قبضہ گیروں کا عوام دشمن بجٹ

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کا حجم 17ہزار 573ارب روپے ہے۔ جس پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجائے جبکہ اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی حد تک احتجاج کیا۔

ہمارے بلند پرواز  نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے گزشتہ سوا سال کئی چینلجز درپیش رہے لیکن ہم ملکی مستقبل تابناک بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ حالیہ جنگ میں معاشی طور پر مضبوط ملک کو شکست فاش دی ہے۔ اب بھارت سے معاشی میدان میں بھی آگے نکلنے کا ٹارگٹ ہے۔

بجٹ کے اعداد و شمار پر مشتمل گورکھ دھندے پر آنے سے قبل پورے ملک میں پھیلائی اور اڑائی گئی اس متھ کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے کہ کوئی نام نہاد جنگ ہوئی ہے جس میں ہم نے دشمن کو شکست فاش دی ہے۔ حضور یہ جو مودی کی احمقانہ حرکت کے جواب میں معمولی درجے کی میزائل بازی ہوئی ہے، اسے جنگ کا نام دینا ہی ایک نوع کا مذاق ہے۔ سرکار جنگیں اس طرح نہیں ہوتیں جنگیں تو بڑے بڑے بلند پروازوں یا بڑی بڑی چھوڑنے والوں کے منہ ٹیڑھے کردیتی ہیں۔ پینسٹھ میں چھوٹی سی جنگ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی اُمڈتی ترقی کا سفر معکوس ہوگیا اور آج تک وہیں کا وہیں رکا ہوا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں جو مہنگائی آئی تھی، اس پر عوام ایسے بپھرے کہ دس سالہ ترقی کا جشن منانے والے کو منہ کی ہی نہیں کھانی پڑی۔ بلکہ ذلت کے ساتھ گھر بھی جانا پڑا۔

اسی طرح کی صورتحال سے اکتہر کی جنگ کے ساتھ ہی ملک ٹوٹ گیا اور خود کو تیس مار خاں سمجھنے والے کو بدتر انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ شکر کریں ابھی تک ہم لوگوں نے اصلی والی جنگیں دیکھی نہیں ہیں اور نہ ہی خدا دکھاۓ۔ جنگی بربادیاں اور تباہ کاریاں آپ ذرا یورپ والوں سے پوچھیں، یوکرین اور رشین عوام سے معلوم فرمالیں۔ ہمارے لوگوں میں جعلی پروپیگنڈے کے زور سے جس نوع کی جنگی فینٹیسی تخلیق کی گئی ہے، درویش واضح کرتا ہے ابھی بھیانک آبی ایشو آرہا ہے۔ تعلی بازی کا سارا نزلہ و بخار اتر جائے گا۔ اصلیت تو یہ ہے کہ ہم سب کو عالمی سپر پاور امریکا کی قیادت کا ممنون ہونا چاہیے جنہوں نے دو ایٹمی ممالک میں جنگ کی نوبت آنے ہی نہیں دی اور مودی کی بیوقوفی کے بالمقامل ہماری بلے بلے ہوگئی۔

ہمارے جو زیادہ سیانے اس پسِ منظر میں عوام کا پیٹ کاٹ کر دفاعی بجٹ بڑھانے کے دلائل کا انبار لگارہے ہیں، یہ عسکریت کی خوشنودی اور عوام دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آگے چل کر بھی ہمارا بچاؤ ہماری عسکریت نہیں بلکہ ہماری جغرافیائی حیثیت اور عالمی اہمیت کرے گی۔ جس طرح ہمارا قیام عالمی سیاست کا مرہونِ منت تھا، اسی طرح ہمارا بچاؤ یا دوام بھی خود انہی کی ضرورت و ذمہ داری رہے گا۔ جس روز یہ اہمیت اختتام پذیر ہوگئی، اسی روز مضبوط عسکریت کیا ایٹم بم بھی ہماری بقا کا ضامن ومحافظ نہیں بن پائے گا۔ لہٰذا منافرتوں کے نام نہاد بیوپار کو ذرا نیچے لائیں اور بھلے انسان بن کر ان بھیڑ بکریوں کی طرح مجبور و بے بس عوام کالانعام کی بھلائی کا سوچتے ہوئے ان کے دکھوں کا مداوا فرمائیں۔

