اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل، ملزم گرفتار کرلیا گیا
اسلام آباد میں 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ پولیس نے فیصل آباد کے ایک بائس سالہ نوجوان کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے آلہ قتل اور مقتولہ کا موبائل فون برآمد کرلیا گیا ہے۔
مقدمہ مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف کی مدعیت میں سمبل پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 302 (ارادی قتل) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ سترہ سالہ ٹک ٹاکر اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے مشہور تھیں۔ ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً 5 لاکھ فالوورز ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتولہ کی والدہ نے مؤقف اپنایا کہ بروز پیر 2 جون کو شام 5 بجے ایک نامعلوم مسلح شخص گھر میں داخل ہوا اور میری بیٹی کو جان سے مارنے کی نیت سے اس پر براہ راست فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں میری بیٹی ثنا یوسف کے سینے میں 2 گولیاں لگیں جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ ثنا یوسف کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ماں نے مشتبہ شخص کو ’اسمارٹ شکل، معتدل جسم اور قد‘ کے طور پر بیان کیا، جو کالی شرٹ اور پینٹ میں ملبوس تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اور ان کی نند لطیفہ شاہ، واقعے کے عینی شاہد ہیں اور اگر وہ ملزم کو ذاتی طور پر دیکھتی ہیں تو وہ اس کی شناخت کر سکتی ہیں۔
ثنا یوسف کی والدہ کے مطابق ان کا 15 سالہ بیٹا واقعے کے وقت اپر چترال میں اپنے آبائی گھر گیا ہوا تھا، جبکہ ان کی نند چند روز قبل ان کے گھر آئی ہیں۔ پاکستان میں لگ بھگ ساڑھے 5 کروڑ افراد ٹک ٹاک ایپ استعمال کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں انسپکٹر کنرل پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کو پولیس کی شاہدار کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے بتای اکہ ملزم مقتولہ سے رابطہ قائم کرنا چاہتا تھا لیکن ثنا یوسف اس میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ اس نے پہلے سوشل میڈیا پر رابطے سے انکار کیا مگر بعد میں ملزم نے مقتولہ کے گھر آکر ملنے کی کوشش کی ۔ تاہم اس بار بھی ثنا یوسف نے ملنے سے انکار کردیا۔
مایوس ہوکر ملزم پستول سے ملسح ہوکر مقتولہ کے گھر گھس گیا اور اسے ہلاک کرنے کے بعد اس کا موبائل ساتھ لے گیا تاکہ الیکٹرانک ثبوت مٹا سکے۔ تاہم پولیس نے پستول اور ثنا یوسف کا موبائل فون برآمد کرلیا ہے۔