پاک، ترک، ایران اور سعودی تعلقات

ان دنوں ہماری عسکری و سیاسی قیادت کن محرکات پر اظہار تشکر کیلیے سہ ممالک ترکیہ ایران اور آذربئیجان کا دورہ کر کے لوٹی ہے، اس کے پس پشت حقائق اور اشارے تو تھوڑے عرصے بعد سب کے سامنے آ جائیں گے۔ بظاہر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مشکل میں ساتھ دینے پر شکریہ تو بنتا تھا لیکن کیا یہ کہنا بھی بنتا تھا کہ ہم ایرانی نیوکلئیر پروگرام کے حامی ہیں؟

فی الوقت یہ ایک قابل بحث معاملہ ہے جس سے ہماری خارجہ پالیسی کا محور تبدیل ہو سکتا ہے۔ بالخصوص ان حالات میں جب اس ایشو پر امریکا اور ایران کے حساس مذاکرات بذریعہ عمان یا خلیجی قیادت آخری مراحل میں ہیں اور امریکی نیوکلیئر حوالے سے ایران کو کوئی گنجائش دینے کیلیے تیار نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان اور انڈیا کا ’ڈنر‘ بھی امریکی نگرانی میں شاید یہیں عربستان میں شروع ہونے کو ہے۔ قابل توجہ یہ امر ہے کہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں مفاداتی ٹکراؤ کی صورت توازن کیسے قائم رکھ پاۓ گا؟ کیا وہ سمندر سے گہری دوستی کی خاطر عالمی سپر پاور کے بالمقابل کھڑے ہو پاۓ گا۔ اس صورت جو معاشی بندشیں آئیں گی ان کا سامنا کرنے کی سٹریٹیجی کیا ہوگی؟

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کی اہمیت روز اول سے بے مثال رہی ہے۔ سمندر سے گہری ہمالہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی کی مثال کسی اور ملک کے لئے نہیں۔ سعودی عرب کے لئے ہونی چاہیے بلاشبہ اس کی اولین وجہ حرمین شریفین سے پاکستانی عوام کی والہانہ محبت و عقیدت ہے، جن کی کسٹوڈین سعودی کنگڈم ہے۔ اور پھر او آئی سی کی قیادت بھی شروع سے سعودی عرب کے پاس ہے۔ یوں تمام عرب اور مسلم ممالک سعودی عرب کو احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ سرد جنگ کے دور سے پاکستان امریکی کیمپ کا اہم حصہ بن کر جو رول ادا کرتا چلا آ رہا ہے، اس میں سعودی عرب کی معاونت لمحہ بہ لمحہ اسے حاصل رہی ہے۔ سعودی کنگڈم کے قیام سے  لے کر اس کی قیادت کے امریکا سے جو قریبی مراسم رہے ہیں، پاکستان ان سے ہمیشہ مستفید ہوا ہے۔ اگر کبھی امریکا سعودی تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا ہے تو اس کے اثرات بھی ہم تک ضرور پہنچے ہیں۔

سعودی عرب کو اپنی جنوبی سرحد پر یمن کے حوثی باغیوں کی صورت جو ایشو یا چیلنج درپیش ہے، پاکستان اس مسئلے یا جنگ کا حصہ بنے بغیر حرمین شریفین کا دفاع کرنے کے لئے ہمہ وقت حاضر و دستیاب رہا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں جب تناؤ یا بگاڑ کی صورتحال پیدا ہوئی اور نواز شریف دور میں ہماری پارلیمنٹ نے اس نوع کی قرار داد منظور کی کہ پاکستان کسی بھی ایسے تنازع میں غیر جانبدار رہے گا، اس سے وقتی طور پر ہمارے تعلقات میں سرد مہری آئی مگر اس بدگمانی پر جلد قابو پا لیا گیا۔

ہماری سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں بھی کچھ اس نوع کی رنجشیں سامنے آئیں جن کا پس منظر جاننے کے لئے ہمیں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں میانہ روی و اعتدال پسندی جیسی بنیادی اقدار کو سمجھنا ہو گا۔ سعودی عرب اس وقت عالمی سطح پر مسلم ورلڈ کو لیڈ کر رہا ہے لیکن اس کی اپروچ کسی بھی حوالے سے متشدد یا شدت پسندی پر مبنی نہیں ہے۔ اگرچہ ایران یا شیعہ سنی پس منظر میں سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر سعودی عرب اس وقت بھی معتدل پالیسی کا حامل ہوا کرتا تھا جب ایران میں نئے جوش و خروش کے ساتھ خمینی کا انقلاب برپا ہوا تھا۔ اور عالم عرب میں قذافی کے ساتھ یاسر عرفات کی آوازیں بھی شدت پسندی کے ساتھ شامل ہو جاتی تھیں۔

سعودی عرب اگرچہ ہمیشہ فلسطینی کاز یا حقوق کا سب سے بڑا سہارا رہا ہے لیکن اس کی سوچ کبھی بھی ان شدت پسندوں کی ہمنوائی میں نہیں رہی جو نتائج کی پروا کئے بغیر یہ نعرے لگاتے تھے کہ اسرائیل کوصفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ کچھ اس سے ملتی جلتی سعودی اپروچ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی کہی جا سکتی ہے۔ سعودیوں نے کشمیری عوام کے دکھوں میں ہمیشہ ان سے اظہار ہمدردی و یکجہتی ضرور کیا ہے لیکن اس خطے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے نعروں سے ہمیشہ لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

