انسان ہی انسان کا دشمن کیوں ہے؟

تمام تر تعلیم، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے بعد بھی انسان جاہلیت سے نہیں نکل سکے۔ ورنہ انسان جو ایک ماں باپ کی اولاد کہلاتے ہیں ایک دوسرے پر حملے کیوں کر کرتے؟

جنت میں ہوئی غلطی کی بدولت جنت سے دھکیلے گئے انسان کو اندھیرے سیارے پر آ کر بھی ندامت نہ ہوئی اور قابیل ہابیل کی جنگ میں پہلا انسان قتل ہوا۔ یہ جنگ بھی ایسی ہی تھی جیسی امریکہ نے عراق، لیبیا اور افغانستان کے خلاف لڑی ہے یعنی یکطرفہ جنگ۔ قابیل نے ہابیل کو ناحق قتل کر کے بھائی کو بھائی کے ہاتھوں قتل کرنے کی جو بنیاد رکھی تھی، وہ عمارت آج بھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ اور خونی کھیل جاری ہے۔

انسان نے اپنی محنت، پیسہ اور مہارت سب سے زیادہ جس ٹیکنالوجی پر لگائے ہیں وہ ٹیکنالوجی انسانوں کے قتل کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جنگی ہتھیار پتھر یا لکڑی کا ڈنڈا ہوا کرتے تھے۔ پھر انسان نے تھوڑی ترقی کی تو لوہے کا استعمال کرنا شروع کیا جس سے انسان کی جان لینا قدرے آسان ہوا۔ پھر انسان اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرتا ہوا بیسویں صدی میں پہنچ کر گندی گیسوں سے ایک ایسا بم تیار کرنے میں کامیاب ہوا کہ جس سے ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا جا سکے اور اس کی تابکاری صدیوں تک نکلتی رہے۔ انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر مرتے رہیں، اس دنیا میں آنے والے پہلے انسان کی پہ پہلی اولاد ہی کو دو الگ الگ سوچ اور کردار میں تقسیم کیا گیا اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور انسانوں کو دوسرے انسانوں کے قتل کے جواز ملتے گئے۔

کبھی کہا گیا تھا کہ فرعون اس دنیا میں فسادی ہیں، پھر کسی نے کہا کہ جب تک یہودی دنیا میں موجود ہیں اس وقت تک امن ممکن نہیں۔ پھر جاپانیوں کو جنگجو قوم کہہ کر ان کے اوپر ایٹم بم گرائے گئے۔ اب مسلمانوں پر ہر طرح کی بربریت جاری ہے اور دہشتگردی کا لیبل بھی مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے۔ انسانوں کا انصاف کے لیے بنایا گیا سرپنچ ادارہ اقوام متحدہ جس کا انصاف یہ ہے کہ دنیا کے پانچ ممالک جس بات سے مرضی انکار کر سکتے ہیں جبکہ باقی تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ ان پانچ ممالک کی بات مانیں گے۔ حضرت انسان ہزاروں بار لڑائیاں لڑنے، کروڑوں انسانوں کا قتل کروانے، ہزاروں بار اپنی املاک اور ضروریات کو تباہ کرنے کے بعد بھی یہ نہ سیکھ سکا کہ اگر سارے انسان اپنے کام اور اپنی ضرورت کے مطابق اپنے حصے تک محدود رہیں تو یہ دنیا امن کا گہوارہ اور جنت بن سکتی ہے۔

جب انسان کی تولید ایک جوڑے کے ملاپ سے شروع ہوتی ہے اور وہ ایک نسل آدم کہلواتے ہیں تو پھر مذہبی، علاقائی اور رنگ و نسل کا جھگڑا کیا ہے؟ یہ سب فیصلے تو اللہ پر چھوڑ دینے چاہئیں تھے کہ اس نے قیامت اور فیصلوں کا دن مقرر کر رکھا ہے، پھر انسان کس کے لیے لڑتا ہے، اپنے مفادات کے لیے؟ اپنے رزق کے لیے، جس کا ذمہ خود خالق کائنات نے لے رکھا ہے۔ اور اس نے اپنی کائنات کے اندر اپنی تمام مخلوقات کے لیے روزی کا بندوبست کر رکھا ہے۔

