عید قربان کے رنگ

پاکستانی قوم کی ہمت ہے کہ مہنگائی بدامنی اور نفسا نفسی کے دور میں بھی عید کا تہوار بھی جیسے تیسے منا ہی لیتی ہے کہ بیچارے عوام کے لیے تو اب خوشی کے مواقع کم ہی میسر آ تے ہیں ورنہ تو بقول منیر نیازی:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

البتہ ایک طبقہ ہمارے ملک میں ضرور ایسا ہے جس کے لئے ہر روز عید اور رات شب رات ہوتی ہے۔ لہذا انہیں نہ تو عید کا انتظار ہوتا اور نہ ہی اس کے آ نے جانے کا ان کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ عوام عید کی خوشیوں کے حصول کے لئے بھی کئی پاپڑ بیلتے ہیں اور صورت حال ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے والی ہوتی ہے۔ نئے کپڑے چوڑیاں مہندی اور غباروں میں لپٹی ہوئی خوشیاں بھی اب عام آ دمی کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

میٹھی اور چھوٹی عید کے مقابلے میں نمکین اور بڑی عید کے اور تقاضے ہیں۔ عید الفطر میں چاند رات بھی اہمیت رکھتی ہے اور آ سمانی چاند کے ساتھ ساتھ ہر کوئی اپنے حصے کا چاند دیکھ کر عید کرتا ہے۔ عیدالاضحی کا پتہ کیونکہ دس دن پہلے لگ جاتا ہے اس لئے اس کی تیاری کا بھی وقت مل جاتا ہے۔ اس کے باوجود عید کا تہوار گہما گہمی ہلے گلے اور ہلچل کے ساتھ ہی گزرتے ہیں۔ قربانی کے جانور کی خریداری بھی ایک اہم مرحلہ ہے، جس سے نصیبوں والے سرخرو ہوتے ہیں۔ بیوپاری اور خریدار ایک دوسرے کا شکار کرتے نظر آ تے ہیں۔ سب سے مشکل مرحلہ اچھے بکرے کی تلاش ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بکرا نما بکری لا کر سرخرو ٹھہرتے ہیں اور کچھ کے بکرے ہی بکری ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح بو بکرا اور ٹکریں مارنے والے بکروں سے بھی پالا پڑتا ہے۔ لیکن بالآخر اس مقولے پر ہی یقین کرنا پڑتا ہے کہ
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، آ خر ایک روز چھری کے نیچے آ ئے گی۔

سو اسی روز  قصائی حضرات چھریاں سب تیز کر کے اسے دو دھاری تلوار بناتے ہیں جو قربانی کے جانور کے ساتھ ساتھ اس کے مالک پر بھی برابر چلتی ہے۔ اس عید پر قصائی وی آ ئی پی ہوتے ہیں اور ان کی خوب چاندنی ہوتی ہے۔ قربانی دراصل اللہ کی راہ میں اپنی خواہشات اور پیاری چیزوں کی قربانی کا نام ہے۔ جبکہ اب ہم نے قربانی کی اصل روح کو بھلا کر اسے سٹیٹس سمبل اور وی آئی پی کلچر میں تبدیل کر دیا ہے۔

قربانی کا جانور جتنا مہنگا ہو گا، صاحب قربانی کی حیثیت کا اسی حساب سے اندازہ لگایا جاتا ہے۔ گویا انسانوں کی طرح قربانی کے جانوروں کا بھی اب اسٹیس سمبل بن گیا ہے۔ اسی طرح اب غریب غربا کو گوشت تقسیم کرنے کی بجائے ڈیپ فریزر میں رکھنے کا رواج عام ہو چلا ہے۔ کاش ہم قربانی کو عام آ دمی کے لئے بھی آ سان بنائیں اور محض اپنی ناک اونچی رکھنے کے اور مہنگا جانور خریدنے کے کسی اور کو بھی اس میں شامل کریں اور ان کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں اور کسی ضرورت مند کی بھی مدد کریں۔

قربانی کی اصل روح کو سمجھیں اور اپنی انا ذاتی مفادات کی بھی قربانی دیں کہ آ ج ہمیں قربانی کا دنبہ تو یاد ہے مگر باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو ہی قربانی کا اصل فلسفہ ہے۔ عید قربان کے بعد بجٹ کی بھی آ مد آ مد ہے اور ایک بار پھر باری عوام کی ہے آ نی ہے کہ عوام سے زیادہ قربانی کا بکرا کون بن سکتا ہے۔