سموکنگ: راحتِ جاں یا عذابِ جاں
- تحریر ارشد رضوی
- منگل 27 / مئ / 2025
عالمی ادارہ صحت ایک عرصے سے ٹوبیکو کنٹرول یعنی تمباکو پہ قابو پانے کی کوششوں میں سر گرداں ہے۔ اس کارِ خیر میں اس کے شریکِ کار دنیا کے 194ممالک بھی ہیں جن کا مالی تعاون اور مدد اسے حاصل ہے۔
اب کچھ عرصے سے بعض ادارے، تنظیمیں، اور افراد عالمی ادارہئ صحت سے بھی چار قدم آگے بڑھتے ہوئے’اینڈ سموکنگ‘ یعنی سگریٹ کے مکمل خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی انسانی صحت کے لئے سمِ قاتل ہے اور یہ کہ اس شوقِ عاشقاں سے پاکستان میں سالانہ 91.1 فی ایک لاکھ انسانی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔’ان سب‘ کا غم تسلیم مگر انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ اگران سب کی بات مانتے ہوئے ٹوبیکو پہ مکمل کنٹرول کر لیا جائے اور سموکنگ کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے تو قومی معیشت کو کتنا نقصان پہنچے گا۔ اور بے روزگاری جو پہلے ہی عروج پہ ہے، کا خون خوار دیو کتنے پاکستانیوں کو مزید ہڑپ کر لے گا۔ تمباکو پیدا کرنے والے زمیندار و کسان سے لے کر تمباکو کے کھیتوں میں محنت مزدوری کرنے والوں، فیکٹری مالکان اور مل مزدوروں، سگریٹ کے ٹرانسپورٹروں سے لے کر سگریٹ فروشی کے تھوک و پرچون دکانداروں تک بے روزگاروں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو کسی بھی حکومت، حتیٰ کہ ’عوام دوست‘ حکومت کو بھی ناکوں چنے چبوا دے گی۔
چلو مان لیتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت اور سموکنگ کے خاتمے والوں کو عوام کی صحت کی بہت فکر ہے اورانہیں سگریٹ نوشی سے مرنے والوں کا غم ستائے رکھتا ہے تو اس کاکیا کِیا جائے کہ پاکستان میں ہر سال کینسر سے ایک لاکھ 18 ہزار(118,000) لوگ مر جاتے ہیں اور ٹریفک حادثات میں سالانہ 27 ہزار 582 (عالمی ادارہئ صحت کے مطابق) لوگ موت کی خاموش وادی کے مسافر بنتے ہیں۔ کیا یہ سب انسانی قیمتی جانیں نہیں ہوتیں؟ ان 27 ہزار582 قیمتی جانوں کو بچانے کی فکر کسی حکومت کی ترجیح کیوں نہیں بنتی حالانکہ یہ بھی ووٹر ہوتے ہیں۔
سوچنے کی یہ بات بھی ہے کہ سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان اگر اپنے اور ملازمین کے حق کے لئے عدالت سے رجوع کریں تو ممکن ہے کہ ٹوبیکو کنٹرول اور کی صداؤں کے خلاف اور فیکٹری مالکان اور ملازمین و مزدوروں کے معاشی حق میں عدالت فیصلہ صادر فرما دے۔ پاکستان کے تمام سگریٹ ساز کارخانوں کے مالکان اس مقصد کے لئے ایک خصوصی اتحاد اور فنڈ قائم کرلیں تاکہ اپنے مقدمے کی پیروی کے لئے قابل سے قابل اور مہنگا ترین وکیل ہائیر کر سکیں۔
یہاں ایک سابقہ سموکر کا کہانی نما انٹرویو کا تذکرہ بر محل لگتا ہے::
سوال: آپ نے سگریٹ پینا کب چھوڑا اور کیوں؟ نہیں پہلے یہ بتائیں آپ نے سگریٹ پیناکب شروع اور کیوں؟
سابقہ سموکر: آپ کا سوال دو حصوں پر مبنی ہے۔ میری مرضی ہے کہ کس حصے کا جواب پہلے دوں اور کس کا جواب بعد میں۔ میرے خیال کے مطابق لوگوں، خصوصاً سگریٹ نوشی کرنے والوں کو اس چیز میں زیادہ دلچسپی ہوگی اور ہونی بھی چاہیے کہ میں نے سگریٹ پینا کیوں چھوڑا۔ آپ میرے اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں۔
جی آپ بات کیجئے۔
سابقہ سموکر: دیکھیں جی سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ جو بندہ سگریٹ چھوڑنا چاہتا ہے اُ س کے لئے یہ بنیادی شرط ہے کہ وہ سگریٹ پیتا ہو۔
یہ کیا بات ہوئی! ظاہر ہے وہی سگریٹ نوشی چھوڑے گا جو سگریٹ پیتا ہے۔
سابقہ سموکر: اوہوں۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اب فرض کیجئے ایک شخص کے ہاتھ میں سگریٹ ہے جو سُلگا ہوا نہیں ہے۔ اسے کوئی دوسرا آدمی یا عورت کہتی ہے یہ بُری چیز ہے اسے چھوڑ دو۔ وہ کہتا ہے کیوں چھوڑوں۔ یہ بال پوائنٹ جدید ترین بال پوائنٹ ہے۔ میرا ایک دوست چائنا سے لایا ہے۔ اسی نے مجھے گفٹ دیا ہے۔ اس لئے پس ثابت ہوا کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ بندہ باقاعدہ سگریٹ پیتا ہو۔
