امریکہ جنگ میں شامل ہؤا تو یہ پورےمشرق وسطیٰ تک پھیل جائے گی

اس وقت ایران اسرائیل تنازعہ میں  سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ   دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کیا صورت اختیار کرے گا۔ اسرائیلی حکومت مسلسل امریکہ کو جنگ میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی ہے لیکن واشنگٹن ابھی تک براہ راست جنگ میں ملوث ہونے سے گریز کررہا ہے۔

کینیڈا میں جی سیون اجلاس کے موقع پر  صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا ملک عسکری طور پر اس تنازع میں شامل ہوگا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ یوں بظاہر صدر ڈونلڈ  ٹرمپ اس امکان کو مسترد  نہیں کرتے کہ امریکہ ، ایران کے خلاف شروع کی گئی اسرائیل جارحیت میں خود بھی شریک ہوسکتا ہے۔ لیکن بیشتر مبصرین و ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی عوام کسی  نئی جنگ میں فریق بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔  امریکہ کے بیشتر حلیف ممالک بھی ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ کو یک طرفہ اور غیر ضروری  سمجھتے ہیں۔  اگرچہ کسی مغربی ملک نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہیں کی ہے لیکن جنگ روکنے کی باتیں  ہوتی رہی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز  سوشل میڈیا  پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ڈیل ہوجائے گی اور وہ خود اسے یقینی بنائیں گے۔ تاہم مزید ایک دن گزرنے کے بعد  اب ان کا کہنا ہے کہ  ’ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔ انہیں مزید تاخیر کے بغیر فوری طور پر بات چیت کرنی چاہیے‘۔ تاہم  انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔  گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے روس کے صدر پوٹن کی طرف سے ثالثی کا بھی ذکر کیا تھا لیکن اس بارے میں بھی گزشتہ چوبیس گھنٹے کے اندر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ عرب ممالک کے علاوہ یورپی ممالک نے بھی جنگ بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن  کسی طرف سے یہ واضح نہیں کیا جارہا کہ   یہ مقصد  کیسے حاصل ہو۔

مغربی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ ایران نے عرب  ممالک کے توسط سے جنگ  بندی کی کوشش کی ہے۔  ایران نے ایسی کسی کوشش کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے لیکن ایرانی حکام کی طرف سے  مفاہمت کے اشارے دیے گئے ہیں۔  گزشتہ روز ایرانی  وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ’ایران اپنے دفاع میں اسرائیل پر حملے کررہا ہے جو اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں کیے گئے ہیں۔ اسرائیل حملے بند کردے تو ہم بھی جوابی کارروائی نہیں کریں گے‘۔ آج ایران کے صدر  مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ  میں خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ’ ایران کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم وہ جوہری توانائی اور تحقیق کے اپنے حق کا بھرپور انداز میں دفاع کرے گا‘۔ اس بیان کو بھی ایران کی طرف سے نرم و مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔لیکن ایران شروع سے ہی یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ البتہ  اپنے ملک کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے ماحول میں ایرانی لیڈروں  کی طرف سے  مفاہمانہ لب و  لہجے میں کی جانے والی باتوں کو  مخالفین شکست کا اعتراف اور حامی  اعتماد اور حوصلہ مندی کہہ سکتے ہیں۔ ایران نے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ اس نے  کسی ملک سے ثالثی یا جنگ بندی کرانے کی درخواست  کی  ہے۔

