7 جون: خود مختاری کے لیے ناروے کی جد و جہد میں اہم سنگ میل

7 جون ناروے کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جو 1905 کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن خود مختار ناروے کے سفر کا سنگ میل ہے، جس کا آغاز نارویجن قوم نے 1814 میں اپنا آئین تشکیل دے کر کیا تھا۔

1814 میں سویڈن کے ساتھ جبراً یونین کا حصہ بنائے جانے کے باوجود نارویجن قوم کے دل میں آزادی اور مکمل خودمختاری کی آرزو کو دوام حاصل رہا ۔ ریاست سویڈن کے زیر تسلط ہونے کے باوجود آزاد و خودمختار ناروے کا خواب کبھی نارویجن قوم کی نظروں سے اُجھل نہ ہوا۔ نارویجن قوم نے اپنی ثقافت اور قومی فخر کو تسلسل سے اُبھارنے کا فریضہ ہر موڑ پہ ادا کیا۔ اور اس کے لیے ہر مکتب فکر برسر پیکار رہا۔

ادیبوں نے اپنی قلم سے تو شعرا  نے اپنی نظموں سے ، موسیقاروں نے اپنی موسیقی سے تو مصوروں نے اپنے فن مصوری سے اسے نکھارا۔ تاجر ، مزدور، کسان ، مذہبی راہنما اور سیاستدانوں سے لے کر صنعتکاروں تک سب ایک ہو کر اس کے لیے مصروف عمل رہے۔ سویڈن کے ساتھ یونین قائم ہونے کے باوجود ناروے کے قومی اداروں کی تعمیر کو ترجیع دی جاتی رہی۔ 1884 میں بادشاہ سے کشمکش کے بعد پارلیمنٹ کی بالادستی منوانے کے بعد 1898 میں عام افراد کو ووٹ کا حق دیے جانے کا مقصد نارویجن قوم کو آنے والے فیصلہ کن معرکہ سے پہلے متحد کرنا تھا۔ تاکہ وقت آنے پہ پوری قوم متحد ہو کر اپنے قومی حق کے لیے صف آرا ہو۔ اور اس معرکہ کا وقت اس وقت آپہنچا جب بیسوی صدی کے آغاز پر ناروے کے تاجروں نے بیرون ملک سویڈن کے سفارت خانوں میں علیحدہ نارویجن تجارتی قونصل خانوں کے قیام کا مطالبہ پیش کیا تاکہ بین الاقوامی تجارت میں نارویجن تاجروں کے ساتھ سویڈن کی طرف سے برتا جانے والا امتیازی سلوک ختم کیا جاسکے۔

مختلف مراحل سے گزر کر یہ مطالبہ بالآخر ایک فیصلہ کن معرکہ کی بنیاد بنا۔ 1903 کے انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم ہاگروپ کی زیرقیادت بننے والی حکومت جب عوام کی توقعات کے برعکس سویڈن سے الحاق پر مبنی مسائل کے حل میں ناکامی پر مستعفی ہوئی تو وینسترے پارٹی کے قائد کرسچیان میکلسن کی قیادت میں نئی حکومت تشیکیل پائی جو کہ سویڈن سے یونین کے خاتمے اور مکمل خودمختاری کے حق میں تھی۔ جبکہ سابقہ وزیر اعظم ہاگروپ جنگ کے خطرے کے پیش نظر مکمل خودمختاری سے کتراتے تھے۔

نئی حکومت کے تشکیل پاتے ہی مئی 1905 میں ناروے کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر بیرون ملک نارویجن قونصل خانے قائم کرنے کی قرار داد منظور کر کے بادشاہ کو توثیق کے لیے بھیج دی۔ ناروے اور سویڈن کے مشترکہ سربراہ مملکت بادشاہ اوسکار دوم  نے اس قانون کی توثیق سے انکار کر دیا۔ بادشاہ اوسکار دوم کی طرف سے نارویجن پارلیمنٹ کے فیصلہ کی توثیق سے انکار پر ناروے کے وزیراعظم کرسچیان میکلسن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اوسکار دوم دونوں ممالک کا مشترکہ بادشاہ تھا، لہذا توثیق سے انکار سے وہ سویڈن کی طرفداری کا مرتکب ہوا ہے۔ اس موقف کی بنیاد پر وزیراعظم  نے 7 جون 1905 کو ناروے کی سویڈن سے یونین توڑنے کا اعلان کر دیا۔  

