ایران، امریکہ اور اسرائیل کا ہدف کیوں ہے؟
- تحریر نسیم شاہد
- اتوار 15 / جون / 2025
ایران کے میزائل حملوں کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں جب یہودیوں کے بچے خوف کے عالم میں جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے اور ان کی چیخ و پکار آسمان تک سنائی دے رہی تھی تو ان مناظر کی وڈیوز دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کیا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے مشیروں کو کچھ خیال آیا ہو گا کہ غزہ میں انہوں نے جو بربریت کی انتہا کی اور ہزاروں معصوم بچوں کو شہید کر دیا وہ کتنا بڑا ظلم اور کتنا بڑا گناہ تھا۔
دنیا ابھی تک حیران ہے کہ اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کیوں کیا جبکہ خود امریکہ یہ کہہ رہا تھا دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرکے مذاکرات کی طرف آنا چاہئے۔اسرائیل کے اس اچانک حملے میں بلاشبہ ایران کا بہت نقصان ہوا۔ چیف آف آرمی سٹاف سمیت 5ٹاپ جرنیل شہید ہو گئے، جبکہ چھ ایٹمی سائنسدان بھی اس حملے کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر اور ایٹمی تنصیبات پر بیک وقت حملوں کی وجہ سے ایران کا دفاعی نظام بروقت جواب نہ دے سکا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے دو سو طیاروں نے ایران میں گھس کر کارروائی کی، اس پر خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں کہ ایران کو حملے کی اطلاع کیوں نہیں ہوئی اور اسے روکنے کی حفاظتی تدابیر کیوں نہ اختیارکی گئیں۔ لیکن اس رات ایران نے جو تاریخی جوابی حملہ کیا، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ موثر ترین دفاعی نظام بھی بڑے حملے کے نتیجے میں مفلوج ہو جاتا ہے۔اسرائیل اپنے بڑے شہروں کو نہ بچا سکا حتیٰ کہ اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول ہیڈکوارٹر بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں آکر تباہ ہو گیا۔
حملے اتنے شدید تھے کہ اسرائیل کی پوری آبادی کو بنکروں میں پناہ لینی پڑی۔ خود امریکہ کے اندر ان حملوں کی وجہ سے اضطراب پھیل گیا۔ بعض امریکی سینیٹرز نے نیتن یاہو پر تنقید کی کہ اس نے ایران پر حملہ کیوں کیا۔ امریکی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کی ایک نئی جنگ میں اس کی پشت پناہی چھوڑ دے کیونکہ اس سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کچھ زیادہ ہی تیزی میں ہیں اور امریکی صدر ان کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔ اسرائیلی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اشتعال انگیز بیان دیا، اس سے یہ بھی لگتا ہے وہ بہت زیادہ طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایران سے کہا کہ وہ مزاحمت چھوڑے اور ڈیل کرے وگرنہ تباہی کیلئے تیار رہے۔ یہ بات ڈونلڈٹرمپ اس ایران کو کہہ رہے ہیں جو کئی دہائیوں سے امریکہ کے سامنے ڈٹا ہوا ہے، جس نے معاشی پابندیاں بھی برداشت کی ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے دباؤکا بھی سامنا کیا ہے۔ اس نے اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہیں کیا اور امریکہ کو سپرپاور تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار بھی کیا۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایران میں کسی بھی سطح پر امریکہ یا اسرائیل کے لئے نرم گوشہ موجود نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ داخلی مسائل کی وجہ سے جو پاسداران انقلاب اور ملک کی دیگر سیاسی و سماجی طاقتوں میں نظریاتی اختلاف کا نتیجہ ہیں، ایک خلیج موجود ہے۔ لیکن جہاں تک ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف پالیسی کا تعلق ہے، اس پر زیادہ اختلاف نہیں۔ اسی دوران یہ خبر بھی آئی یا اڑائی گئی کہ رضا شاہ پہلوی کے بیٹے پرنس رضا شاہ پہلوی جونیئر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔اسرائیل کے کسی خفیہ مقام میں ہونے والی اس ملاقات کو ایران میں رجیم چینج کے اس منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جو ایک عرصے سے امریکہ کے تھنک ٹینک کی آرزو ہے۔ مگر ایران میں امام خمینی کے حکومتی ماڈل کی مضبوط گرفت کے باعث یہ آرزو خاک شد چلی آ رہی ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایران پر اسرائیل نے یہ بڑا حملہ کرکے ایک بڑا نقصان پہنچانے کے باوجود عوامی سطح پر کوئی ایسی کامیابی حاصل نہیں کی جسے دیکھ کر کہا جا سکے ایران میں دوسری آواز یں بھی اٹھ رہی ہیں،بلکہ اس کے برعکس پورے تہران میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل کے نعرے لگائے۔ اپنے گھروں اور کاروباری مراکز پر انتقام کے سرخ جھنڈے لہرائے۔ امریکہ میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ایران کی نئی نسل ایران کے موجودہ حکومتی ماڈل اور اس کی پُر گھٹن پالیسیوں کی وجہ سے تنگ ہے۔ اگر اسے منظم کیا جائے تو ایران میں رجیم چینج کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، مگر ایسے کام کے لئے ایک فکری تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ کسی ملک کی قیادت کو مار کے تبدیلی لائی جائے۔اس وقت تہران کی سڑکوں پر زیادہ تر نوجوان مرگ بر امریکہ کے نعرے لگا رہے ہیں۔وہ ایسی تبدیلی اس اکیسویں صدی میں بالکل نہیں چاہیں گے جو انہیں ایک بڑی غلامی سے دوچار کردے۔
اس ساری صورتِ حال میں اسلامی ممالک کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جارحانہ پالیسی کے ذریعے اسلامی ملکوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ چند ہفتے پہلے انہوں نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے حوالے سے جس طرح 340 ارب ڈالر کا خراج وصول کیا وہ اس امر کی گواہی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس کے سامنے کسی اسلامی ملک کو پَر مارنے کی جرات نہیں۔اگرچہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، قطر، ترکی نے اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے، مگر حیرت ہے کہ کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا فوری اجلاس طلب کیا جائے۔56اسلامی ممالک اگر اس حوالے سے متحد ہوتے تو امریکہ یااسرائیل کی جرات نہ ہوتی کہ اس طرح تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ایران پر حملے کئے جاتے۔
ایران اپنی بساط کے مطابق اسرائیل کے حملوں کا جواب دے رہا ہےمگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اسے پہلے ہی امریکہ کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ہے۔اس کی معیشت پر بہت دباؤ ہے اور ایک نئی جنگل لڑنا پڑی تو وسائل کی کمی بھی آڑے آ سکتی ہے۔تاوقتیکہ اسلامی ممالک، چین اور روس اس کی مدد نہ کریں۔ ایران کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ امریکی جارحیت اور اسرائیلی مظالم کے خلاف فلسطینیوں کے حق میں آخری دفاعی لائن ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل غزہ کو تباہ کرنے کے باوجود خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا ۔اسی لئے وہ ایران ، اردن، سعودی عرب، قطر یا متحدہ عرب امارات جیسے نیوٹرل کردار پر مجبور کرنا چاہتا ہے لیکن ایرانی تاریخی کو دیکھتے ہوئے وثوق سے کہا جا سکتا ہے اس میں کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)