پہلا سوال ہی یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کو قتل کرنے پر آمادہ کیسے ہوتا ہے؟ یہ جو اتنے مہلک ہتھیاروں کے انبار اس دنیا میں لگائے گئے ہیں ان کا مقصد کیا ہے؟ اگر انسان کا اللہ پر ایمان ہے اور اس کی نیت یہ نہیں کہ میں نے دوسروں کے حق کو ہتھیانا ہے تو اسے یہ شک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ میرا حق کوئی دوسرا چھین سکتا ہے۔ ترقی کی معراج پر پہنچی دنیا یہ کیوں نہیں سیکھ سکی کہ اگر سو انسانوں کے بیچ ایک قابیل ہے بھی تو ہم سو آپس میں اتفاق کر کے قابیل کو سیدھے راستے پر لا سکتے ہیں۔ یا پھر اس کو بند کر کے مجبور کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ کچھ اس کے ساتھ مل جائیں اور زمین پر فسادات کرواتے رہیں۔ بظاہر تمام جنگوں اور فسادات کی بنیادی وجہ ایک ہی ہے جس کا آغاز قابیل نے کیا تھا کہ اپنے حق کی بجائے دوسرے کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے۔

فرعونوں نے بنی اسرائیل کو دو ہزار سال تک ان کے حقوق سے انہیں محروم رکھا اور ان کی اقلیت پر طرح طرح کی ناجائز پابندیاں لگائیں اور بنی اسرائیل بھی صحراؤں میں بھٹکتے رہے مگر اللہ کی طرف رجوع نہ کیا۔ آخر اللہ نے ان کی مدد کے لیے موسی علیہ السلام کو بھیجا جو انہیں فرعونوں کے مظالم سے نکال کر اپنے اصل ٹھکانے پر لے آئے لیکن وہ جن بری عادات میں مبتلا ہو چکے تھے، ان سے ابھی تک بھی باز نہیں آئے ہیں۔ انسانی جانوں کی دشمن ٹیکنالوجی تیار کرنے کا آغاز بھی اسی نسل نے کیا اور اب اس کا استعمال بھی وہی کر رہے ہیں۔ جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے رحمت اللعالمین بنا کر مکہ میں بھیجا، انہوں نے ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھی تھی جہاں کوئی کسی دوسرے کا حق چھینے نہ کسی دوسرے کو بلاوجہ اس کی زمین سے بے دخل کر سکے۔ بلکہ ایک ہی جملے میں بات ختم کی کہ ایک انسان کا بلاوجہ قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

بلاوجہ قتل یہی ہے کہ ایک ملک 1500 کلومیٹر سے چار ممالک کو پھلانگتے ہوئے دوسرے کسی ایسے ملک پر جھوٹا الزام لگا کر حملہ کر دے۔ الزام یہ ہے کہ وہ ملک ایسے مہلک ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو ہم نے لگ بھگ ایک صدی پہلے بنا لیے تھے۔ گویا انسانوں کے قتل کرنے اور دنیا کی تباہی کا حق صرف ہمارا ہے۔ کسی کو اس بنیاد پر قتل کرنا کہ وہ میری سوچ، میرے عقیدے یا میرے مذہب سے اختلاف رکھتا ہے، بھی ناحق یا بلاوجہ قتل کہا جائے گا۔ ناحق قتل کسی مذہب، کسی رنگ یا کسی علاقے کے انسان کا ہو وہ ناحق ہی کہلائے گا، ہمیں سب سے پہلے انسان بننا چاہیے۔ انسانی قدروں کو اپنانا چاہیے اور اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کے حقوق، ضروریات اور اس کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔

جس دن انسانوں نے ان اصولوں کو سمجھ لیا اور اپنا لیا پھر کوئی جنگ رہے گی، نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ انسان کے ہاتھوں انسان کا قتل ہوگا۔ یہ کام ناممکن ہے، نہ ہی بہت مشکل ہے۔ صرف انسان بن کے رہنا شرط ہے۔