ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں بے یقینی کے سائے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 13 / جون / 2025
اسرائیل نے ایران پر متعدد حملے کیے ہیں ۔ ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور ایٹمی سائنسدانوں کو ہلاک کردیا گیاہے۔ یہ حملے فضائی بھی تھے اور ایران کے اندر موساد کے ایجنٹوں نے بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل سے دردناک انتقام لینے کا اعلان کیا ہے تاہم دونوں ملکوں کی عسکری و تکنیکی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس جنگ میں ایران کی کامیابی کا امکان نہیں ہے۔
امریکہ نے ایران پر اسرائیلی حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے ایران امریکہ کو فریق بنانے کی کوشش نہ کرے۔ تاہم امریکہ نے اسرائیلی حملوں سے ایک دن پہلے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سے اپنے عملہ کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کردیا تھا۔ دوسری طرف آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ یہ حملے امریکی اعانت و سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتے تھے۔ اگرچہ تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے براہ راست امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کی ہے لیکن ماضی قریب میں ایرانی لیڈر متنبہ کرتے رہے ہیں کہ اگر اسرائیل حملہ کرتا ہے تو امریکہ کو بھی جنگ میں فریق سمجھا جائے گا اور علاقے میں اس کے مفادات ایران کےجائز اہداف ہوں گے۔ البتہ موجودہ صورت حال میں دیکھنا ہوگا کہ ایران جوابی کارروائی میں کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور جنگ کو کس حد تک طول دینا چاہتا ہے۔
سرسری جائزہ میں یہ حملے اسرائیل کی کامیابی سے زیادہ ایرانی لیڈروں کی ناکامی پر دلالت کرتے ہیں۔ ایران نے اکتوبر 2023 میں حماس کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کراکے درحقیقت اپنے اس خواب کی تکمیل کے لیے پہلا قدم اٹھایا تھا کہ اسرائیل کو نیست ونابود کرکے فلسطینی ریاست قائم کردی جائے۔ مالی، عسکری، تکنیکی ، سیاسی و سفارتی امداد کے بغیر اسرائیل کو تباہ کردینے کا خواب دیکھنا ، خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسا تھا۔ ایران البتہ مشرق وسطیٰ میں اپنی پراکسی قوتوں کے ساتھ دہشت کی علامت بنا ہؤا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ حماس کے علاوہ حزب اللہ و حوثیوں کے ذریعے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ یہ تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک کردیا ہے۔ ان کی لڑنے کی صلاحیت ختم کردی گئی ہے اور اب وہ غزہ پر مکمل قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر دوسرے ملکوں کی طرف دھکیلنے کی انسانیت سوز پالیسی پر عمل کررہا ہے۔
ایران کی مذہبی قیادت نے نہ تو اکتوبر 2023 سے پہلے دشمن کی صلاحیت کا درست اندازہ قائم کیا اور نہ اس کے بعد اسرائیل کے مقابلے کے لیے اپنی صلاحیت بہتر کرنے پر توجہ دی۔ اس کے برعکس پراکسی گروہ تیار کرنے کے علاوہ اس کی ساری توجہ جوہری ہتھیار بنانے پر مبذول رہی۔ اگرچہ ایرانی لیڈروں نے ہمیشہ یہی دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے قائم رکھنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل کے علاوہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی یہ کہہ رہی ہے کہ ایران مختصر مدت میں ایٹمی دھماکہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر حملوں کا جواز دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران 9 جوہری ہتھیاروں کے لیے یورینیم افزودہ کرچکا ہے۔ امریکہ بھی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بات کرتا رہا ہے ۔ صدر ٹرمپ گزشتہ چند ماہ میں تواتر سے اعلان کرتے رہے ہیں کہ ایران کسی صورت ایٹمی طاقت نہیں بن سکتا۔ وہ معاہدہ کرلے یا تباہی کا سامنا کرے۔
