’گولی‘ میں دم ہوتا تو مودی الفاظ کے نشتر نہ چلاتے
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 27 / مئ / 2025
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی پراشتعال، انسانیت سوز اور کسی بھی بڑے لیڈر کے مرتبے و مقام سے گری ہوئی تقریر کی ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو تشدد پر اکسایا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ، ورنہ میری گولی تو ہے ہی‘۔
یہ ہتک آمیز اور سفارتی آداب سے گری ہوئی باتیں ، ایک ایسے موقع پر کی جارہی ہیں جب پاکستانی وزیر اعظم نے تسلسل سے بات چیت کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان معاملات طے کرنے کی پیش کش کی ہے۔ 10 مئی کو صدر ٹرمپ کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بند ہوگئی تھی۔ امریکہ نے اس موقع پر واضح کیا تھا کہ دونوں ملک جنگ بندی کے علاوہ اب بات چیت کے ذریعے باہمی تنازعات حل کریں گے۔
اس حوالے سے امریکی حکام نے تعاون کی پیش کش بھی کی۔ اسی تناظر میں حکومت پاکستان متعدد بار مذاکرات کے ذریعے اختلافات و مسائل حل کرنے کی بات دہرا چکا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جامع مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کشمیر، پانی کی تقسیم ، تجارت و دہشت گردی سمیت سب معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ یہ مہذب اور مناسب طریقہ ہے۔ وزیر اعظم اس حوالے سے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں مذاکرات منعقد کرنے کے بارے میں اشارہ بھی دے چکے ہیں۔ یہ امکان موجود ہے کہ درپردہ سفارتی ذرائع سے اس حوالے سے کچھ پیش رفت بھی ہورہی ہو لیکن امریکی دباؤ کے باوجود بھارتی حکومت فی الوقت 10 مئی کو اٹھائی گئی خفت سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
ایک طرف وزیر خارجہ جے شنکر یورپی ممالک کے دورے میں پاکستان کو دہشت گرد قرار دے کر ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف متعدد پارلیمانی وفود کو مختلف ممالک میں اسی مقصد سے روانہ کیے جارہے ہیں۔ یہ اسی بھارت کا نیا رویہ ہے جو پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات میں کسی دوسرے ملک کی بات سننے اور ثالثی کو تہمت قرار دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ دنیا کسی حد تک اس کے اس گھمنڈ کو قبول بھی کرتی رہی ہے۔ لیکن 10 مئی کی جھڑپوں اور پاکستان کے ساتھ ہونے والی چار روزہ جنگ نے بھارت کا پرانا ’سحر‘ زائل کردیا ہے۔ قبل ازیں ایک تو بھارت کو بڑا اور وسیع وسائل کا حامل ملک ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں چین کے مد مقابل ملک سمجھا جانے لگا تھا۔ امریکہ تو بھارت کو باقاعدہ چین کے ساتھ نہ صرف تجارتی و تزویراتی مقابلے بلکہ عسکری چیلنج کے طور پر تیار کررہا تھا لیکن مئی کے شروع میں پاکستان کے خلاف جارحیت اور اس کے جواب میں پاکستانی کارروائی کے بعد بھارت کا یہ تاثر ہوا ہوچکا ہے۔ اب دنیا کا کوئی ملک اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہے کہ بھارت برصغیر میں غیر متنازعہ عسکری طاقت ہے۔
اس نئی صورت حال سے ایک تو بھارت کے دیرینہ حلیف ممالک صورت حال کا ازسر نو جائزہ لینے پر مجبور ہیں۔ فرانس رافیل طیاروں کی تباہی پر بھارتی فضائیہ کے ساتھ باقی ماندہ طیاروں کا معائنہ کرکے ان وجوہات تک پہنچنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے یہ طیارے بھارتی دفاع کا مقصد پورا نہ کرسکے۔ مغربی ممالک نئے حالات میں اپنی سفارتی ترجیحات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں ہے کہ برصغیر کی بات کرتے ہوئے پاکستان اور اس کی ضرورتوں یا نقطہ نظر کو نظر انداز کیا جاسکے۔ دوسری طرف واشنگٹن میں بھی پریشانی کی کیفیت محسوس کی جاسکتی ہے۔ اگرچہ واشنگٹن نے ابھی تک پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کسی پالیسی شفٹ کا اشارہ نہیں دیاہے لیکن نریندرمودی جیسے مغرور اور منہ پھٹ لیڈر اور نرگسیت کا شکار بھارتی حکومت کے لیے صدر ٹرمپ کا یہ اعلان بھی بہت بڑا دھچکا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرائی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ صدر ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ دہراتے ہوئے پاکستان کا ذکر بھارت کے ساتھ ہی کرتے رہے ہیں۔ جبکہ بھارتی لیڈر بزعم خویش پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ کر خود کو دنیا کی سپر پاور کے برابر سمجھنے لگے تھے۔ لیکن ان کا یہ دعویٰ 7 سے 10 مئی کے دوران پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں درست ثابت نہیں ہؤا۔
