تارکین وطن پاکستانیوں سے استفادہ مگر کیسے؟

اپریل میں تارکین وطن پاکستانیوں کا ایک کنونشن اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سپہ سالار پاکستان عاصم منیر نے خطاب کیا تھا۔ اس کنونشن کے حوالے سے اس خاکسار نے کالم بھی لکھا تھا اور اس کالم کے آخر میں عرض کیا تھا کہ تارکین وطن پاکستانیوں سے فائدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے۔

یہ کالم اسی حوالے سے ہے۔اس وقت ریکارڈ اور بغیر ریکارڈ کے مطابق لگ بھگ ایک کروڑ پاکستانی بیرون ملک مستقل یا عارضی طور پر مقیم ہیں۔ یورپ، برطانیہ،امریکہ اور مشرق بعید کے کئی ممالک میں جو پاکستانی آباد ہیں ان میں زیادہ تر اپنے خاندانوں سمیت وہاں کی شہریت لے چکے ہیں، کچھ کے پاس دوہری شہریت ہے اور کچھ کو باامر مجبوری پاکستان کی شہریت چھوڑ کر دوسرے ملک کی شہریت لینا پڑتی ہے۔  دوسری طرف تارکین وطن پاکستانیوں میں سے نصف سے زیادہ تعداد عرب برادر ممالک میں محنت مزدوری کر رہی ہے جو ورک پرمٹ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں اور مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد واپس وطن لوٹ آتے ہیں۔  میں خود 25برس بیرون ملک رہا ہوں اور اب دوہری شہریت کے ساتھ زیادہ تر پاکستان میں رہتا ہوں۔

 میں ایک بات پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی دنیا کے کسی بھی ملک یا کسی کونے میں رہیں،  ان کے دل پاکستان کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں، ان سے کوئی پاکستان کی محبت چھین سکتا ہے نہ جذبہ حب الوطنی کو کم کروا سکتا ہے۔ دوسرے ممالک کے لوگ بھی اپنے اپنے وطن کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں  مگر میرے مشاہدے کے مطابق کئی ممالک کے باشندے جب مستقل دوسرے ملک میں آباد ہو جاتے ہیں تو پھر اپنے آبائی وطن کو اتنا یاد کرتے ہیں نہ وہاں زیادہ جاتے ہیں۔ لیکن پاکستانی تو کسی ملک کی سیر بھی کم ہی کرتے ہیں انہیں جب بھی موقع ملتا ہے، اپنے وطن آ جاتے ہیں اور شدید خواہش رکھتے ہیں کہ ان کا انتقال جہاں بھی ہو ان کے جسد ِ خاکی کو پاکستان لے جا کر دفن کیا جائے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ اپنے وطن نے ان کو وہ مقام دیا نہ وہ حقوق دیئے جو انہیں بیرون ممالک حاصلِ ہیں۔

ہمارے وطن کی مٹی میں شاید اتنی زیادہ طاقت ہے کہ وہ اپنے باشندوں کو مقناطیس کی طرح اپنے سے الگ نہیں ہونے دیتی،یہ اس مٹی کی محبت ہی کا اثر ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر تارکین وطن پاکستانیوں کی بہت زیادہ مدد حاصل ہے۔ پاکستان میں آنے والے زرمبادلہ میں سب سے بڑا حصہ تارکین وطن کا ہے امسال صرف مارچ کے مہینے میں 4 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ تارکین وطن پاکستانیوں نے بھیجا ہے۔  ہمارے کئی نادان اور احساس سے عاری دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ تارکین وطن پاکستانی اپنے وطن زرمبادلہ بھیج کر کوئی احسان نہیں کر  رہے، کیونکہ یہ ان کی مجبوری ہے کہ اپنے زیرکفالت خاندان کو پیسے بھیجنے ہوتے ہیں۔ بے شک ایسا ہے لیکن اگر وہ باہر نہ جاتے، وہاں جا کر محنت نہ کرتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوتا؟ بہت سارے ممالک کے تارک وطن اپنے خاندانوں کو بھی پیسہ نہیں بھیجتے۔  پاکستانی تارکین وطن صرف اپنے خاندان کو ہی نہیں بھیجتےبلکہ سارے ملک کو بھیجتے ہیں۔ ہمارے ملک کی کون سی فلاحی، رفاعی یا مذہبی تنظیم ہے جو تارکین وطن کی مدد کے بغیر چل رہی ہے؟ کون سا شہر، کون سا محلہ اور کون سا گاؤں ہے جہاں متذکرہ بالا تنظیموں کا کام نہیں ہے؟

اِس کا مطلب یہ ہے کہ تارکین وطن پاکستانیوں کی کمائی صرف ان کے خاندان نہیں،بلکہ پورا ملک کھاتا ہے، ہماری مارکیٹوں اور ہمارے بازاروں کی رونق بھی تارکینِ وطن نے ابھی تک بحال رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت ہے جو تارکین وطن پاکستانیوں سے مدد نہیں لیتی؟ ہمارے بیوروکریٹس، ہمارے سیاسی راہنما، ہمارے میڈیا پرسنز، ہمارے علماء، ہمارے فنکاراور ہمارے دانشور جو مختلف ممالک میں جاتے ہیں ان کو کس کی مدد حاصل ہوتی ہے۔  کیا یہ تارکین وطن نہیں جو ان سب کو بلاتے، سیر کرواتے اور تھیلے پکڑا کر  واپس بھیجتے ہیں؟ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہم وطنوں نے اپنے تارکین وطن سے ہر قسم کا فائدہ اٹھایالیکن انہیں اپنا نہیں سمجھا۔

وفاق سے صوبائی حکومتوں تک اور ضلع سے یونین کونسل تک کسی بھی جگہ تارکین وطن کی نمائندگی ہے نہ کسی بھی معاملے میں ان کی رائے پوچھی جاتی ہے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے ہمارے بہن بھائی ان ممالک کے نظاموں کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ان ممالک نے ترقی کس طرح کی ہے۔ لہذا اگر ان ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی رائے، ان کے تجربات اور ان کی صلاحیتوں سے کام لیا جائے تو وطن عزیز میں بھی ترقی ہو سکتی ہے یہاں بھی اچھا نظام بن سکتا ہے۔ اسی طرح اگر تارکین وطن کو تحفظ دے کر اور ان کی رہنمائی کر کے انہیں اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی جائے تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں معاشی انقلاب آ سکتا ہے۔ کیونکہ اگر تارکین وطن پاکستانیوں میں سے صرف 10 فیصد لوگ بھی اپنے وطن میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب کر لئے جائیں اور وہ صرف چھوٹے پیمانے پر ہی سہی کروڑوں کی سرمایہ کاری کریں تو ایک اندازے کے مطابق 200کھرب سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہوگا جب آپ تارکین وطن کو اپنا سمجھیں گے، ان کی دِل سے عزت کریں گے، ان کو اپنے ملک میں پورا پورا تحفظ دیں گے اور ان کو اس بات کی گارنٹی دیں گے کہ آپ کا سرمایہ ضائع نہیں ہوگا۔

 اس کام کے لئے ون ونڈو آپریشن کا قیام ضروری ہے اور اس کی ذمہ داری بھی تارکین وطن میں سے ہی کچھ لوگوں کو دی جائے۔تمام حکومتیں تارکین وطن میں سے مشیر لیں، جو حکومت اور تارکین وطن کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں ۔اور تارکین وطن کو اپنی زبان میں تسلی اور گارنٹی دے کر پاکستان میں سرمایہ کاری پر قائل کریں۔