معاشی لحاظ سے بلاشبہ انڈیا بڑی عالمی مارکیٹ ہے جسے ترقی کی طرف گامزن کوئی بھی قوم نظر انداز نہیں کر سکتی۔  وہاں مسلم آبادی بھی کم نہیں ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں جس قدر پاکستانی موجود ہیں، ان سے زیادہ انڈین بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں سعودی اپروچ اور پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے، ان حوالوں کو نظر انداز نہیں کرناچاہیے۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے سابق وزیر خارجہ نے او آئی سی میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کے حوالے سے سعودی عرب پر کھلے بندوں جو تنقید کی، ظاہر ہے اس سے ہمارے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثرات ہی پڑنے تھے سو پڑے۔

علاوہ ازیں ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات کی بھی ایک طویل تاریخ اور تاریخی پس منظر ہے۔ عثمانی خلافت یا استبداد کے خلاف بغاوتیں کرتے ہوئے ہی موجودہ عرب ممالک نے آزادیاں حاصل کی تھیں۔ موجودہ ترک قیادت خود کو جس طرح سلطنت عثمانیہ کے وارث کی حیثیت پیش کرتی ہے اور اس نوع کے ڈرامے بنوا کر اپنے زیر اثر خطوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش میں ہے۔ سعودی اگر اس صورت حال کو شک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں یا او آئی سی کے لئے اسے خطرناک خیال کرتے ہیں تو یہ سب حقائق ہمارے لئے قابل فہم ہونے چاہئیں۔ جن دنوں ملائیشیا میں مہاتیر محمد ترکی اور ایران کی معاونت سے امہ کی دردمندی میں اجلاس بلا رہے تھے۔ اس میں سعودی عرب کو قطعی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ سعودی دوستی اور گہرے تعلقات کا تقاضا تھا کہ ہم بھی سعودی بھائیوں کو اعتماد میں لئے بغیر اس میں شرکت کے وعدے نہ کرتے۔ مسلم ممالک کی بھاری اکثریت اس نوع کے اجلاسوں سے الگ تھلگ رہی تھی جبکہ ہم ایک طرف سعودیوں کو مختلف النوع یقین دہانیاں کروا رہے تھے۔ دوسری طرف امہ کے کاز کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلامی مشن کا چینل چلانے کے لئے دوسری لائنیں بھی اختیار کر رہے تھے۔

ان دنوں ہم نے جس نوع کے پینترے بدلے ان کی تفصیلات میں جائیں تو یہ کسی طرح بھی سفارتی پختگی اور ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی کی غمازی نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات میں سرد مہری سے بھی بڑھ کر ایک نوع کا تناؤ آ گیا۔ جس سعودی کراؤن پرنس نے ہمیں اپنا طیارہ دیتے ہوئے نیویارک بھیجا تھا، تلخی اس حد تک بڑھ گئی کہ خرابی کا بہانہ کرتے ہوئے وہی طیارہ نیو یارک سے ریاض واپس منگوا لیا گیا حتیٰ کہ سعودی عرب نے ہماری معاشی معاونت کے لئے جو رقم دے رکھی تھی اس میں سے ایک ارب ڈالر واپس مانگ لئے۔

مقام حیرت ہے کہ اس صورتحال کو سنبھالا دینے کے لئے جو رول سیاسی قیادت کا بنتا تھا،  وہ عسکری قیادت سرانجام دے رہی تھی۔ اس سیاسی نااہلی کے بالمقابل یہاں ان کی ستائش بہرحال بنتی ہے جنہوں نے سعودی قیادت سے تمام بگڑے ہوئے معاملات درست کئے۔ انہوں نے سعودی کراؤن پرنس کو یقین دہانی کروائی کہ کسی بھی صورت میں ہم حرمین شریفین کا دفاع یقینی بنائیں گے اور آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ سابق امریکی صدر مڈل ایسٹ سے متعلق جو پالیسیاں لے کر چل رہے تھے، موجودہ صدر ٹرمپ نے ان میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جن سےسعودی عرب کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔

یہ تبدیلی حوثی باغیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے حوالے سے بھی ہے۔ یوں سعودی عرب نے بدلے ہوئے حالات میں پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات میں زیادہ نرمی کا مظاہرہ کیا ، جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ سعودی عرب سے ہمارے دیرینہ تعلقات کی نہ صرف تجدید ہو گی بلکہ پاک ہند تعلقات میں بہتری لانے کے لئے متحدہ امارات کے ساتھ مل کر سعودی عرب مثبت رول ادا کرے گا۔ لیکن تہران میں میں ہم جس نئی گیم کے اشارے دے کر آۓ ہیں، کیا ہم نے اس حوالے سے اپنے اس مہربان کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی ہے یا معاملہ کھلاڑی حکومت کی طرح ایک مرتبہ پھر اسی ڈگر پر جانے والا ہے۔

پاکستان کہنے کو ایک ایٹمی طاقت ہے لیکن ہماری شدت پسندانہ خارجہ پالیسیوں، منتقمانہ سیاسی و قومی اپروچ اور معاشی بد حالی نے ہمیں دنیا میں ایک خیراتی یا بھک منگا کی نئی پہچان بخش رکھی ہے، جسے ہم اپنے سرکاری پروپیگنڈے اور عسکری طاقت سے دباتے رہتے ہیں۔ جبکہ نئے علوم وفنون اور سائنسی ترقی کی راہوں کو چھوڑ کر انڈسٹریلائزیشن کرنے کی بجائے کھوکھلے پروپیگنڈے کی پالیسی کا نتیجہ بالآخر خراب نکل سکتا ہے۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