پاکستان کے ساتھ ناکام مڈھ بھیڑ کے بعد بھارت کے مغربی حلیف تو پریشان ہیں لیکن خطے کے سب ممالک جن میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال وغیرہ شامل ہیں، کافی حد تک اطمینان محسوس کررہے ہیں۔ اب انہیں لگتا ہے کہ انہیں کسی ’علاقہ بدمعاش‘ سے نجات مل گئی ہے جو موقع بے موقع ہر چھوٹے ملک پر اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بھارتی لیڈر اس نئی صورت حال کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے ۔ لیکن اس کا کوئی متبادل بھی ان کے بس میں نہیں ہے۔ یعنی پاکستان کے خلاف ایک نئی عسکری کارروائی کی کوشش میں کامیابی کا خواب دیکھنا۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی فوج جو پہلے بھی نریندر مودی کی حکومت سے قومی سلامتی کے امور کو سیاسی طور سے استعمال کرنے سے گریز کا مشورہ دیتی رہی اور پاکستان پر حملہ کرنے کے خلاف تھی، اب کسی صورت ایسی کسی نئی مہم جوئی کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ مودی حکومت پاکستان کے ساتھ ہونے والی جنگ میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر رہی ہے۔
بھارتی حکومت خواہ کامیابی کے جتنے بھی دعوے کرلے لیکن دو معاملات اس کی ناکامی پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک تو بار بار سوال کرنے کے باوجود بھارتی حکومت یہ بتانے پر آمادہ نہیں ہے کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں فضائیہ کے کتنے طیارے ضائع ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عسکری مہارت کا ڈھونگ رچانے والے بعض عناصر نے تو پاکستانی نقصان کا اربوں ڈالروں میں حساب لگا کر میڈیا پر پیش بھی کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ انہیں بھارت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانا چاہئے تھا۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت ابھی تک یہ ماننے پر آمادہ نہیں کہ 7 مئی کو پاکستان پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ بھارت کی خواہش ہے کہ دنیا اس کے اس دعوے کو سچ مان لے کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے لیکن پہلگام کے جس سانحہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا ہے اس کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔ اسی لیے ہر دارالحکومت میں بھارتی نمائیندوں سے یہی پوچھا جاتا ہے کہ ایک بے بنیاد الزام پر جنگ شروع کرنا کیوں ضروری تھا۔
پاکستان کو بھارت کے برعکس نہ صرف عسکری لحاظ سے بلکہ سفارتی طور پر بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ بھارت اپنی ذبردست عسکری قوت کے باوجود پاکستان کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا سکا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی تسلیم کی جارہی ہے کہ پاکستان کی عسکری کارروائی دفاع کے لیے استعمال ہوئی تھی جبکہ بھارت جارحیت کا مرتکب ہؤا تھا۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھی قابل غور سمجھا جانے لگا ہے کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے اور روزانہ کی بنیاد پر انتہا پسند گروہوں سے نبرد آزما ہے۔ بلوچستان میں ہونے والے تشدد کے بارے میں شواہد بھی دنیا کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں جس میں بھارت کے عمل دخل کا ثبوت موجود ہے۔
پاکستان امن کی بات کررہاہے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتا ہے لیکن بھارتی حکومت کا مؤقف غیر واضح اور تضادات کا شکار ہے۔ ابھی تک سرکاری طور سے بات چیت سے انکار نہیں کیا گیا لیکن اس پر آمادگی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اس شش و پنچ کی وجہ حکمران طبقے کی سیاسی مجبوریاں ہیں لیکن اسی الجھن کی وجہ سے بھارت دنیا کے سامنے ایک ہٹ دھرم اور مشکل ملک کے طور پر سامنے آرہا ہے جو اس کے ’شائیننگ انڈیا‘ کے تصور سے بالکل متضاد ہے۔
جنگ میں شکست کے بعد نریندر مودی کو کسی معقول لیڈر کے طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفی دینا چاہئے تھا تاکہ ملک آگے بڑھ سکتا اور پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد مستقبل کا کوئی منصوبہ بنایا جاسکتا۔ اس کا ایک اشارہ صدر ٹرمپ دیتے رہے ہیں کہ لڑائی کی بجائے تجارت پر توجہ مبذول کی جائے۔ لیکن نریندر مودی اپنے زخم چاٹتے ہوئے مسلسل بھارتی عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور انہیں جنگ میں ’شاندار کامیابی‘ کے گمان میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہندو انتہا پسندانہ نعروں کے ذریعے بھارت جیسے بڑے ملک کو مذہبی گروہ بندی اور نفرت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ گجرات میں نریندر مودی کی تقریر اسی مزاج کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کسی ثبوت کے خلاف پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہاں کی حکومت دہشت گردی سے دولت کما رہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا اور تشدد پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
ان کا یہ فقرہ کہ ’سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ، ورنہ میری گولی تو ہے ہی‘، بھارتی وزیر اعظم کی شکست خوردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر وہ بارود سے پاکستان کو دبا سکتے تو لوگوں سے جھوٹ بول کر انہیں گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ نریندر مودی کو غلط فہمیوں کے ’غبارے‘ سے باہر نکل کر ہوشمندی سے مسائل کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے کی طرف آنا چاہئے ورنہ بھارت میں جو آگ بھڑکا ئی جارہی ہے ، وہ خود انہیں جلاکر راکھ کردے گی۔