دوسری طرف اسرائیل اپنی تاریخ میں پہلی بار اپنی سرزمین پر ایسے حملوں کا تجربہ کررہا ہے جو اس کے عوام کے لیے ناقابل یقین سی بات ہے۔ ایرانی حکام تل ابیب اور مغربی کنارے  کے مقبوضہ علاقوں میں آباد یہودی بستیوں کو خالی کرنے کا اسی طرح اعلان کررہے ہیں جیسا اسرائیلی حکام تہران خالی کرنے  کا ’حکم‘ دہراتے ہیں۔ ایران  نے تل ابیب کے علاوہ حیفہ میں  اسٹریٹیجک اہداف پر میزائل حملے  کیے ہیں۔ آج شام بھی تل ابیب پر متعدد میزائل پھینکے گئے تھے۔  تہران سے یہ اعلان بھی ہورہا ہے کہ آج رات اسرائیل پر شدید اور  سخت حملے ہوں گے۔  اسرائیلی وزیر اعظم اور حکام  اس صورت میں اگرچہ  بظاہر   اپنی کامیابی اور ایرانی فضا پر مکمل دسترس کا اعلان کرکے مزیر تباہی کا پیغام دے رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی تسلسل سے امریکہ  پر اس تنازعہ میں شامل ہونے  کا  سباؤ بڑھایا جا جارہا ہے۔  اس رویہ سے  تو یہی واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کو بھی صورت حال پر اس قدر کنٹرول نہیں ہے، جیسا کہ وہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔  اسی لیے  اسے امریکی امداد کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ جیسے ایرانی لیڈروں کے  مفاہمانہ بیانات کو جنگ بندی کی خواہش بتایا جاسکتا ہے، ویسے ہی اسرائیل کی طرف سے امریکی شمولیت کی خواہش کو بھی  نیتن یاہو حکومت کی کمزوری سمجھا جاسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے  کینیڈا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ ایران  یہ جنگ نہیں جیت رہا لیکن انہوں نے یہ دعویٰ کرنے سے گریز کیا کہ اسرائیل  کامیاب ہورہا ہے۔ یوں بھی میزائیلوں اور فضائی حملوں سے ایک دوسرے کی شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر کوئی بھی ملک کسی جنگ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس تباہی کے نمونے سامنے آتے ہیں جو دنیا بھر کے لوگ دونوں ملکوں میں دیکھ سکتے ہیں۔   فریقین کی طرف سے سامنے آنے والے اشاروں کی روشنی میں  قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جنگ بندی کی خواہش تل ابیب اور تہران میں یکساں طور سے موجود ہے۔ لیکن اسرائیلی لیڈروں میں ایرانی وزیر خارجہ کی طرح  یہ کہنے کا حوصلہ نہیں ہے کہ اگر  مخالف فریق حملے بند کردے تو ہم  بھی کارروائی نہیں کریں گے۔ دراصل یہ جنگ اسرائیل نے ناجائز اور تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر شروع کی تھی۔ اسے جارحیت کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے ایران کا یہ مؤقف قابل فہم ہے کہ اس کے خاتمے کا اعلان بھی اسرائیلی حکومت کی طرف سے کیا جائے۔ اس مرحلے پر جنگ بند ہوجائے تو شاید ایران اور اسرائیل اپنے اپنے طور پر اسے جیتنے کا اعلان کرکے اپنے عوام میں ’سرخروئی‘ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن چند مزید دن گزرنے کے بعد شاید دونوں ملکوں کے پاس یہ موقع  نہیں ہوگا۔

جنگ میں اب تک ایران کے 224  شہری جاں بحق اور 1200 زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں ایرانی حملوں کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوچکی ہے۔  جبکہ 300 زخمی ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کا نقصان کرنے اور اپنے شہریوں پر حملوں کے بارے میں بیانات بھی یک طرفہ ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں میں ہی شہری جان سے جارہے ہیں۔ اس ہلاکت خیزی کو روکنا دنیاکے ہر ملک کی ذمہ داری ہے۔ البتہ اقوام متحدہ میں امریکی ویٹو  اختیار کی وجہ سے جنگ بندی کی کوئی قرار داد منظور نہیں ہوسکتی۔ تاہم یہ طے ہے کہ   اس تنازعہ کا رخ طے کرنے کی طاقت و صلاحیت امریکہ ہی کے پاس ہے۔

امریکہ اگر جنگ میں کودتا ہے تو یہ  ایک کمزور ملک کے خلاف ایک سپر پاورکی لڑائی ہوگی جس کے بعد ایرانی لیڈروں کے پاس انتہائی اقدامات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز بند کرنے کا آپشن موجود ہے تاہم یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ اس کے پاس اس  بلاکیڈ کے لیے بحری طاقت موجود  ہے۔  اس جنگ میں  اگر ایران کسی امریکی ہدف کو نشانہ بناتا ہے، پھر تو شاید امریکہ کے لیے  صرف تماشا دیکھنا ممکن نہ رہے ۔ تاہم اسرائیل  کی  بدطینتی کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کوئی تخریبی کارروائی کرے اور اس  کا الزام  ایران پر عائد کردے۔ ایسے صورت میں امریکہ کو جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا جائے۔ ایسا کوئی سانحہ پورے مشرق وسطیٰ کو آگ میں دھکیلنے جیسا ہوگا۔   یا پھر کسی غلط فیصلے کے نتیجے میں ایران بھی کسی امریکی ہدف کو نشانہ بنا کر جنگ  کو پیچیدہ اور مشکل بنا سکتا ہے۔

امریکہ اگر براہ راست جنگ میں شامل ہؤا تو ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کاعذر موجود ہوگا۔ ایران شاید کسی امریکی فوجی اڈے یا بحری بیڑے کو تو نشانہ نہ بنا سکے لیکن خلیج میں امریکہ کے حلیف و دوست ملکو ں کو  سافٹ ٹارگٹ سمجھتے ہوئے  ضرور نشانے پر لے سکتا ہے۔ یہی وہ صورت حال جس کے بارے اکثر ماہرین  تنازعہ شروع ہونے سے  ہی متنبہ کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو مشور دیا ہے کہ وہ بات چیت میں جلدی کرے لیکن دیکھا جائے تو یہ خود امریکی مفاد میں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے جتنی جلد  ممکن ہو اس جنگ کو ختم کرانے میں کردار ادا کرے۔

حالات  کو دیکھتے ہوئے  یہ تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آئیندہ دو تین دن میں  اگر جنگ بندی   کی پیش رفت نہیں ہوتی تو حالات قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر شاید امریکہ خواہش کے باوجود اس جنگ کو محدود کرنے  پر قادر نہ رہے۔