جنونیت کا جواب جنونیت نہیں
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 31 / مئ / 2025
ان دنوں انڈین اور پاکستانی میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کا دنگل بپا ہے گویا سیلاب آیا ہوا ہے۔ کسی کو اس امر کی ہوش نہیں کہ اس سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی اس پاگل پن یا نفرت کے بیوپار میں شریک نہیں ہو رہا، ان کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے وہ محب وطن ہی نہیں۔
ہمسائے کے خلاف زہر اگلنے کے حوالے سے درویش کو ہمیشہ اپنوں سے شکایات رہی ہیں مگر اب کی بار مودی سرکار نے تو کوئی کسر اُٹھائے نہیں رکھی۔ پورے تسلسل سے ایسی بیان بازی کی ہے جس سے انڈیا کا شائننگ امیج دھندلا کر رہ گیا ہے۔ عوامی جلسے میں پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے تازہ ارشاد فرمایا ہے کہ ”سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔ “ آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہوئے بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی انڈین پرائم منسٹر اس نوع کی بھاشا بھی بول سکتا ہے۔ اس موقع پر انڈیا کے پہلے پردھان منتری پنڈت جواہر لعل نہرو یاد آئے جن کا حال ہی میں یومِ وفات منایا گیا ہے۔ ان سے جب یہ کہا گیا کہ آپ پاکستان کے خلاف ہیں۔ بولے پاکستان تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ میرے وجود کا حصہ ہے۔ میں بھلا اس کے خلاف کیسے ہوسکتا ہوں۔
جدید ہند کے باپو مہاتما گاندھی یاد آئے جو مسلمانوں کو بچانے کی تگ و دو میں آخری حد تک چلے گئے۔ پاکستان کو کسمپرسی کے خطرناک ترین حالات میں پچیس کروڑ کی خطیر رقم دلواتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔ متشدد قاتل کا عدالتی بیان ہے کہ جب ہندوؤں کا قتل عام کیاجارہا تھا ان حالات میں بھی گاندھی مسلمانوں اور پاکستان کی حمایت میں آخری حدیں پار کررہے تھے، جس کی پاداش یا رنجش میں میں نے گاندھی کی جان لےلی۔
ہندوستان کے کتنے پردھان منتری آئے ہیں، کانگریسی بھی اور غیر کانگریسی بھی، کبھی کسی نے بدترین جنگی ماحول میں بھی کم از کم پاکستانی عوام کا ذکر کرتے ہوئے اس نوع کے متشدد شبد نہیں بولے ہیں۔ مودی جی! خود آپ کے اپنے بزرگ بی جے پی کے پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپائی نے کارگل جیسی بدترین گھٹنا ہونے کے باوجود جوابی طور پر بھی نہ کوئی ایسا قدام اٹھایا نہ ایسے زہریلے شبد بولے۔ وہ جوابی طور پر کنٹرول لائن کراس کرتے ہوئے اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے تھے مگر ایسا کچھ نہیں کیا۔ صرف نوازشریف کو فون کال کرتے ہوئے احساس دلایا کہ میں تو لاہور یاترا پر امن اور دوستی کے لیے گیا تھا آپ لوگوں نے یہ کیا کر ڈالا؟
