6501 ارب روپے خسارہ کا بجٹ

  • منگل 10 / جون / 2025

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کیلئے 17 ہزار 573 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیاجس میں 6501 ارب روپے خسارہ ہے۔ 8207 ارب سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ دفاع کے لیے 2550 ارب مختص کیے گئے ہیں، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 بجے طلب کیا گیا تھا، تاہم تقریباً آدھے گھنٹے تاخیر سے اجلاس شروع ہوا۔  وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان میں موجود تھے۔قومی اسمبلی بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر نے بات کی اجازت کا مطالبہ کیا، اجازت نہ ملنے پر احتجاج شروع کر دیا۔ اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابہ، ڈیسک بجا کر نعرے لگا کر احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین نے ایجنڈا کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اجلاس کے اختتام تک اپوزیشن اراکین نے مسلسل احتجاج، شور شرابہ جاری رکھا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مخلوط حکومت کا یہ دوسرا بجٹ ہے۔ ہماری افواج نے غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو بھرپور جواب دیا، ہماری قوم کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ ہم نے اسی جذبے کے ساتھ معاشی ترقی کے لیے کام کرنا ہے، انتھک محنت سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔عسکری اور سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، بھارتی جارحیت کے خلاف قوم نے یکجہتی کا ثبوت دیا، عظیم کامیابی نے پیغام دیا پاکستانی قوم متحد ہے، اب ہماری توجہ معاشی استحکام پر ہے۔ اقتصادی بہتری کے لیے حکومت نے سخت فیصلے کیے، عالمی معاشی ادارے ہماری اقتصادی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔، فچ نے پاکستان کی ریٹنگ  بڑھائی ہے، افراط زر میں نمایاں کمی ہوئی، ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم اور عوام کی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔ہمیں کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں، اس سال سرپلس کرنٹ اکاؤنٹ متوقع ہے۔حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑے، عوام نے بھی متعدد قربانیاں دیں، وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نےکئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔  وزیراعظم کی رہنمائی میں ایف بی آر میں اصلاحات کا آغاز کیا گیا۔ انسانی وسائل کی ترقی پر بھرپور سرمایہ کاری کی جارہی ہے، کوئی منی بجٹ نہیں آیا نہ کوئی اضافی ٹیکس لگایا گیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک دیرپا ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.5 ارب ڈالر سرپلس رہنے کا امکان ہے۔ ایف بی آر نے رواں سال 78.4 ارب کے محاصل وصول کیے، بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کا نظام پروفیشنل بورڈز کے سپرد ہے، بورڈز سے سیاسی مداخلت ختم کر دی گئی ہے۔گزشتہ سال معیشت کی بہتری کے لئے کئی کام کئے۔  افراط زر 4.7 فیصد پر آگیا، 2 سال پہلے افراط زر 29.2 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ روپے کی قدر میں استحکام ہے، ترسیلات 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، رواں مالی سال ترسیلات کا حجم 37 سے 38 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ رواں مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی بہتری کےلئے سخت فیصلے کرنا پڑے۔ ٹیکس گیپ کا تخمینہ 55 کھرب روپے لگایا گیا، یہ صورت حال نا قابل قبول تھی۔ سیمنٹ، کھاد، مشروبات اور ٹیکسٹائل پر ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ کا آغاز کیا جا رہا ہے، سیلز اور انکم ٹیکس کے لئے آرٹیفشل انٹیلی جنس پر مبنی نظام لایا جا رہاہے۔چینی کے شعبہ سے محصولات میں 47 فیصد اضافہ ہوا۔  3 لاکھ 90 ہزار نان فائلرز کی نشاندہی کی گئی، 9.8 ارب روپے کے جعلی ری فنڈ کلیمز کو بلاک کیا گیا۔  یکم جولائی سے 800 کالم والا ریٹرن سادہ فارمیٹ کر دیا جائے گا، جس میں 7 بنیادی معلومات درکار ہوں گی۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیز کے نقصانات میں 140ارب روپے کمی کی، بجلی کی قیمت میں 31 فیصد سے زیادہ کی کمی کی گئی ہے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی گئی، معاہدوں پر نظرثانی سے 3 ہزار ارب روپے کی بچت ہوگی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکوڈک میں واقع تانبے اور سونے کی کانیں ہمارے مستقبل کا اہم اثاثہ ہیں، ان اثاثوں کو مفید بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ منصوبے کی فزبیلٹی سٹڈی جنوری 2025 میں مکمل کی گئی، منصوبے کی متوقع کان کنی کی مدت 37 سال ہے۔منصوبے سے ملک کو 75 ارب ڈالر زائد کے کیش فلو حاصل ہوں گے، منصوبے کے تحت تعمیراتی کام سے 41500 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ حکومت سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے تمام شعبے اصلاحات سے مستفید ہوں گے، ورلڈ بینک کے مطابق اصلاحات  نافذ  ہونےکے بعد اوسط ٹیرف خطے میں سب سے کم ہو جائیں گے، قرضوں کے حجم میں کمی آئی ہے۔ٹیرف کو مناسب بنایا جا رہا ہے تاکہ برآمدات کو بڑھا کر معاشی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر اصلاحات کو نیشنل ٹیرف پالیسی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، چار سال میں اضافی کسٹم ڈیوٹی، 5 سال میں ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

