ڈاکٹر شفیع کوثر: کچھ یادیں اور ملاقاتیں
- تحریر فیضان عارف
- اتوار 15 / جون / 2025
وہ لوگ جنہوں نے اچھے مستقبل کی تلاش میں اپنا ملک اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑا، پردیس میں طرح طرح کی صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا کیا، اجنبی ملکوں اور معاشروں میں اپنی جگہ بنانے کے لئے حوصلے اورہمت کی مثال بنے رہے۔
جب انہیں دیار غیر میں ذرا قدم جمانے کا موقع میسر آیا تو انہوں نے پرائے ملکوں میں اپنی ثقافت اور زبان وادب کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان کا چراغ جلانے کے لئے ایک نئی جستجو کا آغاز کیا۔ تارکین وطن کویکجا کرنے اور انہیں مل بیٹھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تنظیموں کی طرح ڈالی، اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے دستیاب وسائل سے تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا۔ قومی اور مذہبی تہواروں پر کمیونٹی کو اکٹھا کرنے کا آغاز کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ممنون اور احسان مند ہونا چاہیے۔ ہم پاکستانیوں کی جو نئی نسل آج ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں میں آسودہ زندگی گزار رہی ہے، اُن کوشاید اندازہ نہیں کہ ہمارے جو بزرگ 60 سے 80کی دہائی کے دوران یہاں آئے تھے انہوں نے کسی قدر مشکلات اور دشوار مراحل سے گزر کر ہمارے لئے آسان زندگی کی راہیں ہموار کی تھیں۔
ایسے ہی بے مثال لوگوں میں ایک نام ڈاکٹر شفیع کوثر کا ہے جن کی زندگی مسلسل محنت جستجواور جد و جہد سے عبارت تھی۔ وہ میرے ان بزرگ دوستوں میں سے تھے جن کے طرز عمل اور مثبت رویوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں 1995 میں دوسری بار سکاٹ لینڈ گیا تو گلاسگو میں ایک شاندار مشاعرے کے بعد ڈاکٹر شفیع کوثر مجھے اپنے گھر لے گئے جہاں اُن کی بیگم راجو کوثر نے پاکستان کے روایتی کھانوں سے مہمان شاعروں کے لئے دستر خواں سجایا ہوا تھا۔ ڈاکٹر کوثر پاکستان سے آنے والے اہل قلم کی گلاسگو میں پذیرائی اور میزبانی سے ایسے ہی خوش ہوتے تھے جیسے لندن میں ڈاکٹر جاوید شیخ شاعروں اور ادیبوں کی مہمان نوازی کر کے سر شار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر شفیع کوثر نے 1965 میں نشتر میڈیکل کالج ملتان سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا جس کے بعد وہ کچھ عرصہ پاک فوج کے میڈیکل کور میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1968 میں وہ برطانیہ آئے اور 1972 میں مستقل طور پر گلاسگو میں سکونت پذیر ہوگئے۔
سکاٹ لینڈ انہیں بہت راس آیا۔ اس شہر میں جی پی (جنرل پریکٹیشنر) کے طور پر کام کرنے کے لئے انہیں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے کئی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک ڈاکٹر کے طور پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے معاملے کو اعلی حکام تک لے گئے۔ بالآخر کامیاب ہوئے اور رفتہ رفتہ ان کا شمار گلاسگو کے مقبول ترین ڈاکٹروں میں ہونے لگا۔ وہ اپنے مریضوں اور ملنے والوں کو صحت مند رہنے کے ایسے ٹپس اور گر بتاتے تھے کہ جو زندگی بھر اُن کے کام آتے۔ ایک بار مجھے کہنے لگے کہ اگر ہماری کمیونٹی کے لوگ دو پہر کا کھانا ترک کر دیں تو کئی طرح کی بیماریوں اور صحت کے مسائل سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
یہ 25 برس پہلے کی بات ہے میں نے ان کا یہ مشورہ پلے باندھ لیا اور دوپہر کا کھانا(لنچ) چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد سے نہ تو میرا وزن بڑھا اور نہ ہی مجھے صحت کے کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ڈاکٹر کوثرقیلولے کو بھی صحت کے لئے بہت مفید سمجھتے تھے اور خود بھی ہر روز دوپہر کو کچھ دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے نیند کی کیفیت سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر شفیع کوثر کوسکاٹ لینڈ کا بابائے اُردو کہا جاتا تھا۔ وہ گلاسگوکے اُن اولین لوگوں میں سر فہرست تھے جنہوں نے اردو زبان وادب کے فروغ کے لئے حلقہ ادب وفن قائم کر کے پاکستانی کمیونٹی کے منتشر لوگوں کو اس پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا شروع کیا۔ سکاٹ لینڈ آنے والے اُردو کے ہر نامور ادیب اور شاعر کو ان کی میزبانی اور مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوا۔ ڈاکٹرصاحب اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت کے باوجود اپنی کمیونٹی کی خدمت اور اہل قلم کی پذیرائی کے لئے بہت متحرک اور فعال رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بھی بہت ذمہ داری سے کی اُن کے تمام بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور کامیاب زندگیا ں گزار رہے ہیں۔
