بچپن میں شادیوں کے لیے ملاؤں کی مہم جوئی

مولانا فضل الرحمان اور دیگر ممتاز مذہبی لیڈروں نے ملک  میں بچوں کی شادیوں  کی ممانعت کرنے والے قانون کی مخالفت کی ہے۔ اب جمیعت علمائے اسلام (ف)  نے خیبر پختون خوا میں بچوں کی شادیوں کے ’حق ‘ کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان  کیا ہے۔

 واضح رہے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی 17 مئی کو   قومی اسمبلی سے قانون منظور ہونے کے بعد اس قانون کی مخالفت کی تھی اور صدر  آصف زرداری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس پر دستخط نہ کریں۔ البتہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے  اس بل کے بارے میں رائے دینے والے مولانا جلال الدین کا تعلق بھی جمیعت علمائے اسلام (ف) سے ہی ہے۔  دو ہفتے قبل قومی اسمبلی کے منظور کردہ قانون کے تحت اسلام آباد کے وفاقی علاقے میں بچوں میں شادیوں کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا تھا۔ اس میں  کہا گیا تھا کہ ’ بچپن میں شادی کے نتیجے میں اٹھارہ سال سے پہلے بچوں کو ازدواجی زندگی گزارنے کی اجازت دینا بچوں کے ساتھ ذیادتی شمار ہوگا‘۔  ایکٹ کے اس فقرے کو بنیاد بنا کر اسلامی نظریاتی کونسل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ   ’اٹھارہ سال سے پہلے شادی کو ریپ قرار دینا، اسلامی  قانون کے مطابق نہیں ہے‘۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ بچوں کی شادی کے نام نہاد اسلامی  حق کے لیے ملک  میں شرعی قوانین کے نفاذ کا ذمہ دار سب سے بڑا ادارہ کیسے گمراہ کن معلومات  پھیلا کر ایک ناجائز اور غیر انسانی طریقے کو  مروج رکھنا چاہتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ملک بھر سے مذہبی لیڈر اس قانون کی مخالفت  کررہے ہیں۔ حالانکہ یہ قانون سال ہا سال کی کوششوں کے بعد صرف اسلام آباد کے وفاقی علاقوں کے لیے منظور کیا جاسکا ہے اور پورے ملک میں اس کے نفاذ کے بارے میں پارلیمنٹ کی اکثریت بھی  قانون سازی پر تیار نہیں ہے۔  پاکستان پیپلز پارٹی  کئی سال سے کمسنی  میں شادیوں کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی کوشش کرتی رہی ہے  تاہم اسے ابھی تک مکمل کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ البتہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے  سندھ اسمبلی  سے  جون 2014  میں انسداد چائیلڈ میرج ایکٹ 2013 منظور کرایاتھا جس میں بچوں کی شادیوں کا اہتمام کرنے والوں کو تین سال تک قید بامشقت اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔

اس کے بعد قومی سطح پر قانون سازی کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ 2018 میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے شیری رحمان نے  ایک نجی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اس وقت بھی مولانا فضل الرحمان نے اس کی مخالفت کی تھی اور یہ بل اسمبلی سے منظور نہیں ہوسکا تھا۔ اسی طرح 2021 میں خیبر پختون اسمبلی سے  کمسنی میں شادی کے خلاف ایک بل پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔  اب پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کا پیش کردہ بل صرف وفاقی علاقے پر نافذالعمل ہوگا۔ اس کے باوجود  ملک کے مذہبی لیڈر اس بنیادی انسانی حق کے لیے منظو ر کیے ہوئے قانون کی یوں مخالفت کررہے ہیں جیسے یہی ایک قانون ملک میں اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

حالانکہ ملک میں  اسلامی روایت و عقیدے کے لیے اصل خطرہ ان کوتاہ نظر مذہبی لیڈروں کی طرف سے محسوس کیا جاسکتا ہے جو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی اتھارٹی برقرار  رکھنے  کے لیے بچوں کی شادی کےمعاملے پر یوں چیں بچیں ہورہے ہیں جیسے  اس قبیح روایت کو ختم کردیا گیا تو ملک میں اسلام کا نام لینا بھی دشوار ہوجائے گا۔   ملکی سیاسی پارٹیاں مسلسل اس مذہبی بلیک میلنگ کا شکار ہوتی رہی ہیں۔ اس قسم کی قانون سازی کو درست ماننے کے باوجود  ملک کی تمام سیاسی  پارٹیاں ملاؤں کے خوف سے  ایسی جائز اور ضروری قانون سازی  کے لیے سامنے آنے اور  دوٹوک مؤقف اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وفاقی علاقے کے لیے  بچوں کی شادیوں کے خلاف قانون  کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ  ’ اس جدید دور میں ہمارے پاس یہ جاننے کے لیے وسائل و تحقیق موجود ہے  کہ کم سن افراد کی شادی لڑکوں و لڑکیوں کے لیے یکساں طور سے نقصان دہ ہے ۔ تاہم خاص طور سے ماہواری کے فوری بعد  لڑکیوں  کی شادی اور ان کے ماں بننے سے انہیں شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بچوں کی شادی اقوام متحدہ کے صنفی مساوات کے مقاصد کی شق 5 کی خلاف ورزی ہے‘۔  

