عید،بکرے اور قصائی
- تحریر نسیم شاہد
- اتوار 08 / جون / 2025
عیدالاضحی پر دو بڑے چیلنج درپیش ہوتے ہیں۔ قربانی کا اچھا جانور مناسب قیمت میں مل جائے اور قصائی صاحب وقت پہ دستیاب ہوں۔جس طرح محبوب کے آنے یا نہ آنے کا آخر وقت تک دھڑکا لگا رہتا ہے،اُسی طرح قصائی کی آمد بھی آخری وقت تک یقین اور بے یقین کے گرداب میں لپیٹے رکھتی ہے۔
اس بار سوشل میڈیا پر یہ شور بھی برپا رہا کہ ٹک ٹاکرز نے زیادہ سے زیادہ ویور شپ اور لائیکس لینے کےلئے جانوروں کے ریٹ آسمان پر پہنچا دیئے۔ بھولے بادشاہ بیوپاریوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے سوچا وطن عزیز میں بے تحاشہ سونا اور تیل نکل آیا ہے اس لئے جانوروں کے نرخ آسمان سے بھی اوپر لے جاﺅ۔میرا معمول ہے کہ میں عید سے ایک دن پہلے بکرا خریدتا ہوں اور سالہا سال سے ہمیشہ مناسب قیمت پر بکرا مل جاتا ہے۔مگر اِس بار دوستوں نے سوشل میڈیا کی پوسٹوں سے متاثر ہو کر کہنا شروع کر دیا منڈی بہت تیز ہے۔ بیوپاریوں کے نخرے سٹریل محبوب کے نخروں سے بھی زیادہ تنگ کرنے والے ہیں۔خیر میں نے انجینئر عبدالحکیم ملک اور اظہر سلیم مجوکہ کو ساتھ لیا اور بکروں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔منڈی پہنچے تو جلد ہی ہمیں اندازہ ہو گیا ٹک ٹاکرز کے بتائے ہوئے سارے فسانے غلط ہیں۔منڈی میں بکرے ہی بکرے تھے، بلکہ بڑے جانوروں کی بھی بہتات تھی۔
بکر منڈی جا کر آپ کو سب سے پہلے بیوپاریوں کی نفسیات کا جائزہ لینا چاہئے۔ اگر وہ آپ کو دیکھ کر تکبرانہ نگاہ ڈالتے ہیں پیچھے سے آواز نہیں دیتے کہ صاحب یہ بکرا دیکھ لیجئے، گھر کا پلا ہوا ہے،دوندا ہے، پُٹھ مضبوط ہے۔ تو سمجھ جایئے منڈی تیز نہیں گری ہوئی ہے۔اب آپ کو دیکھ بھال کے قدم اٹھانا ہے۔ میرا تجربہ اس میں یہ ہے کہ کبھی اُس بیوپاری کے پاس نہ جائیں جس کے اردگرد پہلے ہی دو چار خریدار موجود ہیں،جس طرح ایک سے زیادہ عاشق ہوں تو محبوب کا دماغ خراب ہو جاتا ہے،اُسی طرح زیادہ خریدار دیکھ کر جانور بیچنے والا بھی آنکھیں ماتھے پر رکھ کر بات کرتا ہے،جو صرف بکرے لےکر گاہک کے انتظار میں کھڑا ہو اُس کے پاس جائیں۔ وہ آپ سے سیدھے منہ بات بھی کرے گا اور ریٹ بھی مناسب بتائے گا۔ بکرے کے وزن کا اندازہ کرنے کی بھی آپ میں صلاحیت ہونی چاہئے۔ بیوپاری ہمیشہ وزن بتاتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں،مثلا اگر کسی بکرے میں سے خالص20کلو گوشت نکلنے کی اُمید ہے تو اڑھائی تین ہزار روپے فی کلو سے ضرب دےکر قیمت نکالی جا سکتی ہے۔بکرے کی خریداری صرف اور صرف نفسیاتی اور اعصابی جنگ ہے۔ ایک طرف آپ کو بکرے کی طرح ذبح کرنے والے بیوپاری ہوتے ہیں اور دوسری طرف بکرے ذبح کرنے کے خواہشمند خریدار۔آپ اگر بکرا بننے سے بچنا چاہتے ہیں تو جلد بازی کی بجائے آہستہ آہستہ قیمت بڑھائیں۔
اظہر سلیم مجوکہ تو اس بات کے قائل ہیں کہ جس طرح پٹھان بھائی قالین بیچتے ہوئے 50 ہزار روپے بتا کر پانچ ہزار روپے میں دے جاتے ہیں،اسی طرح بکروں اور دیگر جانوروں کے بیوپاری بھی یہی فارمولا اختیار کرتے ہیں۔ ایسا ریٹ بتاتے ہیں کہ خریدار کی چیخیں نکل جاتی ہیں ۔ہم یہ کرتے ہیں کہ جانور کی جتنی قیمت بتائی جائے،اُس سے نصف پیشکش کی جائے ،پھر بات کسی ایسے نکتے پر پہنچ جائے گی جہاں دونوں فریق مطمئن ہوں۔خیر بکروں کی خریداری تو کل شام مکمل ہو گئی تھی۔ آج عید کا دن ہے تو نمازِ عید پڑھنے کے بعد قصائی کا انتظار شروع ہو گا۔ انہی قصائیوں کی وجہ سے اب نمازِ عید کے اوقات بھی صبح ساڑھے پانچ بجے سے شروع ہو جاتے ہیںکیونکہ انہوں نے وارننگ دی ہوتی ہے کہ بکرا پہلے کرانا ہے تو پھر نماز بھی جلدی پڑھو۔اب ہر کوئی یہ پوچھتا پھرتا ہے سب سے پہلے عید کی نماز کہاں ہو گی۔
