں ایک ایسی چالیس سالہ بیوہ سے شادی کرنا پسند فرمائیں گے جو دو خاوند دیکھ چکی ہو اور جس کے چار بچے بھی ہوں۔ اس نوع کے بیسیوں سوالات اٹھیں گے اور بات حق خیارالبلوغ سے ہوتی ہوئی بہت سی لونڈیوں اور غلاموں تک چلی جائے گی۔ سیدھی سی بات ہے کہ شادی ایک عقد یا کنٹریکٹ ہے اور معاہدہ دو بالغ فریقین میں ہی ہوتا ہے۔ اور دونوں کی باہمی رضا مندی سے ہی قائم بھی رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی ایک فریق اسے ختم چاہے تو طے شدہ شرائط کے مطابق اسے ختم بھی سکتا ہے۔

بلوغت کی جو عمر ہمارے ملکی قانون میں طے ہے، اس ایشو پر بھی اس کی پابندی لازم ہے۔ اسے خواہ مخواہ ایک مذہبی یا سیاسی رنگ دینا یا ایمانیات سے جوڑتے ہوئے اس نوع کے بیانات جاری کرنا کہ میں وزارت چھوڑ دوں گا یا اپنی سٹریٹ پاور کا گھمنڈ دکھاتے ہوۓ، مدارس کے طلبا کا استعمال کروں گا اور یہ نہیں ہونے دوں گا، ایسی مذہبی بلیک میلنگ اور دھمکیاں ایک قطعی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔

اگر آپ روایتی، مذہبی و تاریخی ضوابط کے اتنے بڑے علمبردار ہیں تو پھر دیکھیں قانونِ شریعت یا فقہ کا بڑا حصہ تو غلاموں اور لونڈیوں کے مسائل سے بھرا پڑا ہے۔ کیا ان پر عملدرآمد کی صورتیں بھی نکالیں گے؟ پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر چار چار بیبیاں بسانے کے مسائل اور مثالیں بھی موجود ہیں۔ کیا انہیں اپنانے کے لیے بھی اسی نوع کی بحثیں اٹھائیں گے؟ شرعی سزائیں بھی مقدس کتب میں موجود ہیں، کیا انہیں بالفعل لاگو کرانے کیلیے بھی پبلک پروٹیسٹ کی ایسی دھمکیاں دیں گے؟ بہتر ہے ان تنگناؤں میں الجھنے سے اجتناب کیا جائے۔

جہاں تک کسی غیر منتخب شخص یا ادارے سے رہنمائی لینے کا سوال ہے یہ بھی خواہ مخواہ کا ایک غیر ضروری فیشن بن گیا ہے۔ منتخب پارلیمنٹ پر کسی بھی غیر منتخب ادارے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اور نہ ہی ممبران پارلیمنٹ مخصوص آرا ماننے کے پابند ہیں وہ شخصی تفہیم یا عوامی مفاد میں کسی بھی پڑھے لکھے یا قابل شخص سے رائے لیتے ہوئے اپنی تحقیق یا تسلی کر سکتے ہیں، مگر فیصلہ انہیں بہر صورت وسیع تر عوامی یا قومی مفاد میں کرنا ہوتا ہے۔ درویش کی نظر میں تو نظریاتی کونسل جیسے غیر ضروری و لا یعنی، نان ایشوز میں الجھانے والے ادارے فی زمانہ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ اور قومی معیشت پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔ کسی بھی منتخب پارلیمنٹ جیسے ساورن ادارے کی اس سے بڑی تذلیل ہو ہی نہیں سکتی کہ اسے کسی غیر منتخب ادارے یا شخص کا مرہون منت بنانے کی کاوش کی جاۓ یا اس نوع کی کوئی سوچ پالی جائے۔ البتہ حکومتی اتحاد یا پارٹی کو چاہیے تھا کہ یہ ایشو پہلے اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں طے کر کے آگے لاتے کیونکہ سینٹ تو پہلے بھی اس کی منظوری دے چکی ہے۔

ہمارے روایت پرست تمام طبقات کو یہ اصولی موقف قابلِ فہم ہونا چاہیے کہ کئی قدیمی اسلامی ممالک، جیسے ترکی اور مصر ، میں شادی کے لیے عمر کی اٹھارہ سالہ حد پہلے سے موجود ہے۔ اور مصری مسلمانوں نے تو باقاعدہ الازہر یونیورسٹی کے ماہرین کی مشاورت سے یہ قانون تشکیل دے رکھا ہے۔ جبکہ ترکی ایک جمہوری اسلامی ملک ہے اور ان کی منتخب پارلیمنٹ نے عوامی مفادمیں یہ قانون سازی بہت پہلے سے کر رکھی ہے۔ یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ ہمارا مذہب کوئی جامد مذہب نہیں ہے، اس کا نظریہ اجتہاد بہت مضبوط اور وسیع تر ہے۔ اگر قوانین اور معاشرت کا علمی و فکری بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو ہم چودہ صدیوں میں ان گنت تغیرات سے گزرے ہیں۔ ابتدائی ادوار میں فقہی طور پر اس نوع کے تقاضے بھی مسلمہ حقائق خیال کیے جاتے رہے کہ حکمران ہونے کے لیے قریشی کی شرط لازم ہے یا بیعت کے حقدار محض اہل حل و عقد ہوںگے۔

فقہاۓ اسلام کی طرف سے جمہوریت کے بالمقابل بادشاہتوں کی حمایت میں شرعی دلائل بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف تو ابھی کل تک دھواں دار تقاریر ہوتی رہیں لیکن وقت کے ساتھ مسلم سوادِ اعظم شعوری طور پر آگے بڑھتا رہا اور آج تمام تر اجتہادی فیصلے اس قدر حاوی ہو چکے ہیں کہ روایتی الذہن لوگ بھی ان کی مخالفت کا یارا نہیں رکھتے ہیں۔ روایتی اپروچ کے حاملین کو چاہیے کہ وہ اس نوع کے مسائل و معاملات میں حنفیوں کے “نظریہ استحسان” اور مالکیوں کے “مصالح مرسلہ” کو پیش نظر رکھیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ جتنی زور آزمائی کم عمری کی شادی پر صرف کر رہے ہیں، اتنا زور جبری شادیوں کے خلاف دیں۔

ماڈرن جمہوری اقوام میں تو بوجوہ شادی کا ادارہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ جبری شادی تو ایک نوع کا ریپ ہوتی ہے۔ مگر افسوس یہاں پسند کی شادی پر اٹھنے والی غیرت قتل و غارت تک لے جاتی ہے لیکن اس کے خلاف اسلامی مدارس یا ان کی سٹریٹ پاور کیش کروانے والوں کا کوئی پروٹیسٹ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