تاہم ملک کو اپنی دھونس  میں رکھنے اور حکومتوں کو بلیک میل کرتے رہنے کے لیے مولانا فضل الرحمان جیسے بظاہر روشن خیال علمائے دین انتہائی  متشدد اور انتہاپسندانہ  رویہ اختیار کررہے ہیں۔ انہو ں نے زیر بحث قانون پر غور کے دوران قومی اسمبلی میں بھی اس  قانون سازی کے خلاف دھؤاں دار تقریر کی تھی اور اب باقاعدہ احتجاج  شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بچوں کی شادی کے خلاف منظور ہونے والے قانون  کو مسترد کرتے ہوئے  احتجاجی ریلیاں نکالنے اور جلسے کرنے  کا اعلان کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان  نے  کہا  ہے کہ  فی الوقت  احتجاج    خیبر پختون میں ہوگا۔   یہ   احتجاج صرف شادی کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کے بارے میں نہیں ہوگا بلکہ ہم لوگوں کو ’قومی خود مختاری اور اسلامی طرز حکومت‘ کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ  قانون وفاقی علاقے کے بارے میں بنایا گیا ہے لیکن مولانا خیبر پختون خوا میں لوگوں کو اشتعال دینے کے مشن پر گامزن ہورہے  ہیں تاکہ اپنی سیاسی پوزیشن  مضبوط کرسکیں ۔ اس کے ساتھ ہی اسے بالواسطہ طور سے قومی  خود مختاری اور اسلامی تعلیمات سے منسلک کرکے  یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے  اسلام کے یہ ’مجاہد‘ میدان میں نہ نکلے تو  شاید  اسلامی روایت و قانون  مسخ ہوجائے گا۔

یہ رویہ ملک کے  24 کروڑ مسلمانوں کے عقیدے    کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ کسی مذہبی لیڈر یا اسلامی کونسل کو اسلام کی ایسی تشریح کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے جس کا  انسانی حقوق اور حقائق  وو اقعات سے کوئی تعلق نہ  ہو۔2019 میں عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اکیس فیصد شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہوتی ہیں۔  بچپن  میں شادی کی روایت کا تعلق  مذہب سے زیادہ سماجی  رویہ سے ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی کے لیے نہ صرف یہ کہ قانون سازی ہونی چاہئے بلکہ سماجی ، سیاسی اور مذہبی لیڈروں کو اس مقصد کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کا کام کرنا چاہئے۔ لیکن اسے مذہبی روایت و بالادستی کا معاملہ بنا کر ایک ناپسندیدہ اور نقصان دہ طریقہ جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کوئی جمہوری اور ذمہ دار معاشرہ اس کی اجازت  نہیں دے سکتا۔

یہ طے ہے کہ قرآن میں شادی کی عمر مقرر نہیں ہے بلکہ شادی کوایک ذمہ داری قرار دیتے ہوئے عورت و مرد کو سماج کی تعمیر کا حصہ دار بنایا گیا ہے۔ ظاہر  ہے کمسنی کی عمر میں شادی  کے بندھن میں باندھے گئے بچے کیسے اس سماجی ذمہ داری کو پورا کرسکتے ہیں جس کا تقاضہ قرآن ان سے کرتا ہے۔  ممتاز اسلامی اسکالر اور کالم نگار خورشید ندیم نے اس حوالے سے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ ’ قرآن مجید نے شوہر اور بیوی کے جو فرائض اور ذمہ داریاں بیان کی ہیں، ان سے صاف ظاہر ہے کہ ایک کم سن ان ذمہ داریوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس سے خود بخود عمر کا تعین ہو جاتا ہے‘۔ لیکن   عقل کی بنیادپر دی گئی یہ مذہبی دلیل  مذہب کو سیاسی و سماجی تمکنت کے حصول کا ذریعہ بنانے والے ملاؤں کو سمجھ نہیں آتی اور وہ مسلسل قوم کو گمراہ کرنے اور جھوٹ پھیلانے پر مصر ہیں۔ حتی کہ سرکاری وسائل سے چلنے والا اداہ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اسی راہ پر گامزن ہے کیوں کہ اس کی تشکیل بھی سیاسی بنیاد پر رکن مقرر کرنے سے ہوتی ہے۔

کمسنی کی شادی کے خلاف قانون کے ایک فقرے کی غلط تصریح کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے کم عمری کی شادی   کو ریپ کہا گیا ہے۔   اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ رویہ غیر ذمہ دارانہ اور اس کے دائرہ کار سے تجاوز ہے۔ یہ کونسل کسی معاملہ پر اپنی رائے دے سکتی ہے لیکن ملک میں قانون سازی کا حتمی اختیا رپارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اس ا اختیار کو  چیلنج کرنے والا شخص یا کونسل درحقیقت ملکی آئین  کو نظر انداز کرتا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا ملک کے موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اسمبلیوں میں مسلمان ارکان کی اکثریت ہے  اور وہ بھی اسلامی قوانین  و روایات کے بارے میں اتنے ہی حساس ہیں جتنے کسی  اسلامی کونسل کے ارکان ہوسکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل  کے مستقبل کے بارے میں غور کرے اور  غریب  ملک کے خزانے سے ایسا سفید ہاتھی پالنے سے گریز کیا جائے جو  سماجی شعور پیدا کرنے کے کسی  تعمیری کام کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہے۔

اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مذہبی انتہا پسندی  ہے۔ ریاست کی سرپرستی اور ڈھیل کی وجہ سے مذہبی گروہوں اور اسلام کے نام پر دکانداری کرنے والے عناصر کو  انتہاپسندی و منافرت پھیلانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ ملک کو آگے لے جانے،  برصغیر میں انتہاپسندی کے خاتمے اور  سماجی اصلاح کے نقطہ نظر  سے اب ایسے گروہوں و عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ تاکہ عقیدے کے نام پر  دباؤ  اور  دہشت گردی  کا سلسلہ بند ہوسکے۔