اُن کا بیٹا ڈاکٹر عمران کوثر جب زیر تعلیم تھا تو مجھے سکاٹ لینڈ کے سیر سپاٹے کے لئے لے جایا کرتا تھا۔ میری دعا ہے کہ اللہ ایسی فرمانبردار اولاد سب کو دے۔ ڈاکٹر شفیع کوثر کی بیگم راجو کوثر بہت نازک مزاج تھیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے ان کا خیال رکھنے اور ان کے ناز اٹھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ چند برس پہلے جب راجو آپا اپنے خالق حقیقی سے جاملیں تو ڈاکٹر کوثر کے لئے یہ صدمہ انہیں گوشہ نشینی کی طرف لے گیا۔ اس کے علاوہ کووڈ کی وبا نے بھی لو گوں کو ایک دوسرے سے دور اور تقریبات سے گریز پر مجبور کردیا۔ گزشتہ برس میں کرسمس کی چھٹیوں کے دوران ڈاکٹر شفیع کوثر سے ملنے کے لئے اُن کے گھر گیا تو انہوں نے بڑے تپاک سے میرا خیر مقدم کیا۔ وہ خاصے نحیف ہو چکے تھے لیکن ذہنی طور پربہت بیدار اور مستعد تھے۔ اس ملاقات میں وہ اپنے ماضی کے خوشگوار واقعات سناتے اور اپنی بیگم راجو کوثر کو یاد کرتے رہے۔ انہوں نے ایک بار گلاسگو سے سڑک کے ذریعے پاکستان تک سفر کیا تھا اور اس دوران انہیں جن تجربات سے گزرنا پڑا اس کی دلچسپ روداد سن کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ اپنی ان یاداشتوں کو قلمبند کریں تو وہ ایک حسرت بھری مسکراہٹ سے کہنے لگے کہ”اب بہت دیر ہوگئی ہے“۔ میں نے صوفے سے اٹھ کر اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ”اللہ آپ کو سلامت رکھے آپ آغاز تو کریں“۔ میری اس تسلی پر اُن کی آنکھوں میں خاموش آنسوؤں کے ستارے جھلملانے لگے۔
ڈاکٹر شفیع کوثر گلاسگو کی مرکزی جامع مسجد کے انتظامی ادارے جمعیت اتحاد المسلمین کے صدر اور جنرل سیکر ٹری کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ اس منصب پر انہوں نے اپنی کمیونٹی کے لئے قبرستان کی زمین کے حصول سے لے کر اور جو بہت سے اچھے کام کئے اس پر گلاسگو میں مقیم مسلمان انہیں ہمیشہ یادرکھیں گے۔ ڈاکٹر شفیع کوثر جیسے لوگ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک رول ماڈل اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے کبھی صلے اور ستائش کی تمناکئے بغیر اردو زبان وادب اور اپنی کمیونٹی کی بے لوث خدمت کی۔ انہوں نے 1965 میں آرمی کے میڈیکل کور میں ایک کیپٹن ڈاکٹر کی حیثیت سے محاذ جنگ پر جو پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں وہ اس پرفخر کیا کرتے تھے۔ ویسے تو ڈاکٹر شفیع کوثر کے پاس فخر کرنے کے لئے اور بہت کچھ بھی تھا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی خدمت خلق کے لئے وقف کررکھی تھی۔ لیکن وہ کبھی اپنے اچھے کاموں اور کارناموں کی تشہیر کے قائل نہیں تھے۔ ڈاکٹر شفیع کوثرنے بہت مطمئن اور کامیاب زندگی گزاری۔ وہ سکاٹ لینڈ میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور ترویج کا ایک اہم حوالہ تھے۔ آخری ملاقات میں جب میں انہیں خدا حافظ کہہ کر رخصت ہونے لگا تو وہ اداس ہو گئے۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب ان شا اللہ پھر ملیں گے وہ مسکرا دیئے اور مقبول عامر کا یہ شعر سنایا:
وہ فصلِ گل کی طرح آ تو جائے گا لیکن
مجھے خزاں کی ہوا دور لے گئی ہوگی
میں نے اُن کا ہاتھ تھام لیا۔ مجھے ایسے لگا کہ وہ خالق حقیقی کے حضور اپنی حاضری کے لئے خود کو تیار کر چکے ہیں۔ کہنے لگے کہ ایک ڈاکٹر کے طور پر مجھے احساس ہے کہ میرا جسم اس عمر میں تبدیلی کے کن مراحل سے گزر رہا ہے۔ میں اس اٹل حقیقت کو تسلیم اور قبول کر چکا ہوں۔ گزشتہ دنوں جب مجھے ڈاکٹر شفیع کوثر کے انتقال کی خبر ملی تو 1994 سے 2025 تک کی ان گنت باتوں اور ملاقاتوں کی بازگشت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ بلا شبہ ایک شاندار، پروقار اور نفیس انسان تھے جو ایک بھر پور زندگی گزار کرابدی نیند سو گئے۔ اُن کے خاندان کے علاوہ مجھ سمیت اُن کے تمام دوست احباب اُن کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے رہیں گے اور وہ جب جب ہمیں یاد آئیں گے ہماری آنکھوں میں آنسوؤں کے تارے جھلملانے لگیں گے۔ ثناا للہ ظہیر نے کہا تھا:
میں رفتگاں کے لئے رو نہیں رہا لیکن
میری دعاؤں میں کچھ نام بڑھتے جاتے ہیں