پاک ہند سیاست و صحافت کی گراوٹ

یہ درویش طویل برسوں بلکہ دہائیوں سے پاک ہند دوستی، بھائی چارے اور یگانگت کے لیے کام کررہا ہے۔ مگر حالیہ دنوں اس کے مشن کو جو گزند یا چوٹ پہنچی ہے وہ سیدھی سینے میں لگی ہے۔ دل دکھی و رنجیدہ، افسردہ و بھاری ہے، سو سنار کی پر ایک لوہار کی پڑی ہے۔

برسوں کی تپسیا سے جو کدورتیں صاف کی تھیں، لمحوں کا منافرت بھرا سیلاب بے دردی سے پٹخ کر سب کچھ بہا لے گیا ہے۔ بائیس اپریل سے تاحال جو کچھ بھی ہوا ہے، یہ سب ہونا نہیں چاہیے تھا۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ اب پہلا سوال یہ ہے کہ اس سب کا دوشی و مجرم کون ہے؟ جواب چنداں مشکل نہیں لیکن اس قدر تلخ اور اذیت ناک ہے کہ اسے برداشت کرنے کا یارا کسی میں بھی نہیں ہے۔ شکایات کے انبار ہر دو اطراف ہیں، بدگمانیوں اور تلخیوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔

درویش کا کام منافرتوں کی اس دو طرفہ آگ پر پانی ڈالنا ہے لیکن مجبوری و بے بسی یہ ہے کہ یہاں مخصوص مفادات کے تحت بھڑکائے گئے الاؤ پر پانی ڈالنے والے تو خال خال ہیں جبکہ بھڑکاؤ بھاشنوں سے جلتی پر تیل یا پٹرول چھڑکنے والے افراد اور ان کے ہجوم ان گنت ہیں۔ جو بات بے بات اپنی ازلی منافرتوں کی میل کو حب الوطنی کی پاکدامنی میں چھپاتے ہیں۔ مسلح ہتھیاروں سے لڑنے مرنے پر ایستادہ و آمادہ عسکری تو رہے ایک طرف ، خود کو ، جرنلسٹ، اینکر پرسن یا یوٹیوبر کہنے والے ہر دو خطوں کے پہلوان شاید عسکریوں پر بھی بھاری ہوئے پڑے ہیں۔ جھوٹی الزام تراشیاں کرتے ہوئے ایسی ایسی چھوڑ رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ان کی چھوڑی گندگی کے سامنے اسلحہ و بارودکی بدبو بھی ہلکی محسوس ہوتی ہے۔

درویش یہ سمجھتا چلا آرہا تھا کہ ہماری پاکستانی صحافت ہنوز ناپختہ ہے جو عالمی سٹینڈرڈ کی میچورٹی کو نہیں پہنچ پائی۔ اپنی غیر ذمہ دار صحافت اور اس کے جھوٹوں پر ہمیشہ سے کڑھتا چلا آرہا ہے۔ لیکن ”آپریشن سندور“ کے بعدہماری ہمسائیگی سے “میچور صحافت” کے جو ”نمونے“ یا نگینے ابھر کر سامنے آئے ہیں، انہوں نے جھوٹ اور بدتہذیبی میں شاید ہمارے بے لگاموں کو بھی مات دے دی ہے۔ ہماری جانب کے غیر ذمہ داران و صحافیان میں سے شاید ہی کسی نے یہ کہا ہو کہ دہلی اور ممبئی کو آگ لگا دو یا سب کچھ بھسم کرڈالو۔ لیکن دوسری طرف سے تو یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے بھینس اپنے بچے کو جنم دے رہی ہو اور دردِ زہ کٹے کو ہورہا ہو۔ اٹھ اٹھ کے زور لگارہے تھے۔ کراچی کو آگ لگا دو ۔سب کو بھسم کر ڈالو۔ ارے بھلے مانسو! منافرت کی ایسی آگ لگاتے اور بدزبانی کرتے ہوئے کچھ تو شرم کرو۔ منافرت اور دشمنی میں اس قدر تو نہ گر جاؤ۔