کسی پاکستانی یا ہندوستانی کو پرائم منسٹر واجپائی کے یہ الفاظ کیسے بھول سکتے ہیں جو انہوں نے مینارِ پاکستان پر کھڑے ہوکر نوازشریف کی موجودگی میں ادا کیے تھے یہ کہ دوست تبدیل ہوسکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے۔ مجھے کہا گیا کہ مینارِ پاکستان پرمت جائیے کہ اس طرح پاکستان پر ہماری مہر لگ جائے گی۔ میں نے جواب دیا کہ پاکستان پہلے ہی ہماری مہر کے بغیر چل رہا ہے۔
درویش کو یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان میں اپنے مخصوص مفادات کی خاطر اقتدار کے کئی بھوکوں نے بونگیاں مارنے اور منافرتیں بھڑکانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ یہاں ایسے ایسے تماش بین بھی ہو گزرے ہیں جو انڈیا سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بڑھکیں لگایا کرتے تھے۔ ”کرش انڈیا“جن کے سلوگن تھے اور آج بھی ان کی لیگیسی اسی نفرت میں پروان چڑھتے ہوئے ہندوستانیوں کا خون بہانے اور ان کی سانسیں بند کردینے کی نعرے بازی کرتی سنائی دیتی ہے۔ لیکن ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو پاکستانی یا ہندوستانی عوام میں جانکاری رکھنے والا کوئی بھی شخص جنگ یا جنگی جنون کا حمایتی نہیں ہے۔ ہر باشعور پاکستانی یا انڈین کو اپنے معاشی مسائل اور دکھوں کا ایشو درپیش ہے۔ یہ صرف کرسی اقتدار کے حریص، بھوکے تعلی باز ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر منافرتوں کے الاؤ بھڑکاتے ہیں اور پھر ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے جنونیت کو اس سطح تک لے جاتے ہیں، جہاں امن اور دوستی کی بات کرنا بھی غداری یا حب الوطنی پر حملہ قرار پائے، یہی وہ فضا ہے جس میں ایسی مفاداتی ذہنیتوں کی ہر دو اطراف موجیں لگی ہوئی ہیں۔
پاکستانی جنونیوں سے زیادہ گلہ اس درویش کو مودی جی ! آپ سے ہے۔ آپ نے بہتر حکمت عملی اور سیاسی تدبر کی بجاۓ غصے میں یہ کیا بگاڑ کھڑا کردیا ہے۔ اور پھر اس بھڑکاؤ ماحول کو روز بروز مزید بھڑکاتے چلے جارہے ہیں۔ بارود اور گولیوں کی دھمکی دیتے ہوئے آپ سوچیں آپ خود کو ہمارے والے پپو کے لیول پر لے آئے ہیں۔ جنونیت کے جواب میں اگر کوئی اسی طرح کی جنونیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو پھر آپ میں اور دوسرے میں فرق کیا ہوا؟ مانا کہ پہلگام میں اتنگ واد ہوا ہے لیکن کیا یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے؟ جنونی ذہنیتوں نے تو اس کا آغاز پارٹیشن سے بھی پہلے شروع کردیا تھا ۔ کیونکہ ان کا مفاد اسی میں تھا۔ سنتالیس اور پھر اڑتالیس میں جو کچھ ہوا تھا، وہ کیا تھا؟
مابعد جنونیت اور اتنک واد کی پیہم ایک پوری تاریخ ہے۔ کیا اندھیرا اندھیرے کو یا ظلم ظلم کو ختم کر سکتا ہے؟ کیا نفرت کا جواب نفرت ہوتا ہے؟ یا اس سے مزید نفرت پلتی ہے؟ کیا آپ نے اپنے حالیہ اقدامات اور بیانات کے ذریعے ہندوستان کا وقار عالمی سطح پر داؤ پر نہیں لگادیا ہے؟ ہندوستانی دھرم، امن پسندی کے حوالے سے، پوری دنیا میں جس کی توصیف کی جاتی ہے، اس درویش جیسے لبرل لوگ ہندو کی وسعتِ قلبی و نظری کی برسرعام مداح سرائی کرتے چلے آرہے ہیں، آپ نے ہمیں کسی جوگا نہیں چھوڑا ہے۔