کسٹم ڈیوٹی سلیب 5 سے 15 فیصد تک ہوگی، مالیاتی نظم ونسق کو بہتر بنانے سے معیشت کے تناسب سے قرضوں کے حجم میں کمی آئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-2030 کا حصہ بنایا جا رہا ہے، 4 سال میں اضافی کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ ہوگا، 5 سال میں ریگولیٹری ڈیوٹیز کا خاتمہ ہوگا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ غیرمنافع بخش سرکاری ادارے خزانے پر 800 ارب کا بوجھ ہیں۔ آئندہ مالی سال پی آئی اے اور روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری مکمل کی جائے گی، 45 کمپنیز اور اداروں کو پرائیویٹائز، ضم یا بند کیا جا رہا ہے۔دوسال قبل ہماری ڈیبٹ ٹو جی ڈی پی شرح 74 فیصد تھی جو اب 70 فیصد سے نیچے آگئی ہے، نجی شعبے کو ملکی ترقی کے لیے آگے آنا ہوگا، پنشن سکیم کو درست کرنے اور خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے پنشن سکیم میں اصلاحات کی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، ماحولیات کا تحفظ ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا اہم ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ سال کے دس ماہ میں آئی ٹی برآمدات3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، آئندہ 5 سال میں آئی ٹی برآمدات 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل گورننس اور سائبر سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2025-26 کیلئے مجموعی طور پر 17 ہزار 573 ارب روپے مالیت کے حجم پر مشتمل چھ ہزارپانچ سو ایک ارب روپے خسارے کا وفاقی بجٹ منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اور پنشن میں7 فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے آمدنی کی تمام سلیب میں انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے ۔گریڈ ایک تا سولہ کے ملازمین کو تیس فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز ہے جبکہ چھ لاکھ روپے سے بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار ملازمین پر انکم ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ مجموعی خام ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے ہے اور خالص ریونیو کا ہدف 11072 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5147 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور اگلے مالی سال میں اداروں کی نجکاری سے87 ارب حاصل کرنے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کیلئے تجویز کردہ چھ ہزارپانچ سو ایک ارب روپے کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اخراجات جاریہ کیلئے16286 ارب روپے، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کیلئے8207 ارب روپے، پنشن کی ادائیگیوں کیلئے 1055 ارب روپے، گرانٹس اور صوبوں کو منتقلیوں کیلئے1928 ارب روپے، سبسڈیز کیلئے1186 ارب روپے ایمرجنسی و  قدرتی و ناگہانی آفت کی صورت میں اخراجات کیلئے289 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مجموعی ترقیاتی اور نیٹ لینڈنگ کیلئے1287 ارب روپے ہوں گے۔  اس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کیلئے ایک ہزار ارب روپے اور نیٹ لینڈنگ کیلئے287 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال 2025-26 کیلئے معاشی شرح نمو(جی ڈی پی) کا ہدف 4.2 فیصد جبکہ مہنگائی کا ہدف ساڑھے 7 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ برآمدات کا ہدف 35 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا ہدف 65 ارب 20 کروڑ ڈالر، ترسیلات زر کا ہدف 39 اعشاریہ 4 ارب ڈالرمقرر کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 2 اعشاریہ ایک ارب ڈالر مختص کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف 35 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا ہدف 65 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔بجٹ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف چودہ ہزار131 ارب روپے سے زائد، اقتصادی ترقی کی شرح کا ہدف 4.2 فیصد رکھنے کی تجویز ہے جبکہ بجٹ میں وفاقی ترقیاتی بجٹ(پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال 26-2025 کے سالانہ ترقیاتی پلان کے تحت طے کردہ اہدات کے مطابق مالی سال 26-2025 کا کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ جی ڈی پی کا منفی 0.5 فیصد رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، آئندہ مالی سال کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 2 اعشاریہ ایک ارب ڈالر مختص کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کیلئے ترسیلات زر کا ہدف 39 اعشاریہ 4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔مہنگائی کا سالانہ اوسط ہدف ساڑھے 7 فیصد  جبکہ  معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کرنے اور زرعی شعبے کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں ۔