آپ جتنے چاہے ڈیسک یا بنچز بجائیں جو بجٹ آپ نے پیش فرمایا ہے اس کا نصف کے قریب یعنی بیاسی کھرب روپے تو ناجائز و ناروا طور پر اٹھائے گئے قرضوں کی ادائیگی پر اٹھ جائے گا۔ اور مضبوط دفاع کے نام پر پروپیگنڈے کا جو طوفان اٹھایا ہوا ہے، ایک بھاری حصہ اس کی نذر ہوجائے گا۔ رہتی کسر ایلیٹ کلاس کے اللوں تللوں پر نکل جائے گی۔ ابھی معروف صحافی دوست راشد حجازی صاحب نے کچھ تفصیلات کے ساتھ حکم صادر فرمایا ہے کہ افضال ریحان میں آپ کے کالم سے ہمیشہ استفادہ کرتا ہوں، اس لیے آپ اپنے تازہ کالم میں عوامی دکھوں بالخصوص بجٹ میں جس طرح غریب عوام سے دشمنی کی گئی ہے، اس پر ضرور اظہارِ خیال فرمائیں۔ ان لوگوں نے عوام کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ہے۔ اپنی جیبیں بھری ہیں وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیاہے۔ رکن قومی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ انیس ہزار کردی گئی ہے۔ صوبائی ممبر کی تنخواہ چار لاکھ کی گئی ہے۔ صوبائی وزیر کی تنخواہ ایک لاکھ سے 9لاکھ ساٹھ ہزار ، سپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ سوا لاکھ سے 9لاکھ پچاس ہزار پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ 83ہزار سے ساڑھے چار لاکھ مشیروں کی تنخواہ فی کس ایک لاکھ سے چھ لاکھ پینسٹھ ہزار۔ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہیں پانچ سو فیصد بڑھاتے ہوئے دو لاکھ اٹھارہزار سے تیرہ تیرہ لاکھ کردی گئی ہیں۔ نیب، اسمبلی اور سینٹ کے بجٹ میں خوب کے اضافہ کیا گیا ہے جو اربوں میں ہے۔ بے مہابا سرکاری اخراجات میں کہیں کوئی کٹ نہیں لگایا گیا ہے۔ یہ اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کی طرح ہے۔ جبکہ ان لوگوں کی رہائشیں فری پٹرول فری بجلی فری ڈرائیوروں کی تنخواہیں، میٹنگوں کے خرچے سرکاری خزانے سے اندرون و بیرون ملک ٹور سرکاری خرچ پر آنیاں جانیاں، ٹھاٹھ باٹھ سب سرکاری خرچے پر۔ دوسری طرف عوام کا کچومر نکالا جارہا ہے۔ وہ غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

سچائی تو یہ ہے کہ خود عالمی بنک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ہماری 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمارے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہیں جو غریب دھکے کھاکر پڑھ جاتے ہیں، ان کے لیے روزگار کے مواقع نہیں۔ اس اکیسویں صدی کے دور میں یہاں انڈسٹری لگانے کا کوئی رجحان نہیں۔ تمامتر جعلی ترغیبات کے باوجود  باہر سے آکر یہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کے لیے آمادہ و تیار نہیں بلکہ اندرونی سرمایہ کاری پر بھی ٹیکسز کی بھر مارنے شب خون مار رکھا ہے۔ ہماری زراعت تباہ ہو کر رہ گئی ہے جو ہمارے ملک کی اصل پہچان ہے۔ رواں سال گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں گیس، کوئلے اور خام لوہے کی پیداوار بھی پیہم کمی کا شکار ہے، مینوفیکچرنگ کی صنعت بھی زوال کا شکار بتائی جا رہی ہے۔ البتہ ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتے ہوۓ چھیتر ہزار ارب سے تجاوز کر چکا ہے۔ ہر آنے والے بچے پر اس کا بوجھ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بلوں نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے لیکن حکومت اس حوالے سے سوائے طفل تسلیوں کے کوئی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں۔ بلکہ اب ان بلوں پر دس فیصد مزید سرچارج لگانے کا منصوبہ بن رہا ہے۔