حیرت انگیز طور پر ایک طرف پوری امریکی حکومت دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ اسرائیل نے خود ہی ایران پر حملے کیے ہیں اور امریکہ اس میں ملوث نہیں ہے لیکن دوسری طرف حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ایران کو فوری معاہدہ کرنے کی دعوت دی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ بصورت دیگر ایران مکمل طور سے تباہ ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایران کو ایک کے بعد ایک موقع دیا کہ وہ معاہدہ کرلے۔ ایران کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ ان کی توقعات، معلومات یا اندازوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔ امریکہ دنیا کا سب سے بہترین اور مہلک ترین فوجی ساز و سامان تیار کرتا ہے ۔ یہ سب کچھ اسرائیل کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ بلکہ مزید بھی آرہا ہے اور اسرائیل کو اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنا بھی بخوبی آتا ہے۔ٹرمپ نے لکھا کہ کچھ ایرانی سخت گیر عناصر نے بہادری دکھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ وہ سب مارے جاچکے ہیں اور حالات مزید خراب ہوں گے۔ آئندہ حملے پہلے سے بھی زیادہ سنگین ہوں گے۔ایران کو فوری طور پر معاہدہ کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ کچھ باقی نہ بچے اور اس چیز کو بچایا جاسکے جسے کبھی ’ایرانی سلطنت‘ کہا جاتا تھا‘۔
امریکی صدر کے اس افسوسناک بیان کی روشنی میں یہ ایرانی الزام بے بنیاد نہیں لگتا کہ اسرائیلی حملوں میں امریکہ کی معاونت شامل ہے۔ یوں بھی امریکہ واضح کرچکا ہے کہ وہ اسرائیل پر ہونے والے کسی بھی حملہ کو روکنے میں پوری معاونت کرے گا۔ اسرائیل کے ہمسایہ عرب ممالک بھی ان کوششوں میں ماضی کی طرح امریکہ و اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔ جیسا کہ آج رات حملوں کے بعد جب ایران نے اسرائیل کی طرف ڈرون بھیجے تو اسرائیل کے علاوہ اردن نے بھی اپنی فضائی حدود میں انہیں تباہ کیا۔ دوسری طرف اسرائیل نے دو سو طیاروں سے ایران پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن کسی عرب ملک نے ابھی تک اسرائیل کی طرف سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شکایت نہیں کی ہے۔
جولائی 2024 میں اسرائیلی ایجنٹوں نے تہران میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ کو ہلاک کردیا تھا۔ یہ ایران کی خود مختاری پر براہ راست حملہ کے علاوہ ایران کے لیے وارننگ تھی کہ اس کے پاس اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک، تکنیکی صلاحیت اور عسکری بالادستی کا جواب دینے کی سکت نہیں ہے۔ اس کے بعد ایران اگر بیرون ملک عسکری گروہوں کو ازسر نو منظم کرنے کی بجائے اپنےدفاع پر توجہ دیتا اور ان کمزوریوں کو دور کیا جاتا جن کی وجہ سے اسرائیلی ایجنٹ تہران میں ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے تو وہ اس وقت اسرائیل کا بہتر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتا۔ اب صورت حال یہ ے کہ اسرائیل نے ایک ہی ہلے میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کو ہلاک کردیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ابھی تو آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کا آغاز ہؤا ہے۔، آئیندہ چند دنوں میں ایران پر مزید حملے کیے جائیں گے تاکہ اس کے اایٹمی پروگرام کو مکمل طور سے تباہ کردیا جائے اور اس کی عسکری قوت ختم ہوجائے۔ اسرائیل کے ہاتھوں ایران کے ساتھ بھی حماس اور حزب اللہ جیسا سلوک ہؤا ہے۔ البتہ اس کا جواب دینے کے لیے ایرانی لیڈروں نے اگر داخلی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے محض ایرانی عوام کو اپنی ’طاقت‘ دکھانے کے لیے اسرائیل پر میزائل و ڈرون حملے جاری رکھے تو تباہی کا سلسلہ دراز ہوگا۔
