غزہ میں امداد لینے کیلئے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر فائرنگ، 36 شہید، 120 زخمی
اسرائیلی افواج نے جنوبی غزہ میں ایک امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز پر جمع ہونے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 36 افراد شہید اور 120 زخمی ہو گئے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی اور وسطی غزہ میں امریکی امدادی تقسیم کے مراکز پر جمع ہونے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کو اس وقت ’دنیا کا سب سے زیادہ بھوکا مقام‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انسانی امداد کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹیں کھڑی کی جانے والی مہم بن چکی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ رفح میں امدادی مرکز پر فائرنگ کے واقعے سے لاعلم ہے۔ اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر انگریزی میں جاری ایک بیان میں کہا کہ وہ فی الحال ان زخمیوں سے لاعلم ہیں جو امداد کی تقسیم کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی یا شہید ہوئے، واقعے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی غزہ پر جاری جنگ کے دوران اب تک کم از کم 54 ہزار 381 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کی حکومت کے میڈیا دفتر نے بتایا ہے کہ شہدا کی تعداد 61 ہزار 700 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہزاروں افراد جو ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، انہیں مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں حکومت کے میڈیا دفتر نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل نے رفح میں ایک امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز پر حملہ کرکے کم از کم 22 افراد کو شہید اور 115 کو زخمی کر دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شہدا کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے امدادی مقامات پر پچھلے ایک ہفتے کے دوران شہدا کی تعداد کم از کم 39 ہو گئی ہے۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد 220 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ شہادتیں ’ان علاقوں کی حیثیت کو انسانی امداد کے مراکز کے بجائے ’موت کے جال‘ کے طور پر ظاہر کرتی ہیں۔
ہم پوری دنیا کو تصدیق کے ساتھ بتاتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ امداد کا ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہے، جس کا مقصد بھوکے شہریوں کو بلیک میل کرنا اور انہیں جان بوجھ کر ایسے کھلے مقامات پر اکٹھا کرنا ہے جہاں انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ مقامات قابض فوج کے زیر انتظام اور نگرانی میں ہیں۔ اور ان کی مالی معاونت اور سیاسی سرپرستی قابض حکومت اور امریکی انتظامیہ کر رہے ہیں جو ان جرائم کی مکمل اخلاقی اور قانونی ذمہ دار ہیں۔
دریں اثنا سعودی عرب کے وزیر خارجہ، شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، غزہ کی پٹی پر جاری جنگ اور محاصرے کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اردن پہنچے ہیں۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب اسرائیلی حکام نے اس ہفتے کے آخر میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں عرب وزرا کے وفد کو دورہ کرنے سے ہونے سے روک دیا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی، اسٹیو وٹکوف، کی پیش کردہ تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ بیان میں حماس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اس تجویز کو مسترد کر رہی ہے، حالاں کہ فلسطینی گروپ نے کہا ہے کہ وہ اس پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم حماس نے کچھ شرائط بھی رکھی ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم واضح کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کو 600 سے زائد دن گزرنے کے بعد، اسرائیل کے کچھ قریبی اتحادیوں نے اس کے اقدامات کی مذمت کرنا شروع کر دی ہے۔ عالمی بیانیے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ، اسرائیل میں بھی نیتن یاہو حکومت کی جنگی حکمت عملی کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت میڈیا کی کوریج میں جھلکنے لگی ہے، جس سے وہ اتفاق رائے ٹوٹنے لگا ہے جو 7 اکتوبر 2023 سے قائم تھا۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے علاوہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم سرکیئراسٹارمر نے نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے نسل کشی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مغرب کی خاموشی اس کی ساکھ ختم کر دے گی۔