اچھا اب آپ بتائیں کہ آپ نے سگریٹ پینا کب اور کیوں چھوڑا؟
سابقہ سموکر: گو آپ کا سوال ایک بار پھر دو حصوں پر مبنی ہے تاہم میں آپ کے سوال کے آخری حصے کا جواب پہلے دوں گا۔ ہمیں کھانسی، جو کہ معمولی چیز ہے، ہوئی اور بڑھتی چلی گئی۔ پھر سانس بھی پھولنے لگا اور کھانسی، خصوصاً رات کے وقت زیادہ ہونے لگی۔ سانس لیتے ہوئے بعض اوقات گلے سے خرخر کی آوازیں بھی شامل ہونا شروع ہو گیا گویا
اب دردِ شُش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
اب کیا ہو اب تو نیند کو آ جانا چاہئے
آپ نے تو شاعری شروع کر دی
سابقہ سموکر: اچھا یہ بتایئے دردِ شُش کا مطلب کیا ہے؟
مجھے نہیں معلوم
سابقہ سموکر: پھیپھڑوں میں درد کی تکلیف کو کہتے ہیں عموماً نمونیا کے باعث یہ درد سانس لینے سے پھیپھڑوں میں ہوتا ہے۔ تو ہم کہہ رہے تھے کہ کھانسی سانس کا پھولنا اور گلے سے خر خر کی آواز کا نکلنا، باعث تکلیف ہوتا گیا اور سگریٹ نوشی کرتے رہے۔ ذوق نے تو یہ شراب کے بارے میں کہا تھا: چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔۔۔ یار لوگوں نے سگریٹ نوشی کو شراب نوشی سے ملا دیا ہے۔
سگریٹ نوشی ہمارے خیال میں نشے سے زیادہ ایک عادت ہے، لت ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ سگریٹ نشہ نہیں ہے۔ ماہرینِ صحت اور سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ میں، جب اسے سُلگاتے ہیں تو دھوئیں میں سات ہزار کے قریب کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں بعض انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ ایک چیز نکوٹین بھی ہے جو سگریٹ پینے والے کواس لت میں مبتلا کرتی ہے۔
لیکن یہ بتائیں آپ نے سگریٹ نوشی ترک کیسے کی؟
سابقہ سموکر: میں نے کوئی 62-63 برس سگریٹ پیا ہے۔ ایک دم تو یہ کافر جان نہیں چھوڑتی۔۔۔ اک ذرا صبر۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا نکوٹین کا کام یہی ہے کہ سگریٹ نوش کے کان میں سرگوشی کرتی رہے ’لگے رہو میاں‘۔ اس کے علاوہ یہ صحت کے لئے کوئی خاص نقصان دہ نہیں ہے۔ اسی لئے سگریٹ نوشوں میں یہ بات مشہور ہے کہ سگریٹ چھڈنا کیڑا کم اے، میں کئی وار چھڈے نیں (سگریٹ نوشی ترک کرنا کونسا بڑا کام ہے، میں نے خود کئی بارسگریٹ پینا چھوڑا ہے)۔ یہ تو مذاق کی بات ہوئی سچ یہی ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا بہت مشکل اور اتنا ہی آسان ہے۔ مشکل اس لئے کہ یہ عادت بھی ہے اور نشّہ بھی۔ نکوٹین کا تو کام ہی یہ ہے کہ سگریٹ نوش کو سگریٹ نوشی کی عادت اپنائے رکھنے پر اُکساتا رہے۔ آسان ایسے ہے کہ سگریٹ نوشی سے تائب ہونے کی ٹھوس وجہ کا ہونا از بس ضروری ہے۔ جیسے زندگی رسک پہ آ جائے۔ محبوب اور سگریٹ نوشی میں کسی ایک کا چناؤ کرنا پڑے۔ ماں، بیوی اور/یا بیٹی کا بے حد اسرار۔ اور سب سے بڑھ کے سگریٹ نوش کا مصمم ارادہ، جو سب سے اہم ہے یعنی قوتِ ارادی۔
آپ نے کس دباؤ یاقوتِ ارادی کے تحت سگریٹ نوشی ترک کی؟
سابقہ سموکر: دباؤ بھی اور قوتِ ارادی بھی۔ دباؤ بیگم کا اور ڈاکٹر کا یہ کہنا کہ یہ سگریٹ پینا نہیں چھوڑے گا البتہ سگریٹ اسے چھوڑ دے گا۔
اس کے بعد خود سے یہ سوال: ’ تم اپنی بیوی اور بچوں سے واقعی محبت کرتے ہو؟‘ بظاہر یہ احمقانہ سوال نظر آتا ہے مگر سنجیدگی سے غور طلب ہے۔ بیوی سے محبت کا دم بھرنے والے بچوں کے ہوتے ہوئے بھی پل بھر میں چار حرف کہہ دیتے ہیں۔ بحر حال مجھے اس سوال کا خود کو جواب دینے میں تقریباً ایک ہفتہ لگا۔ کم و بیش ایک ہفتہ بعد جواب ملا کہ ’ہاں میں محبت کرتا ہوں‘۔ اور ساتھ ہی میں نے خود سے کہا اگر محبت کرتے ہو تو سگریٹ نوشی ترک کر دو۔ اور سگریٹ پینا چھوڑ دیا۔
سچ یہ ہے کہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ تک باقاعدہ سگریٹ نوشی کے باوجود سگریٹ چھوڑنے کے بعد کسی بھی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا گو میں نے بھی کئی بار سگریٹ نوشی چھوڑی تھی۔ رات بھر کے لئے۔