اور پھر جس طرح کہاجاتا ہے کہ عذرِ گناہ بدتر از گناہ، ساتھ بیٹھے ہوش و خرد والوں نے لعن طعن کرتے ہوئے شرم دلائی تو یہ دلیل لائے کہ کیا ہوا اگر ہم نے قومی مفاد میں اتنے بڑے بڑے جھوٹ بولے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے یہی کہا ہے نا کہ لاہور اور اسلام آباد میں ہماری سینا داخل ہوگئی ہے۔ یہ کون سی ایسی غلط بات ہوگئی ہے۔ پاکستان کے خلاف ہی جھوٹی بات کی ہے نا، اپنے دیش کے خلاف تو کوئی بات نہیں کی۔ عشق اور جنگ میں تو سب کچھ جائز ہوتا ہے۔

درویش ایسی صحافت اور حب الوطنی پر تین حروف بھیجتا ہے۔ جھوٹوں پر استوار حب الوطنی جائے جہنم میں۔ یار کمینگی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ انسان اتنا تو نہ گر جائے، آخر ہیومینٹی اور سچائی بھی کوئی چیز ہے۔ آپ دیانتدرای سے اپنے دیش کے مؤقف کو اگر درست سمجھتے ہیں یا بالمقابل ملک کے بیانیے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو دھرو راٹھی کی طرح تہذیب، دلیل اور سلیقے کے ساتھ تنقید ضرور کریں۔ بہتان لگاتے ہوۓ بلنڈر تو نہ چھوڑیں۔ ویسےسستی شہرت کے بھوکے ہماری طرف بھی کم نہیں جو راٹھی کے دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی صلاحیت سے تو عاری ہیں مگر بھڑوں کی طرح کاٹنے کو چڑھ دوڑ رہے ہیں۔ جرمنی میں بیٹھا وہ نوجوان اگر مودی اور اس کے گودی میڈیا پر چڑھائی کرے تب تو بہت اچھا، سچا کھرا اور باصلاحیت ہے لیکن اگر اتنک وادیوں کا کچا چھٹا سامنے لائے تو بہت برا ہے۔ بلکہ صحافی ہی نہیں ہے۔ کچھ یہی معاملہ اسد الدین اویسی کا ہے اگر وہ بی جے پی کے لتے لے تب تو پکا سچا مسلمان ہے۔ لیکن اگر آپ لوگوں کو آئینہ دکھائے اتنک واد کا کھرا ڈھونڈتے ہوۓ اس کا پوسٹ مارٹم کرے تو اس کی مسلمانی پر ہی سوالات اٹھانے شروع کردیے جائیں۔ عمر عبداللہ اگر اپنی مرکزی حکومت پر تنقید کرے تب تو بہت اچھا ہے لیکن اگر پہلگام میں ظلم و بربریت ڈھانے والے اتنک وادیوں کے خلاف تقریر کرے تو اپنے دادا شیخ عبداللہ کی طرح برا اور کٹھ پتلی ہے۔

اس تین یا چار روزہ جھڑپ کے دوران صحافتی لبادے میں چھپے منافرتوں کے بیوپاری اور اپنی “میں میں” کے جہادی و فسادی ہی ننگے نہیں ہوئے ہیں ہر دو اطراف کے بہت سے پولیٹیشن بالخصوص اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان لیڈران نے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ بڑے بڑے ایوارڈ اور تمغے بانٹنے والا خوشامدی چیری بلاسم ختم کرتے ہوئے اردلی بن کر جو بھی بول اور  کر تھا اس سے بھی زیادہ بھڑکاؤ مقابلے کی دوڑ میں بازی لے جانے اور خود کو زیادہ بہتر پالشیا و مالشیا ثابت کرنے کی دھن میں پانی اور خون کو ایک کرنے والا نفرت بھرے بھبھولے چھوڑ رہا تھا۔ ہندوستانیو! اگر تم ہمارا پانی روکو گے تو ان دریاؤں میں ہم تمہارا خون بہا دیں گے۔ لمحہ بھر کیلیے سوچیے اگر اس نوع کی زبان درازی کوئی ہمارے ساتھ کرے اور ہمارے ہی زیر کنٹرول خطے کے پانیوں سے مستفید بھی ہو رہا ہو تو اس پر ہمارا اسلامی ردعمل کیا ہو گا۔ پھر بھی ہندوتوا بری ہے اور مسلم توا اچھی ہے۔