 

محمد اورنگزیب نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے پانی کو روکنے کی دھمکی دی، پانی پاکستان کی بقا کا ضامن ہے۔ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گی۔ بھارت کے ناپاک عزائم کا بھرپور توڑ کیا جائے گا۔ حکومت محدود وسائل کے باوجود پانی کے ذخائر کے منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 32.7 ارب، مہمند ڈیم کے لئے 35.7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، کے فور منصوبے کے لئے 3.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، پٹ فیڈرل کینال کے لئے 1.8 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں پاور سیکٹر کے لیے 1 ہزار 36 ارب کی سبسڈی کی تجویز ہے، کے الیکٹرک کو ٹیرف ڈیفرینشل کی مد میں 125 ارب روپے، تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف ڈیفرینشل کی مد میں249 ارب سسبڈی دینے کی تجویز ہے، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 40 ارب سبسڈی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔آزاد کمشیر کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل کی مد میں 74 ارب روپے، پاور سیکٹر کی سبسڈی کی دیگر مدوں کے لیے 400 ارب روپے مختص کرنے، آئی پی پیز کی ادائیگیوں کے لیے 95 ارب روپے سبسڈی دینے کی تجویز ہے۔

بلوچستان کے ایگریکلچرل ٹیوب ویلز کے لیے 4 ارب روپے کی سبسڈی دینے، بلوچستان میں کے الیکٹرک کے زیر اہتمام ٹیوب ویلز کے لیے 1 ارب روپے دینے اور پاکستان انرجی ریووالونگ فنڈ کے لیے 48 ارب روپے سبسڈی دینے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ 26 ملین سکول سے باہر بچے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔گیارہ نئے دانش سکولز کے قیام کے لیے 9.8 ارب روپے مختص کیے گیے ہیں، تعلیم کے اضافی منصوبوں کے لیے 18.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اعلیٰ تعلیم کی مد میں ایچ ای سی کو 170 منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے فراہم کیے گئے، مالی سال 26-2025 میں سائنس و ٹیکنالوجی کی 31 سکیموں کے لیے 4.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔  پسماندہ علاقوں کے ہونہار طلبا کے لیے دانش سکولوں کے قیام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ساڑھے چار سو ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، 2 ہزار ارب روپے کے اضافی ریونیو کے حصول کیلئے بڑے پیمانے پر ٹیکس عائد ہوں گے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ نئے بجٹ میں انرجی وہیکل پالیسی پر عمل کیلئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں، پٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی، الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشوں کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے، تیل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی فروخت اور درآمد پر انجن کیپسٹی کے مطابق لیوی عائد کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 20 کروڑ سے 50 کروڑ سالانہ آمدن والی کارپوریشن کے لیے سپر ٹیکس کی شرح میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز ہے، جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔حکومت معاشرے کے کمزور طبقے کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 716 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ حکومت بی آئی ایس پی کی کوریج بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، کفالت پروگرام ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔

غیر رجسٹرڈ کاروبار کےخلاف سخت سزاؤں کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،غیر رجسٹرڈ کاروبار کرنے والے کا بینک اکاؤنٹ منجمد، جائیداد کی منتقلی پر پابندی ہوگی، سنگین جرائم پر کاروباری جگہ سیل اور سامان ضبط کیا جاسکے گا۔ متعلقہ فریق کو 30 دن کے اندر اپیل کا حق ہوگا۔