کیا جمہوریت خطرے میں ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 28 / مئ / 2025
حال ہی میں پاکستان پر بھارت کی طرف سے مسلط کی ہوئی جارحیت کے نتیجہ میں ہونے والی جنگ کے بعد ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیاجاتا ہے کہ ان جھڑپوں میں فوج کی کامیابی اور اسے ملنے والی عوامی تائید اور سرکاری ہمدردی کے بعد ملک میں جمہوری نظام حکومت کے لیے خطرات میں اضافہ ہؤا ہے۔
اس بارے میں مختلف خیال آرائیاں کی جارہی ہیں۔ بعض مایوس عناصر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اب جلد یا بدیر فوج بالواسطہ طور سے حکومت کی رہنمائی کرنے کی بجائے براہ راست عنان اقتدارسنبھال لے گی اور مارشل لا نافذ کردیاجائے گا۔ اس قیاس کی تائید کرنے والوں کا خیال ہے کہ ملک میں جمہوری یا منتخب حکومت پہلے ہی کمزور تھی کیوں کہ کسی ایک پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اور عہدوں و مفادات کے لیے سیاسی پارٹیوں میں کھینچا تانی ہورہی تھی۔ اس کے علاوہ شہباز شریف کی حکومت پر دھاندلی زدہ انتخابات میں اقتدار تک پہنچنے کا الزام بھی عائد ہوتا رہاہے۔ ان حالات میں اب فوج اقتدار پر براہ راست قبضہ کرکے ملک کو یک جہتی سے معاشی بحالی کی منزل کی طرف بڑھانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ملک میں خواہ نام نہاد جمہوریت ہی ہو لیکن اس کے ہوتے بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اسے کسی نہ کسی حد تک انہیں پورا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ماضی قریب میں تحریک انصاف تمام تر مشکلات اور پابندیوں کے باوجود سیاسی احتجاج کا راستہ اختیار کرتی رہی ہے۔ عمران خان کی طرف سے موصول ہونے والے اشاروں میں ایک بار پھر ملک گیر تحریک شروع کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ حالانکہ ایک تو ملکی معیشت پہلے ہی کمزور ہے ، اس پر مستزاد یہ کہ جنگ کے اخراجات کی وجہ سے ملکی خزانے پر دفاعی اخراجات کی مد میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی عناصر استحکام کی بجائے انتشار و احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے تو کوئی جمہوری حکومت اس کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ اور نہ ہی ملک ایسی بے یقینی کا متحمل ہوسکتا ہے۔ ان حالات میں فوج کے لیے براہ راست اقتدار سنبھالنا آسان رہے گا۔
فوجی حکومت کی وجہ سے سیاسی احتجاج کا سلسلہ کافی مدت کے لیے رک جائے گا۔ اس کے علاوہ شہباز حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان یاتحریک انصاف فوجی حکومت سے براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرے گی۔ عمران خان متعدد بار اشارے دے چکے ہیں کہ وہ سیاسی پارٹیوں کی بجائے براہ راست فوج یا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف واضح کرتی رہی ہے کہ اسے سیاسی معاملات میں فوج کے کردار پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے البتہ وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو کسی نام نہاد ہائیبرڈ نظام کے ذریعے اقتدار دینے کے سخت خلاف ہے۔ ملک میں فوجی حکومت آنے سے تحریک انصاف کو اطمینان ہوجائے گا کہ اب اسے کسی اگلے مرحلے میں سیاسی معاملات میں شریک کرلیا جائے گا۔ یوں ملک میں سیاسی سکون بحال ہوسکے گا جو ملک کی ترقی، معاشی بحالی اور بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔
تاہم یہ دلائل دینے والے اس بحث کے بعض دوسرے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایک تو یہی کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھی پاکستان کو عالمی سطح پر جو سفارتی کامیابی ملی ہے ، اس کی بنیادی وجہ اگرچہ پاکستان کا اصولی مؤقف اور امن کی واشگاف خواہش کا اظہار تھا لیکن دنیا میں پاکستان کے نقطہ نظر کو قبول کرنے کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ ملک میں جمہوری حکومت کام کررہی ہے۔ یہ بحث کی جاسکتی ہے کہ وزیر اعظم کے پاس کتنے اختیارات ہیں یا وہ کس حد تک آرمی چیف کے فیصلوں کے محتاج ہیں لیکن ملک میں منتخب پارلیمنٹ کام کررہی ہے اور شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی اکثریت نے منتخب کیا ہے۔ تحریک انصاف نے موجودہ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن تمام تر پروپیگنڈا، مہم جوئی اور لابنگ کے باوجود کوئی ملک بھی یہ ماننے پر آمادہ نہیں ہؤا کہ پاکستان میں جمہوری نظام کام نہیں کررہا ۔ البتہ اس میں نقائص کی نشاندہی ہوتی رہی ہے لیکن انگلیاں تو دنیا کی کسی بھی جمہوریت پر اٹھائی جاسکتی ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔
اگر یہ دلیل مان لی جائے کہ ملکی فوج ہی اس وقت کل معاملات کی نگران ہے اور موجودہ حکومت محض کٹھ پتلی ہے، پھر بھی اس کی جمہوری فیس ویلیو سے پاکستان کو عالمی سطح پر بہت فائدہ ہورہا ہے۔ فوج کبھی نہیں چاہے گی کہ ایک ایسے وقت جب اسے بھارت کی طرف سے جارحیت کا براہ راست چیلنج درپیش ہے، ملک میں جمہوری نظام ختم کرکے ایک نیا محاذ کھول لیا جائے۔ اور سفارتی سطح پر بھارت کے خلاف رائے ہموار کرنے کی بجائے پاکستان کی ساری صلاحیتیں اس بات پر صرف ہونے لگیں کہ ملک میں فوجی حکومت کیوں ضروری تھی اور جلد ہی سیاسی نظام بحال کردیا جائے گا۔ اس حوالے سے موجودہ عسکری قیادت کے طرز عمل کو بھی پیش نظر رکھنا اہم ہوگا ۔ اس کی طرف سے ملکی اقتدار پر قبضہ کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا جاتا۔ بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد جب آئی ایس پی آر کے سربراہ دنیا بھر کے میڈیا کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے متعدد معاملات پر یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کیا کہ یہ حکومت کا دائرہ اختیار ہے اور اس بارے میں وزارت خارجہ ہی بہتر جواب دے سکتی ہے۔
فوج کی سیاست میں دلچسپی اور سیاسی معاملات پر دسترس کی بات کرتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ فوج بطور عسکری اکائی بعض اہداف حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس حوالے سے یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ گزشتہ دو دہائی کے دوران رونما ہونے والے حالات پچاس ، ستر یا اسّی کی دہائی کے دوران حالات و واقعات سے قطعی مختلف ہیں۔ ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیا الحق اور پرویز مشرف یقیناً یا تو شخصی اقتدار کے خواہاں تھے یا ملک میں اپنی مرضی کا سیاسی نظام مسلط کرنا چاہتے تھے۔ لگتا ہے کہ اب وہ مزاج تبدیل ہوچکا ہے۔ فوجی قیادت کے رویہ میں اس تبدیلی کی وجہ سے ہی نام نہاد ہائیبرڈ نظام کا تجربہ کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد وہی تھا جو کسی زمانے میں پرویز مشرف کا نصب العین تھا ۔ یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا خاتمہ کردیا جائے۔ اسی لیے تحریک انصاف کو اقتدار میں پہنچانے کے لیے سہولت کاری کی گئی۔
عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد سٹبلشمنٹ نے اگر مسلسل انتخابی عمل کو مینیج کرنے کا طریقہ اختیار کیا تو اس کی سب سے بڑی وجہ اپریل 2022 کی عدم اعتماد تحریک کے بعد تحریک انصاف کا جارحانہ اور اشتعال انگیز رویہ تھا جس کا نقطہ عروج سانحہ 9 مئی کی صورت میں پیش آیا۔ تحریک انصاف اس کے بعد بوجوہ درست سیاسی حکمت عملی اختیا رنہیں کرسکی جس کی وجہ سے فروری 2024 کے نتائج مشکو ک ہوگئے۔ مشکو ک نتائج کی وجہ سے ہی محسوس کیاجانے لگا کہ ملک میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے۔ اس مرحلے پر اگر سیاسی لیڈر باہمی اختلافات بھلا کر ملک میں جمہوری نظام مستحکم کرنے کے لیے کام کرنے کا عزم کرتے تو فوج خواہش کے باوجود ان کا راستہ نہ روک پاتی۔ فوج کو اگر اس دوران سیاسی طاقت حاصل ہوئی تو اس کی وجہ ملکی سیاسی پارٹیوں کی ناکامی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ فوج کے ہوس اقتدار کا اس میں عمل دخل دکھائی نہیں دیتا۔
بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد پیدا ہونے والے منظر نامہ میں بہت کچھ تبدیل ہؤا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ تحریک انصاف کمزور ہوئی ہے اور دعوؤں کے باوجود شاید وہ اب ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس تبدیلی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شہباز حکومت ’غیر نمائیندہ‘ ہونے کے باوجود مضبوط ہوئی ہے۔ اسے نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی سطح پر بھی قبولیت مل رہی ہے۔ اسی تصویر کا تیسرا پہلو فوج کی مقبولیت و ضرورت ہے۔ پاکستانی عوام پر بہت حد تک واضح ہوگیا ہے کہ بھارت جیسے دشمن کی موجودگی میں پاکستان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے ۔ محض سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے فوج کومطعون کرنے سے سیاسی آزادی یا جمہوریت نہیں مل سکتی۔
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ موجودہ نظام کو کس حد جمہوری کہا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس نظام کو چلنے دیا جائے اور سیاسی پارٹیاں اقتدار کے لیے فوج کی طرف دیکھنے کی بجائے باہمی افہام و تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کریں تو دھیرے دھیرے معاملات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔ اس وقت سب سے اہم یہ ہونا چاہئے کہ 2029 میں آئیندہ انتخابات منعقد ہوں اور تمام سیاسی پارٹیاں ان میں حصہ لے سکیں ۔ یہ مقصد سیاسی پارٹیوں کے درمیان بات چیت اور کسی معاہدے ہی کے نتیجے میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