بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- بدھ 04 / جون / 2025
بلاول بھٹو نے کل نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کی۔ میں نے وہ ساری پریس کانفرنس دیکھی یے۔ بلاول کے دلائل اچھے تھے اور انہوں نے زیادہ تر اُنہی موضوعات پہ بات کی جس کے لیے انہیں بھیجا گیا یے۔ انہوں نے اپنا مؤقف مدلل طریقے سے دُنیا کے سامنے رکھا۔
اُن کے وفد میں نہایت تجربہ کار جلیل عباس جیلانی صاحب بھی شامل ہیں جو ایک کیریئر ڈپلومیٹ ہیں. اور بین الاقوامی تعلقات اور اور دیگر سفارتی معاملات میں ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ پھر حنا ربانی کھر صاحبہ ہیں جو پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور رہ چُکی ہیں۔ وہ بھی حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی امور پہ گہری نظر رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ خُرم دستگیر بھی خوبصورت الفاظ میں مدلل اور سُلجھی ہوئی گفتگو کرنے والے انسان ہیں۔
وفد کے دوسرے ارکان بھی باصلاحیت اور تجربہ کار ہیں۔ اب اتنے باصلاحیت اور کہنہ مشق لوگوں کی موجودگی میں اگر بلاول کو وفد کا سربراہ بنایا گیا یے اور وہ پاکستان کی سفارتی ترجمانی کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اُن کے کاندھوں پہ ایک بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ بحران کے ان دنوں میں اس ذمہ داری سے عُہدہ برا ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ پھر ان کی ذمہ داری میں دُنیا کا سب سے اہم ملک امریکہ اور سب سے بڑی تنظیم اقوام متحدہ ہے۔ جہاں اُنہیں ایک ایک لفظ احتیاط اور ناپ تول کے بولنا چاہئے۔ ذرا سی لغزش ، غیر سنجیدگی یا الفاظ کا غلط چُناؤ پاکستان کے مؤقف کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اور پھر اس کے ذمہ دار بلال بھٹو ہوں گے کوئی اور نہیں کیونکہ اس وفد کے سربراہ وہی ہیں۔
کل کی پریس ٹالک میں راقم نے چند ایسی چیزیں نوٹ کیں جو نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔ کل بلاول نے چند سخت الفاظ استعمال کیے جن سے جارحیت کا تاثر ملتا ہے۔ جو راقم کی رائے میں درست نہیں تھے۔ وہ بار بار مُودی کو گُجرات کا قصائی اور کشمیر کا قصائی کہتے رہے ۔ جو موجودہ حالات میں ہرگز مناسب بات نہیں. آج سے تین سال پہلے جب انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے تو راقم نے اس وقت کے تناظر میں حمایت کی تھی۔ لیکن آج حالات بالکل مختلف ہیں۔ آج ان الفاظ کے استعمال کی ضروت نہیں. یہ غیر ضروری بھی ہیں اور منفی تاثر بھی دیتے ہیں۔ ان سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔
اسی طرح انہوں نے نریندر مودی کو نیتن یاہو کی کاپی قرار دیا۔ راقم کی نظر میں یہ ایک بلنڈر تھا۔ بلاول صاحب نے امریکہ میں بیٹھ کے مودی کو نیتن یاہو کے ساتھ نتھی کرکے گویا یہودی لابی کو خود موقع دیا یے کہ وہ پاکستان کے خلاف مزید سرگرم ہوں۔ تنازعہ پاکستان اور بھارت کا یے۔ آپ گئے اپنے مؤقف کے دفاع اور بھارت کے پروپیگنڈے کے ابطال کے لیے ہیں، نہ کہ سٹیج ڈرامے کی طرح جُگتیں مارنے۔ آپ دُنیا کی سب سے اہم جگہ پہ بیٹھ کے گفتگو کر رہے ہیں اور آپ کے مُنہہ سے نکلی بات 24 کروڑ عوام کی بات ہے۔ آپ کو بہت زیادہ احیتاط سے بولنے کی ضرورت یے، جُگتیں مارنے کی نہیں۔ خُدا جانے یہ حد سے زیادہ خود اعتمادی تھی یا کیا تھا۔ لیکن راقم کی رائے میں انہیں یہ بات نہیں کہنی چاہئے تھی۔
راقم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وہ بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ بھارت اپنے رویے سے مسلمانوں کو demonize کر رہا ہے۔ یعنی انہیں بدنام کر رہا یے۔ ایک صحافی کے سوال پہ انہوں جواب دیا کہ وہ عمومی طور پہ سب مسلمانوں کا کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ مودی کے تو مسلمان ملکوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ صحافی نے کہا کہ بھارت میں جنگ کے دوران اُن کی ترجمان مسلمان تھیں۔ نہ تو اُن صحافی صاحب کو علم تھا اور نہ بلاول کو کہ بعد میں کرنل صوفیہ قریشی کے ساتھ کیا ہوا۔ پاکستان کو صرف مسلمانوں کا نام لے کے یہ مؤقف نہیں اپنانا چاہئے۔ کیونکہ ایک تو یہ بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا جائے گا اور دوسرے بھارت کے مسلمان ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ لہذا اس بیانیے سے ہمارا اپنا مؤقف کمزور ہوگا اور کریڈیبلٹی کم ہوگی۔
اس کے علاوہ پریس کانفرنس اچھی تھی۔ بلاول نے بھارت کی دہشت گردی کو اچھے انداز میں پیش کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنا مظلومیت کا تاثر برقرار رکھے کہ بھارت نے بلاجواز حملہ کیا. ہمارے پاس اپنی سلامتی کی خاطر جواب کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہماری کسی بات یا کسی عمل سے جارحانہ رویے کا تاثر نہیں ملنا چاہئے۔ مُودی کو مختلف القابات سے نوازنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے. یہ ہمارے مؤقف کے لیے نقصان دہ یے۔
اُمید ہے کہ ہمارے نمائندے آئندہ پریس کانفرنسز، میٹنگز اور انٹرویوز اِن باتوں کا خیال رکھیں گے۔ ہم اُن کی کامیابی کے لیئے دُعاگو ہیں۔