ایرانی لیڈروں کو سمجھنا چاہئے کہ اسرائیل کے ساتھ لڑائی 80 کی دہائی میں عراق کے ساتھ ہونے والی جنگ کی طرح نہیں ہے۔ اسرائیل ایران سے دو ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ان کے درمیان زمینی جنگ نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں صرف اسی ملک کو سبقت حاصل ہوگی جس کے پاس زیادہ فضائی قوت ہے۔ اسرائیل نے ایران پر حملے کرکے اپنی اسی فضائی برتری کا ثبوت دیا ہے۔ ایرانی دفاعی نظام کسی ایک اسرائیلی طیارے کو بھی گرانے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اس کے علاوہ ایک سخت گیر ریاست ہونے کے باوجود موساد کے ایجنٹ ایران میں پاؤں جمانے اور ایرانی عسکری لیڈروں اور سائنسدانوں کو ان کے گھروں میں ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایرانی حکام نہ پہلے ان کا سراغ لگا سکے اور نہ ہی بعدمیں کسی کو پکڑا جاسکا ہے۔ ان حالات میں آیت اللہ خامنہ ای کا یہ دعویٰ دیوانے کی بڑ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ ’اس جرم کے ذریعے صیہونی حکومت نے اپنے لیے ایک کڑوی اور دردناک تقدیر لکھ دی ہے اور وہ یقینی طور پر اس انجام کو دیکھے گی‘۔
یوں بھی ایران کے روحانی پیشوا 86 برس کے ہوچکے ہیں لیکن ملک میں انتخابات اور عوام کی نمائیندہ حکومت کا ڈھونگ کرنے کے باوجود مذہبی معاملات کے علاوہ وہی تمام سیاسی، عسکری اور انتظامی فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ ایرانی فوجی جرنیلوں کی ہلاکت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای ہی متبادل لیڈروں کی تقرری کا اعلان کررہے ہیں۔ معاملات میں ملکی صدر ، پارلیمنٹ یا حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ایران کا وقار خاک میں ملانے والی پالیسیاں بنانے پر معافی مانگنے اور خود کو عوام کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش کرنے کی بجائے ، وہ الفاظ کے جادو سے دنیا پر اپنی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ ایران نے طویل مدت تک پراکسی گروہوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں جو دہشت قائم کی تھی ، اس کا اثر حماس کے بعد حزب اللہ، حوثیوں اور شام میں بشار الاسد کے انجام کے ذریعے بہت پہلے زائل ہوچکا تھا۔
ایرنی لیڈروں کو انتقام کی بات کرنے سے پہلے ایرانی عوام کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ اسرائیل کو للکارتے ہوئے ،ایران کی فضائیہ اور بیرونی حملوں سے بچاؤ کا نظام استوار نہیں کیا گیا۔ امریکہ سے دشمنی کے باوجود چین اور روس کے ساتھ ایران کے اچھے تعلقات رہے ہیں ۔ اگر ملکی دفاع پر توجہ مبذول کی جاتی تو ان سے ایسی ٹیکنالوجی لی جاسکتی تھی جو اسے آج اسرائیل کے مقابلے میں شرمندہ نہ کرتی۔ ایران نے میزائل و ڈرون بنانے میں ضرور مہارت حاصل کی ہے لیکن یہ میزائل و ڈرون اسرائیل کے آئرن ڈوم سسٹم اور امریکی معاونت سے مکمل طور سے ناکارہ ثابت ہوئے ہیں۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کیا حالات پیش آئیں گے۔ ایران براہ راست اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ، اس لیے ا س امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ خطے میں دہشت گرد حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے۔ لیکن ایسا کوئی بھی اقدام ایرانی عوام کے مستقبل کو مزید تاریک کرنے کا سبب بنے گا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ ایک غیر یقینی اور خطرناک صورت حال کے دہانے پر کھڑا ہے۔