ایک دور تھا کہ نمازِ عید خاندان کے سب افراد مل کر کسی عید گاہ یا جامع مسجد میں پڑھتے تھے۔اب ترجیح یہ ہوتی ہے کہ کسی قریب ترین مسجد یا عید گاہ میں پڑھی جائے تاکہ قصائی کہیں اورنہ نکل جائے۔ قصائیوں کی بھی بڑی وارداتیں ہوتی ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے وہ کیا کریں گے،یہ سوال پوچھنے کی بجائے یہ پوچھیں وہ کیا نہیں کر سکتے۔وہ آپ کا جانور ذبح کر کے اُس کی کھال اتارنے کے بعد آپ سے بہانہ کر کے اگلے جانور پر چھری پھیرنے کسی دوسرے گھر چلے جائیں گے۔آپ کا دِل کر رہا ہو گا یہ کم بخت قصائی جلد آئے کم از کم کلیجی گردہ ہی نکال کر دے جائے تاکہ دِل کو ڈھارس ملےمگر وہ تین گھنٹے بعد آئے گا اور آپ سے معذرت تک نہیں کرے گا۔میرے ایک دوست اس معاملے میں بہت تیز ہیں۔ وہ قصائی کی موٹر سائیکل کو تالا لگا کر چابی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں،اُس وقت تک اُسے جانے نہیں دیتے جب تک وہ پورا گوشت بنا کے انہیں نہ دے۔ بکرے کی تلاش سے لے کر قصائی کی تلاش اور پھر اُس کے پیروں میں زنجیریں ڈالنے تک کا سفر عیدالاضحی کو قربانی کے ساتھ ساتھ مشقتوں والی عید بھی بنا دیتا ہے۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ حقیقت ہیں تاہم اس بڑی عید کا بڑا پیغام یہی ہے کہ اس میں دوسروں کو بھی یاد رکھا جائے۔ ایک زمانے میں اس روایت پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا کہ گوشت کے تین حصے کرنے میں ایک غرباءکےلئے، دوسرا عزیز و اقارب اور تیسرا اپنے لئے۔ میری والدہ مرحومہ باقاعدہ ترازو لے کر بیٹھ جاتیں اور تین برابر حصے کرتیں۔ اِس بات کا بھی خیال کرتیں کہ ہر حصے میں بکرے کے ہر حصے کا گوشت موجود ہو۔آج کل معاملات ایسے نہیں چل ر ہے، بس رسماً تھوڑا سا حصہ غریبوں کےلئے یا اُن کے لئے رکھ دیا جاتا ہے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے، پھر اس حصے میں بھی وہ گوشت رکھتے ہیں جو پُٹھ، ران، چانپوں اجور گول بوٹی کے علاوہ ہوتا ہے۔یہاں ہم اِس بات کو بھی بھول جاتے ہیں،قربانی کرنے والے جن عزیز و اقارب کے ہاں ہم گوشت بھیجتے ہیں،جواب میں وہ بھی ہمیں ا تنا ہی گوشت بھیج دیتے ہیں۔ گویا ہمارا حصہ پورا رہتا ہے۔
حق تو یہ ہے کہ عزیز و اقارب کو بھیجے گئے گوشت کے جواب میں جو گوشت آئے وہ بھی غریبوں اور مستحقین کو بانٹ دیا جائے۔خیر یہ تو حساب کتاب کی باتیں ہیں۔ اصل چیز جو جذبے کو زندہ رکھنا ہے جو اس سنتِ ابراہیمی کی روح ہے۔اللہ کی راہ میں اپنی سب سے قیمتی شے بھی قربان کر دینے کا نام عیدالاضحی ہے۔محکمہ فوڈ پنجاب نے خبردار کیا ہے، گوشت کو زیادہ دن فریج یا ڈیپ فریزر میں نہ رکھا جائے،اس سے بہت سی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ گزرے سال کی بات ہے میرے ایک دوست نے عید کے تقریباً دو ماہ بعد میرا کھانا کیا۔ انہوں نے جب مٹن کی ڈش سامنے رکھتے ہوئے کہا، بڑی عید کا گوشت ہے آپ کی بھابھی نے بنایا ہے کھائیں تو مزہ آ جائے گا، میں ہکا بکا رہ گیا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)