پاک ہند چپقلس اورعالمی سفارت کاری؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 04 / جون / 2025
ان دنوں انڈیا اور پاکستان ہر دو ممالک نے عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار و استوار کرنے کے لیے اپنے اپنے سفارتی وفود مختلف مؤثر ممالک و مقامات پر بھیج رکھے ہیں۔ ان وفود کو عالمی سطح پر جس نوع کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ دلچسپ ہیں۔
دونوں ممالک کے وفود اپنے اپنے ممالک کو امن و سلامتی کے داعی، انسانیت نواز، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے رکھوالے، دہشت گردی اور خون خرابے کا شکار یا اس کا سامنا کرنے والے لبرل و روشن خیال جمہوری ممالک کی حیثیت سے اُجاگر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ جبکہ اپنی ہمسائیگی کو ان تمام الائیشوں کا منبع قرار دے رہے ہیں۔ انڈین ڈیلیگیشن کی قیادت منجھے ہوئے سفارت کار ششی تھرور کر رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ بان کی مون کے بالمقابل سیکرٹری جنرل بنتے بنتے رہ گئے تھے۔ سیاسی طور پر ان کا تعلق کانگرس پارٹی سے ہے۔ من موہن حکومت میں وہ ہیومن ریسورسز کے منسٹر رہ چکے ہیں۔ اس وقت کرالہ سے لوک سبھا کے ممبر ہیں۔ انڈین ڈیموکریسی کی یہ خوبصورتی ہے کہ بی جے پی سے کانگرس کے تعلقات اگرچہ ایسے ہی ہیں جیسے ن لیگ کے پی ٹی آئی سے، اس کے باوجود انہیں بھارت سرکار کا مقدمہ لڑنے کے لیے وفد کا سربراہ بناکر بھیجا گیا ہے۔
وہ اپنی بات جس تہذیب اور سلیقے سے کرتے ہیں اور زبان پر ان کی جو کمانڈ ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے بالمقابل پاکستانی ڈیلیگیشن کی قیادت جو نوجوان کر رہا ہے، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے اپنی اسی کوالٹی کو وہ بار بار پیش بھی کر رہا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ انگریزی اس کی بھی ششی تھرور کے برابر نہیں تو قریب ضرور ہے۔ لیکن تہذیبی و سفارتی الفاظ کا چناؤ شاید بیچارے کے بس میں نہیں۔ جسے سنتے ہوئے، اس کے مطالعہ کی کمی کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔ صدر زرداری نے یقیناً اسے کبھی منع نہیں کیا ہوگا کہ بیٹا سٹڈی نہ کیا کرو، بس کھوکھلے دعوے اور الزامات تراشی کے بھاشن جھاڑتے رہا کرو۔
انڈین وفود کو ایک اور برتری یہ حاصل ہے کہ ان میں حکمران پارٹی کے علاوہ تقریباً تمام بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی نمائندگی موجود ہے۔ اسی طرح مختلف علاقوں اور مذاہب کے لوگوں کی ایک طرح سے ورائٹی ہے۔ اسدالدین اویسی جیسے کٹر مسلمان بھی بھارت سرکار کا مقدمہ لڑنے کے لیے پیش پیش ہیں۔ جو مسلم ممالک کے عمائدین کو بھی یہ بتارہے ہوتے ہیں کہ ہم مسلمان انڈیا میں بیس کروڑ سے بھی زیادہ ہیں اور ہم بھارتی سیکولرزم میں خوش ہیں۔ جبکہ ہمارا شریر ہمسایہ پاکستان ہمیں ہندو مسلم تنازع بنا کر لڑوانا چاہتا ہے۔ اپنے اتنک وادی بھجوا کر ہمارے پیارے ملک ہند میں خون ریزی کرواتا رہتا ہے۔
یوں مودی سرکار کی بہت سی کوتاہیاں اس گرجدار انسان نواز آواز میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ جبکہ ہمارے سفارتی وفد کی قیادت کرنے والے نوجوان بلاول بھٹو کی زبان مبارک پر بوچر مودی کے الفاظ خوب چڑھے ہوئے ہیں۔ وہ بوچر آف گجرات ہے وہ بوچر آف کشمیر ہے۔ اور اب بوچر آف سندھ ہے اور یہ کہ انڈیا پاکستان کا ازلی دشمن ہے، جس کے چھ طیارے ہم نے مار گرائے ہیں۔ بھارت دہشت گردی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے جبکہ خطے میں امن مسئلہ کشمیر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کشمیر کو ہم کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے۔ بھارت کی جانب سے کسی بھی ایسی اوچھی حرکت سے پاکستان کے لیے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چیلنج بن جائے گا۔
