اسرائیلی حملے ضرورت سے بہت زیادہ ہیں: یورپین یونین

  • بدھ 28 / مئ / 2025

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کیلس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملے حماس سے لڑنے کے لیے ضروری حد سے بڑھ گئے ہیں۔ کیونکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کاجا کیلس نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ امداد کی تقسیم کے نئے ماڈل کی حمایت نہیں کی جو اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کو نظر انداز کر کے کی جا رہی ہے۔ ’ہم انسانی امداد کی تقسیم کی نجکاری کی حمایت نہیں کرتے۔ انسانی امداد کو ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔‘

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مارچ میں جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع کرنے کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں 3924 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کو تباہ کرنے اور گروپ کے زیر قبضہ یرغمالیوں کو واپس لینے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

اسرائیل کی حالیہ بمباری میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے ہیں۔ گزشتہ جمعے کو خان ​​یونس میں ایک فضائی حملے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر کے 10 بچوں میں سے نو جاں بحق ہو گئے تھے۔  پیر کی رات شمالی غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی ایک سکول کی عمارت میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے۔

کیلاس کے ریمارکس کے بعد جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے مقاصد کو  سمجھ پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے شہری آبادی متاثر ہوئی ہے، حماس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

یورپی یونین غزہ کے لیے انسانی امداد کے سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود کاجا کیلس نے کہا کہ ان کا زیادہ تر حصہ فی الحال فلسطینیوں تک نہیں پہنچایا جا رہا ہے، جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ اسرائیل نے مارچ میں غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی اور صرف 11 ہفتوں کے بعد ہی محدود امداد کی اجازت دینا شروع کی تھی۔