باغی اور ملک دشمن کے ساتھ ایسا سلوک؟
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 28 / مئ / 2025
پاکستان کے سیاسی منظر پر عمران خان ایک اہم فیکٹر کے طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ 9مئی کے سانحہ کے بعد سے وہ پابندِ سلاسل ہیں۔ ریاست انہیں مجرم گردانتی ہے کیونکہ 9مئی کو ان کے چاہنے والے ریاست پر حملہ آور ہوئے تھے۔
منظم طریقے سے ریاست کے خلاف بغاوت برپا کی گئی،چن چن کر ریاست کے نشانوں اور اثاثوں پر حملہ کیا گیا انہیں برباد کیا گیا،نذرآتش کیا گیا۔ جنگ کی صورت پیدا کی گئی بغاوت کی گئی، یہ الگ بات ہے کہ ریاست نے بالغ النظری کا ثبوت دیا، ری ایکشن نہیں کیا۔ باغیوں کے پلان کے مطابق انہیں لاشیں نہیں مل سکیں۔ بغاوت انقلاب کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ انقلاب لانے کی کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ عمران خان کے حواری دواری باغی قرار پائے۔ ریاست اپنے باغیوں سے نمٹ رہی ہے، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں مصروف ہے۔
دوسری طرف سیاست ہے۔ عمران خان جاری سیاست کے بارے میں ایک موقف رکھتے ہیں۔ طبقہ اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ اور طبقہ حکمرانیہ کے بارے میں ان کا موقف واضح ہے۔ بھٹو زرداری خاندان اورشریف خاندان کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی و خاندان ولی خان کے بارے میں وہ جو کچھ فرماتے رہے ہیں وہ ہم سب جانتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ شریف و زرداری خانوادوں کے سوا باقی لوگوں کے بارے میں وہ اپنی رائے عملاً تبدیل کر چکے ہیں لیکن شریفوں کے بارے میں وہ ابھی تک یکسو ہیں۔ سیاستدان 9مئی کے حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتے، وہ اسے ایک عمومی سی غلطی مانتے ہیں ۔ وہ عمران خان کے ساتھ سیاسی اشتراک عمل کے لئے بھی تیار ہیں۔ عمران خان، آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں کیا کیا نہیں کہتے رہے،اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے الیکشن 2024 کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو سیاسی تعاون کی پیشکش کر دی تھی یہ الگ بات ہے کہ عمران خان نے اس پیشکش کو برے طریقے سے رد کر دیا تھا اس کے بعد پیپلزپارٹی کے پاس کوئی دوسرا آپشن بچا ہی نہیں تھا کہ وہ ن لیگ کے ساتھ مل جائے۔
مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی مولانا کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ دونوں صورتوں میں مولانا ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ اپوزیشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی مولانا کے ساتھ مل کر یا مولانا کو ساتھ ملا کر احتجاجی تحریک چلانا چاہتی ہے تاکہ مقتدرہ کو دباؤ میں لا کر مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے اور اس طرح عمران خان کی رہائی کی کوئی سبیل ہو سکے۔ لیکن سردست ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا، لیکن جاری مذاکرات کے نتیجے میں ایک بات ثابت ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے، اس کا سیاست میں ایک مقام ہے، ایک کردار ہے جسے اگنور نہیں کیا جا سکتا۔ ن لیگ کبھی کبھی پی ٹی آئی پر تنقید کرتی ہے۔ 9مئی کے واقعات کے حوالے سے بھی بات کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے مذاکرات کی دعوت بھی دیتی ہے۔ گویا ن لیگ بھی پی ٹی آئی کو ایک سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور 9مئی بس ایک واقعہ کے طور پر لیتی ہے۔
یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کو بتایا اور سمجھا یا جا سکے کہ 9مئی اور عمران خان اور9مئی اور پی ٹی آئی کے حوالے سے ہمارے ہاں جو تضاد پایا جاتا ہے وہ ہمیں کمزور کررہا ہے۔ ریاست پر حملہ، انقلاب برپا کرنے کی ناکام کاوش بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ ریاست اپنے باغیوں سے جو سلوک کرتی ہے، وہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ پاکستان 250ملین نفوس پر مشتمل ایک بڑا ملک ہے جس میں تحریک انصاف ایک ایسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ عمران خان کے مانتے اور چاہنے والے تمام حدود کراس کر کے ایسے مقام تک جا پہنچے ہیں جو قابل قبول نہیں۔ جنرل عاصم منیر دشمنی میں فوج کے خلاف اور شریف و زرداری دشمنی میں ملک کے خلاف کام کرتے کرتے یہ لوگ بہت آگے جا چکے ہیں ۔ان کا طرز فکر و عمل قطعاً سیاسی نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں جنرل نعیم لودھی کے حوالے سے مفاہمتی کاوشوں کی بات سامنے آئی تھی کہ جنرل صاحب نے اپنے تئیں عمران خان کو معافی تلافی دلانے کے لئے، مفاہمت کرانے کے لئے جیل میں عمران خان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ذمہ داران کی اجازت سے ہوئی، جس میں عمران خان کو آٹھ شرائط پیش کی گئیں جن میں سے پانچ منظر عام پر آئیں تین ابھی تک صیغہ راز میں ہیں۔ پہلی شرط 9مئی کے واقعات پر معافی مانگنا ہے۔ دوسری شرط عمران خان بتائیں کہ ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ کون چلاتا ہے۔ تیسری شرط 1971 کے واقعات کے متعلق فلم کس نے بنائی اور کس نے اپ لوڈ کی۔ چوتھی شرط۔ عمران خان اپنی پارٹی میں موجود کرپٹ لوگوں کو فارغ کریں ایسے لوگ جو قوم کے اربوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں ان کی سرپرستی ختم کی جائے اور انہیں پارٹی سے نکال باہر کیا جائے۔ پانچویں شرط۔ عمران خان جن افراد یا شخصیات کے بارے میں مختلف قسم کے الزامات لگاتے رہے ہیں یا تو ان الزامات کے ثبوت پیش کرکے ان الزامات کو ثابت کریں نہیں تو الزامات واپس لینے کا اعلان کریں۔ عمران خان نے ان میں سے کسی شرط کا جواب نہیں دیا۔ گویا انہوں نے نہ کہہ دی ہے۔
یہ ملاقات 14/15مئی کو ہوئی تھی۔ آج کے اخبارات میں عمران خان صاحب کا بیان ’ٹارچر کرلیں، ساری زندگی جیل میں رکھ لیں، جھکوں گا نہ غلامی تسلیم کروں گا‘ چھپا ہے۔ انہوں نے پارٹی کو بڑی تحریک چلانے کی تیاری کی کال بھی دے دی ہے۔ گویا کسی قسم کی مفاہمت ممکن نظر نہیں آ رہی، ریاست اس عمل (9مئی کے واقعات) کو بغاوت سمجھتی ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی نے اس ایکٹ کو منظم طریقے سے نافذ العمل کیا۔ عمران خان اور ملوث بہت سے لوگ جیلوں میں ہیں کچھ کو سزا بھی مل چکی ہے۔ لیکن عمران خان اس حوالے سے ڈٹے ہوئے ہیں گو ان کی پارٹی تتربتر ہو چکی ہے۔ پارٹی کسی قسم کی احتجاجی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن ووٹرز سپورٹ تو انہیں حاصل ہے۔فروری 2024کے انتخابات میں ووٹرز نے جس طرح پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزا دامیدواران کو جتوایا وہ بھی حیران کن ہے۔ عمران خان کا جیل میں صبرو استقامت کا مظاہرہ بھی حیران کن ہے۔ دوسری طرف عمران خان کا باغی پن اور پی ٹی آئی کے لوگوں کی ملک دشمن اپروچ بتدریج اہمیت کھو رہی ہے۔ پبلک یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا باغیوں سے مذاکرات کی کاوشیں کی جاتی ہیں، کیا ملک دشمنوں کو سیاسی میدان میں کھلا چھوڑا جا سکتا ہے کیا انہیں شہری حقوق دیئے جاتے ہیں۔
ہماری صحافت میں ہر روز اولین موضوع عمران خان اور پی ٹی آئی ہوتا ہے۔ پیشی کے مواقع پر عدالت کے باہر ایک تھیٹر لگتا ہے۔ بیان بازی ہوتی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ کوئی نادیدہ طاقت یہ سب کچھ منظم کررہی ہے جبکہ نظر آنے والی قوت بھی اس عمل میں ممدو معاون کرتی دکھائی دیتی ہے۔ عوام کنفیوژ ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)