دوسری طرف ششی تھرو کا پاکستان پر الزام یہ ہے کہ ہمارا یہ ہمسایہ ملک اتنک واد کو بطور اپنا سیاسی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ دہشت گردوں کے ذریعے کبھی ہماری پارلیمنٹ پر حملہ کروایا جاتا ہے تو کبھی ممبئی جیسے پرامن شہر کو خون سے نہلایاجاتا ہے، کبھی کارگل کو قبضایا جاتا ہے۔ اڑی، پلوامہ اور پٹھان کوٹ میں دہشت گردی کی جاتی ہے تو اب پہلگام میں وہی تاریخ دہرائی گئی ہے جہاں چن کر ہندو دھرم کی تخصیص کرتے ہوئے ہمارے چھبیس شہریوں کو مارا گیا ہے۔ ہم نے جوابی طور پر صرف اتنک واد کے اڈوں کو نشانہ بنایا کسی ملٹری بیس کو ٹارگٹ نہیں کیا مگر پاکستان نے ہمارے گردوارہ سمیت سویلین مقامات پر میزائل داغے جس کا ہمیں جواب دینا پڑا۔ مگر پھر بھی پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے بات چیت ہوسکتی ہے ہم ان سے ہندی، پنجابی اور انگریزی میں ہر طرح سے شرافت اور امن کی بات کرسکتے ہیں تاکہ مشترکہ وژن تلاش کیا جاسکے۔
پاک ہند سفارتی وفود کے دلائل جو بھی ہیں اور ان کے جو بھی اثرات عالمی رائے عامہ پر مرتب ہوں گے، دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انڈین حکومت کا سرکاری مؤقف ہمیشہ سے یہ چلا آرہا ہے کہ وہ ہر دو ممالک کے باہمی تنازعات میں کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ ابھی ”آپریشن سندور“ کے بعد جس نوع کی سہ روزہ جھڑپیں یا میزائل بازی دونوں ممالک کے درمیان ہوئی ہے، امر واقعہ تو یہی ہے کہ انہیں مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے تھرڈ پارٹی کی مداخلت بہرحال ہوئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے مشترکہ دوست ممالک نے امن و سلامتی کا رول ادا کیا۔ وہیں سب سے بڑھ کر ریاست ہائے متحدہ امریکا پیش پیش رہا بلکہ فائر بندی کی خبر سب سے پہلے واشنگٹن سے صدر ٹرمپ نے جاری کی۔ اور بعد ازاں پیہم دونوں ممالک کو فائر بندی پر آمادہ کرنے کے لیے امریکی رول کا تذکرہ کرتے پائے گئے ۔ آخر مودی سرکار کی ایسی کیا ضد تھی کہ وہ مسلسل اس کی نفی کرتے ہوئے ایک ہی رٹ لگاتے رہے کہ ہم دو طرفہ تنازعات میں تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرسکتے۔
اس پس منظر میں دیکھاجائے تو اس وقت پاکستان سے بھی پہلے انڈیا نے عالمی رائے عامہ کو اپنی حمایت میں ہموار کرنے کے لیے وفود بھیجنے کا اہتمام کیا ۔ اصولی طور پر یہ آپ کے سرکاری مؤقف کی ازخود نفی ہے۔ جب آپ دیگر ممالک کو اپنی مطابقت میں قائل کریں گے تو بات دو طرفہ ہرگز نہ رہ پائے گی۔ آج انڈیا کی اسی دورخی ضد کا اثر ہے کہ حالیہ میزائل حملوں میں انڈیا عالمی حمایت سے قطعی محروم ہوکر رہ گیا۔ سوائے اسرائیل کے کسی ایک ملک نے بھی کھلے عام انڈیا کی حمایت میں کھڑے ہونا پسند نہیں کیا۔ انڈیا کی تمام تر عالمی اہمیت اور معاشی طاقت کے باوجود امریکا جیسا متر بھی نہ صرف دور کھڑے رہا بلکہ مودی جی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مزید دور ہوگیا۔ مودی سرکار نے بشمول کینیڈا دوسرے ممالک میں اتنک واد کے نام پر جس نوع کی کارروائیاں کی ہیں، ان کی ”برکت“ سے نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ جی سیون میں کینیڈا نے مودی جی کو مدعو ہی نہیں کیا حالانکہ پچھلی چھ کانفرنسوں میں مسلسل انہیں عزت وقار کے ساتھ بلایا جاتا رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستان جس کی عالمی پہچان بوجوہ اچھی خاصی خراب چلی آرہی ہے۔ جمہوری و سیاسی ہی نہیں، معاشی طور پر بدحالی ایسی ہے کہ آئی ایم ایف کے سامنے کشکول تھامے کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ لیکن حالیہ پاک ہند چپقلش میں چین، ترکی اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اگر آرمینیا کے بالمقابل پاکستان نے اپنے ترک اور آذربائیجان کے بھائیوں کا کھلا ساتھ دیا تھا تو انہوں نے بھی جوابی طور پر حق ادا کیا ہے۔ جبکہ مودی جی آپ کے ساتھ تو آرمینیا والے بھی کھل کر نہ آئے۔ روس جیسا آپ کا قدیمی اتحادی بھی ڈانواں ڈول رہا۔ لہٰذا وفود کی کارکردگی جو بھی ہو آپ کو اپنی خود پسندی اور اکڑپھوں والی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔
آج کے دور میں کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے بغیر ناکارہ و ناکام ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارت سرکار کو بھی اپنی خودپسندی کے خول سے باہر نکلنا ہوگا۔