کوئی شک نہیں کہ پہلگام سانحہ ایسا دکھ بھرا اور اذیت ناک ہے جس میں بالخصوص ہندوؤں کی تخصیص کرتے ہوئے ان بے گناہ معصوم انسانوں کو مارا گیا۔ اس سانحہ کے بعد جس طرح نہ صرف عالمی سطح پر پوری دنیا میں بھارت کے ساتھ ہمدردی کی زبردست لہراُٹھی تھی، بلکہ پاکستان میں بھی عوامی سطح پر اتنک وادی ذہنیت کے خلاف مضبوط سوچ ابھر رہی تھی۔ سب نے دیکھا خود انڈین کشمیر میں ہندوؤں سے ہمدردی کے کیسے کیسے واقعات ہوئے۔ لوگ سڑکوں پر رو رہے تھے۔ شیخ عمر عبداللہ چیف منسٹر کی حیثیت سے اسمبلی میں دردانگیز نالے بیان کررہے تھے۔ مگر آپ نے جس نوع کا نفرت انگیز جوابی ردعمل دکھایا، اس سے پورا منظرنامہ ہی بدل کر رہ گیا۔ یہاں انڈین حمایت میں تشکیل پاتی رائے عامہ یک لخت اس کے الٹ یا برعکس ہوگئی۔ جس لشکر طیبہ اور جیش محمد کے لیے پاکستانی عوام میں کام کرنا مشکل ہورہا تھا، یکایک لوگ ان سے اظہارِ ہمدردی کرنے لگے۔ پاکستان میں عسکری حکمرانی کے خلاف اچھی خاصی اپروچ مستحکم ہورہی تھی مگر آپ کے ناعاقبت اندیش اقدامات و بیانات سے یہاں عسکریت پلک جھپکتے مقدس قرار پائی۔ تمام شہروں کی سڑکوں پر بڑے بڑے ہولڈنگز چھاگئے۔ تمغے اور اعزازات ان کی بھینٹ چڑھائے جانے لگے۔
مجھ درویش جیسے لوگوں کو جو پاکستان میں آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کے علمبردار ہیں۔ جو عسکریت کی بجائے سویلین اتھارٹی کی بحالی کے لیے سرگرداں ہیں، آپ نے نہتے کردیا۔ اور مسلح لوگوں کو مزید طاقتور بناتے ہوئے جمہوری آواز کا گلا گھونٹ ڈالا۔ عالمی سطح پر بھی آپ نے اپنے دوستوں کو امتحان میں ہی نہیں مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ وہ امریکی قیادت جو اٹھتے بیٹھتے آپ کے گن گاتی اور قصیدے پڑھتی تھی، اس کی گنگا الٹی بہنے لگی۔ آپ کے مغربی و یورپی اتحادی آپ سے ناالاں ہوگئے۔ سب سے بڑھ کر مسلم ورلڈ میں جس تیزی سے انڈیا کا وقار بڑھ رہا تھا، اُسے بدترین دھچکا لگا۔
سب کچھ ہوتے ہوئے، آج دنیا میں کوئی ملک سوائے اسرائیل کے کھل کر آپ کی حمایت میں زبان کھولنے کو تیار نہیں ہے۔ ٹرمپ کی طرح ہر ایشو پربیان بازی کرنے کی بجاۓ حکمت عملی کے ساتھ بہتر سفارت کاری کی سٹریٹیجی کو اپنائیں، احتجاجی وتیرے کی بجائے، ان کی غلط فہمیاں دور کریں خود اندرونِ ملک بھارت میں سنجیدہ طبقہ دن رات جس نوع کے سوالات اٹھارہا ہے، سچ تو یہ ہے کہ بشمول آپ پوری بی جے پی حکومت کے پاس انہیں فیس کرنے کا یارا نہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو درویش کو دکھتا ہے کہ عام انڈین شہری طویل مدت سے آپ پر جو اعتماد کرتے چلے آ رہے ہیں نہ صرف وہ متزلزل ہو جاۓ گا بلکہ ایک نوع کی انارکی کا بھی احتمال ہے۔
حالات اگر بڑی جنگ کی طرف گئے تو پھر اس خوبصورت تہذیبی خطے میں کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