ناروے کی پارلیمنٹ نے اپنے قومی خودمختاری کے موقف پر استحکام کا مظاہرہ کرتے ہوئے، وہ تاریخ ساز قرارداد منظور کی جس کے متن کے آخری حصہ میں یہ تحریر تھا کہ سویڈن کے ساتھ ایک بادشاہ کی زیر حکمرانی قائم یونین ٹوٹ چکی ہے کیونکہ اوسکار دوم بحثیت نارویجن بادشاہ کے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہوا ہے۔ اس طرح 7 جون 1905 کے فیصلے کے بعد ناروے کا سویڈن کے ساتھ 1814 میں طے پانے والا ریاستی الحاق ختم ہو گیا۔ اس فیصلے پر ناروے کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن ساتھ ہی بے چینی سے سویڈن کے ردعمل کا بھی انتظار کیا جانے لگا۔ بڑی حد تک یہ خوف پایا جاتا تھا کہ سویڈن اتنی آسانی سے شاید اس فیصلہ کو قبول نہیں کرے گا۔ اور جنگی تصادم کے خدشہ کے پیش نظر نارویجن افواج کو تیار رہنے کا حکم صادر کر دیا گیا تھا۔ ناروے نے سویڈن کی مخالفت سے بچنے کے لیے بادشاہ اوسکار دوم کو پیشکش کی کہ وہ اپنے کسی شہزادے کو ناروے کے مستقبل کا بادشاہ نامزد کر سکتا ہے۔ لیکن یہ مفاہمتی پیشکش رد کر دی گئی۔

سویڈن میں ناروے کی طرف سے یونین کو توڑنے کے فیصلے کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے فوج کشی کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں لیکن عوام کی اکثریت اور سویڈش پارلیمنٹ کسی فوجی تصادم کی حامی نہ تھی۔ اور مطالبہ کیا کہ یونین کے خاتمے پر ناروے میں ایک ریفرنڈم کروا کر نارویجن عوام کی رائے حاصل کی جائے۔ لہذا 13 اگست 1905 کو ناروے میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد ہوا۔ اس وقت ناروے کے رائے دہندگان کے تین لاکھ دو سو آٹھ (300208) افراد نے نارویجن پارلیمٹ کے فیصلے کے حق میں ووٹ دالا جبکہ صرف 184 ووٹ اس کے خلاف آئے۔ کیونکہ اس وقت خواتین کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا لہذا خواتین نے ایک دستخطی مہم کے ذریعے دو لاکھ پنتالیس ہزار دستخط فیصلے کے حق میں جمع کروا کر اس فیصلے کے حق میں اپنا حصہ ڈالا۔

اس ریفرنڈم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کارلستاد Karlstad کے مقام پر مذاکرات ہوئے اور ستمبر 1905 میں ہونے والے معاہدے کے تحت سویڈن نے ناروے کے الحاق کے خاتمے کو مان کرخودمختار و آزاد ناروے کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان 91 سال پر محیط الحاق پُرامن طور پر ختم ہوا اور ناروے مکمل آزاد اور خود مختار مملکت بن گیا۔ سویڈن سے الحاق کے اختتام کے بعد ناروے نے اپنے سربراہ مملکت کے لیے ڈنمارک کے شہزادہ کارل کو نارویجن بادشاہت کا تاج پیش کیا۔ شہزادہ کارل نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے لیے نارویجن عوام کی رائے حاصل کرنے کے لیے ریفرنڈم کی شرط رکھی جس کے تحت 12 اور 13نومبر 1905 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے بڑی اکثریت نے بادشاہت کے حق میں ووٹ دیا اور ڈنمارک کے شہزادہ کو ناروے کا بادشاہ چنا گیا۔ انہوں نے ہوکن ہفتم کا لقب پایا جو آج کے بادشاہ ہیرالڈ کا دادا تھا۔