ایران کی جوابی کارروائی، اسرائیل کے مزید حملے

  • ہفتہ 14 / جون / 2025

ایران اور اسرائیل ایک دوسرے پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔ اسرائیل طیاروں و میزائیلوں سے ایران میں ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ ایران نے گزشتہ رات کے دوران تل ابیب سمیت اسرائیل کے متعدد مقامات ہر چار بار میزائل حملے کیے۔

ایران کے اسرائیل پر جوابی حملوں میں تین اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا اور سیاسی رہنماؤں نے تصدیق کی ہے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو چکی ہے۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہریوں کو مسلسل محفوظ تہ خانوں میں جانے کی ہدایت ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ رات بھر کی کارروائی میں فضائیہ نے تہران میں ’درجنوں‘ اہداف کو نشانہ بنایا جن میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کی تنصیبات بھی شامل تھیں۔ مطابق ان حملوں میں کئی سٹریٹیجک مقامات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایران میں اہداف پر دوبارہ حملے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر اور فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل ٹومر بار نے ایک مشترکہ جائزہ اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ’ایران تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔‘ ان کے مطابق منصوبے کے تحت اسرائیلی جنگی طیارے تہران میں مزید اہداف پر حملے کریں گے۔

تہران کی سڑکوں پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی جوہری سائنسدانوں محمد مہدی تہرانچی اور فریدون عباسی دوانی کے ساتھ ساتھ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز میجر جنرل حسین سلامی، میجر جنرل غلام علی رشید، ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ، اور میجر جنرل محمد باقری کی تصاویر والے پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔ یہ پوسٹرز عوامی غم و غصے اور قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر نمایاں مقامات پر لگائے گئے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان نے جمعہ کو بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر اسرائیلی حملے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ’سنگین خطرہ‘ ہیں۔ 15 رکنی سلامتی کونسل نے اپنی معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے بھی شرکت کی اور علاقائی استحکام اور جوہری سلامتی کو لاحق شدید خطرات سے خبردار کیا۔

پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنی تقریر میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کو ’غیر ضروری اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور ایران کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ ہنگامی اجلاس ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی درخواست پر بلایا گیا جنہوں نے کہا کہ اسرائیل ’تمام حدیں پار کر چکا ہے اور عالمی برادری کو اس کے جرائم کی سزا دیے بغیر نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

پاکستان، چین اور روس نے اس اجلاس کی درخواست کی حمایت کی۔ پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کو روکے اور اس بحران کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے۔