حضور آپ کے پاس بجلی کی اس قدر کمی ہے کہ غریب عوام پر بھاری بلوں کی صورت مہنگائی کے بم پھوڑتے ہواب اگر کچھ لوگوں نے جن کی سانس نکلتی ہے، سولر سسٹم کے تحت آپ کا یہ بوجھ کچھ کم کیا ہے جس سے غریبوں کے بجلی بلوں میں ریلیف کا اہتمام ہوسکتا ہے تو آپ نے اپنے اس نام نہاد عوامی بجٹ میں سولر پینلز پر بھی بھاری ٹیکس کی تجویز دے ڈالی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پراپرٹی کا کاروبار چل نکلا تھا جس سے کئی بے روزگار نوجوانوں کو روزگار نصیب ہوا۔ مگر حکومتی ناعاقبت اندیشی کی واضح مثال ہے کہ پراپرٹی ٹرانسفر پر اس قدر ٹیکسز عائد کردیے گئے جن سے کاروباری سرگرمیاں ہی ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ اب یہ سوچ ابھری ہے کہ زیادہ ہیوی ٹیکسر آمدن بڑھانے کی بجائے کاروبار کا ہی خاتمہ کردیتے ہیں۔ یہ ایسی ہی سوچ ہے جیسے آپ انڈے کھانے کی بجائے مرغی ہی ذبح کردیں۔

اے اس بدنصیب ملک کے حکمرانو! ان چوبیس کروڑ غریب عوام کو اپنی مرغیاں ہی سمجھ لو۔ ان کے انڈے ضرور کھاؤ لیکن خود انہیں ذبح کرنے سے باز آجاؤ۔ کس قدر ظلم کی بات ہے جن غریب عوام کے سروں پر تم لوگ سوار ہو جن کے خون پسینے کی محنت سے تم لوگ عیاشیاں کرتے ہو، انہیں سہولیات دینے کے لیے تم لوگوں کے پا س وسائل نہیں۔ ایک بیوہ کی پنشن تم لوگ دس سال تک محدود کرنے جارہے ہو۔  اپنی تنخواہوں میں اضافے پانچ سو فیصد اور بزرگ پنشنرز کو اس مہنگائی کی دلدل میں پھینک کر اضافہ محض سات فیصد۔ حاضر ملازمین کے لیے محض دس فیصد۔ ہمارے کسانوں کو مودی کیا مارے گا ہماری شہزاد
 خود مارچکی ہے۔ رہتی کسر چاچو نکالنے پر تلا ہوا ہے۔ دن رات طاقتوروں کے گن گاتا ہے کہ یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ میرا داؤ پوری طرح لگا ہوا ہے۔ رہ گئے عوام وہ جائیں جہنم میں۔

یارستم ظریفی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اب کےترقیاتی بجٹ پر ہی کٹ نہیں لگے ہیں، عوامی اہمیت کے اہم ترین شعبہ جات تعلیم اور صحت کے لیے بجٹ کا محض عشر عشیر رکھا گیا ہے یعنی ایک ایک فیصد۔ تف ہے آپ لوگوں پر۔ یہ اہمیت ہے آپ لوگوں کے نزدیک قومی صحت اور ایجوکیشن کی۔ الحفیظ و الامان۔ اس کے بعد کیا کہیں کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی یا یہ کہ آپ بھی شرمسار ہو ہم کو بھی شرمسار کر۔