اس کے بالمقابل دوسری جانب کی سیاست و قیادت نے بھی حد کردی ہے۔ کس معصومیت سے تقریر کر رہے ہیں کہ ہم نے تو محض اتنک وادیوں کا حال احوال پوچھا تھا مگر تم لوگوں نے تو بھارت پر ہی حملہ کردیا۔ یعنی وہ یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ وہ ادھر بارود پھینکیں گے تو جواب میں پھولوں کی مالائیں بھیجی جائیں گی۔ کیا وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی اتنک وادی تنظیمیں اس قدر شتر بے مہار ہیں کہ ہمارے طاقتور بھی ان کے سامنے بےبس ہیں۔ ہماری سینا کو کمزور سمجھنا آپ کی غلطی ہے، جو اب واضح ہو گئی ہو گی۔ آپ بھی تجاہل عارفانہ سے کام لینے والے کیا بھولے بادشاہ ہیں۔ کس ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ تیسرے فریق کا اس فائر بندی میں کوئی رول نہیں ہے۔ ذرا کھل کر بولیے بلکہ وائیٹ ہاؤس فون ملاتے ہوئے پوچھیے کہ اے میرے لنگوٹیے متر ٹرمپ تو ہماری فائر بندی کے اس کرتبے کا کریڈٹ کیوں لے رہا ہے جو تونے کیا ہی نہیں؟ فائربندی تو اپنے آپ ہوگئی تھی یا ہم نے خود ہی کرلی تھی تو کیوں آٹھویں بار ہماری تذلیل کررہا ہے؟

حکمرانی پر براجمان بی جے پی آخر کیوں ایسے جھوٹ پر تلی بیٹھی ہے؟ آپ کا اتنا مہنگا رافیل گرا ہے یا پانچ اور گرے ہیں تو حقائق کا اعتراف کھلے بندوں کرنے سے کیوں  کترا رہے ہو؟ پاکستان کو آپ لوگوں نے کیا ریت کی دیوار سمجھ رکھا تھا؟ اٹھتے بیٹھتےکیوں گیدڑ بھبھکیاں دیتے ہو؟ راھول گاندھی کے سارے سوالات غلط نہیں ہیں۔ اگر آپ لوگ اپنی جنتا کو سہانے سپنے دکھاتے ہوۓ بیوقوف بنانے کے لیے بھڑکاؤ بھاشن دیں گے یا غلط بیانیاں کریں گے تو پھر تلخ حقائق سامنے آنے پر سبکی بھی اٹھانی پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ فارن سیکرٹری سے جتنی بھی تردیدیں کرائی گئی ہیں، بالآخر جے شنکر کو امریکی رول کا اعتراف کرنا پڑا ہے۔ یہ کہتے ہوۓ کہ جب جنگی ماحول بنتا ہے یا جھڑپیں چھڑتی ہیں تو دوست احباب پریشان ہوتے ہیں اور وہ فریقین پر فائر بندی کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں جیسے کہ ٹرمپ، سعودی عرب اور امارات جیسے دوستوں نے کیا۔ آپ لاکھ کہیں کہ ہم تھرڈ پارٹی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے لیکن یہ ایک مہمل اور فیک دعویٰ ہے۔

مودی جی! آپ سوچیے آپ کی اتنی عزت بنی ہوئی تھی، اتنا بھرم تھا آپ کا، جسے خود آپ نے اپنے بھڑکاؤ بھاشنوں سے اس قدر خراب کرلیا ہے کہ جس روز آپ نے آپریشن سندور کیا درویش کے منہ سے یہ سوال نکلا کہ کیا اب آپ کی پاپولیریٹی کے زوال کا آغاز ہوگیا ہے؟ آپ سوچیں کہ اب جتنا بھی اتنک واد ہوا ہے، کارگل اس سے چھوٹی گھٹنا تو نہ تھی آپ کو گاندھی اور نہرو سے نہ سہی اٹل بہاری واجپائی کے تدبر سے ہی سیکھ لینا چاہیے تھا۔ کارگل جیسے بڑے خون آلود اتنک واد کے بعد واجپائی جی چاہتے تو جوابی طور پر لائن آف کنٹرول پار کرسکتے تھے۔ ذرا سوچیے انہوں نے ایسے کیوں نہ کیا؟ اس ایک سوال میں سب جوابات مل جائیں گے۔