فادرز ڈے : والد مرحوم کے لیے بیس برس بعد لکھا گیا دوسرا مضمون
- تحریر رضی الدین رضی
- منگل 17 / جون / 2025
ہم نے سال 2010 میں ’’ رفتگان ملتان ‘‘ شائع کی تو اس کے لیے پہلا مضمون ’’پہلا جنازہ ‘‘ کے نام سے تحریر کیا ۔ یہ مضمون ہم نے اس کتاب کی اشاعت سےقبل ایک شام اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا بیٹھ کر لکھا تھا۔
اور جب ہم نے یہ جملہ لکھا: ’کون ہو گا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہو گی ؟ ‘ تو بے اختیار ہماری آنکھیں چھلک گئیں ۔ ہم نے آنکھیں پونچھ کر مضمون مکمل کیا اور ’’ پہلا جنازہ ‘‘ نہ صرف یہ کہ ہماری کتاب میں پہلے مضمون کے طور پر شامل ہوا بلکہ اسے کتاب کا سب سے خوبصورت نثری نوحہ بھی قرار دیا گیا ۔ اس مضمون میں ہم نے لکھا تھا کہ ’’میں ہر عید کی صبح کا آغاز اُن کی قبر پر اگر بتیاں جلا کر کرتا ہوں اور واپسی پر کسی دکان سے ایک ٹافی لے کر اپنی جیب میں ڈال لیتا ہوں کہ اُن کا وعدہ پورا ہو جائے ۔‘‘۔۔
عید بلکہ خاص طور پر عید الفطر پر ان کی قبر پر حاضری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا عید کے فوراً بعد آٹھ جنوری 1968 کو انتقال ہوا تھا۔ اس روز شوال کی سات تاریخ تھی ۔ اس مرتبہ بھی عید پر قبرستان حسن پروانہ گیا۔ وہاں اب میرے دادا عبدالکریم اوپل اور چچا شیخ ظہیر احمد بھی آسودہ خاک ہیں جو بچپن میں مجھے میرے والد سے ملوانے کے لیے وہاں لے کر جاتے تھے ۔ صرف وہی نہیں خاندان کے اور بہت سے لوگ بھی وہیں آرام فرما ہیں ۔ گزشتہ بارشوں کے نتیجے میں قبریں شکستگی کا شکار تھیں اور ان کے کتبے بھی کم و بیش مٹ چکے تھے ۔ گورکن کو قبروں کی مرمت اور کتبوں کو دوبارہ تحریر کرانے کا کہا اور ساتھ ہی اپنے لیے بھی وہاں جگہ محفوظ کرا دی ۔ آج گورکن عمران کا فون آیا کہ آ کر قبریں دیکھ لیں مرمت ہو گئی ہیں۔ اب اسے کیا معلوم تھا کہ وہ فادرز ڈے پر مجھے میرے والد کی قبر پر بلا رہا ہے ۔ اتفاق سے شام کو موسم بھی بہتر ہو گیا اور میں یہ سوچتا ہوا قبرستان چلا گیا کہ اس مرتبہ فادرز ڈے پر اپنے والد کو یاد کرتا ہوں۔۔ سوچتا ہوں کہ ان کی عدم موجودگی میں نے کیسے جیون بتایا ؟ کیسے اور کہاں کہاں ان کی کمی محسوس کی ؟ ۔۔۔
پھر یادوں اور منظروں کا ایک لامتناہی سلسلہ میری نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔ مجھے یاد آیاکہ ہر بچہ اپنے والد کے ساتھ سائیکل، موٹر سائیکل یا کار پر سکول آتا تھا۔ جب تک ہمارا سکول ایس پی چوک کے قریب تھا تو بسا اوقات میری والدہ مجھے لال کرتی کے راستے سکول چھوڑنے جاتی تھیں یا پھر میں اپنی پھوپھو جان کے ساتھ جاتاتھا جو اسی سکول میں پڑھاتی تھیں۔ واپسی پر مجھے میرے چچا ظہیراحمد سائیکل پر لینے آ جاتے تھے ۔جس روز سالانہ امتحان کا نتیجہ آتا تو سب کے والدین اپنے اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں موجود ہوتے تھے۔ میں کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا اور جب تالیوں کی گونج میں مجھے رزلٹ کارڈ یا انعام دیا جاتا تھا تو میں چاروں جانب دیکھتا۔۔ لیکن میرے والد یا والدہ وہاں موجود نہ ہوتے تھے۔ پھوپھو جان چونکہ اسی سکول میں پڑھاتی تھیں ایسے موقع پر وہ آگے بڑھ کر سب کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
والدین اور اساتذہ کی میٹنگ میں بھی میرے گھر سے کوئی نہیں آتا تھا۔ 1983میں جب ہم کینٹ والے گھر سے جلیل آباد منتقل ہوگئے تو 19برس کی عمر میں ہی مَیں تعلیم ادھوری چھوڑ کر روزی روٹی کے چکر میں پڑگیا۔ شاعری تو سکول کے زمانے میں ہی شروع کردی تھی لیکن جب صحافت سے منسلک ہوا تو روزانہ کالم بھی لکھنا شروع کردیا۔ پھر بہت سی سوچیں تھیں ، بہت سے سوالات تھے جن کا مجھے جواب نہیں ملتا تھا۔ سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ میرے والد کی ناگہانی موت کا ذکر کرتے ہوئے بڑے بوڑھے ٹھنڈی آہ بھر کر اکثر ایک جملہ ضرور کہتے تھے کہ اللہ کے ہر کام میں کوئی بہتری ہوتی ہے۔ اور میں یہ پوچھ بیٹھتا تھاکہ ساڑھے تین سالہ بچے سے اس کا والد چھین لینے میں بھلا کیا بہتری ہو سکتی ہے؟
میرا چھوٹا بھائی عامر ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد پیدا ہوا تھا۔۔ جس زمانے میں میں لاہور میں تھا، انہی دنوں وہ پاک فوج کا حصہ بن گیا ۔ والدہ چونکہ گھر میں اکیلی تھیں سو اس کے ایک فون پر میں لاہور چھوڑ کر مستقل ملتان آگیا اورآپ تو یہ جانتے ہیں کہ جو فوج کا حصہ بن جائے اس کی مصروفیات ایسی ہوجاتی ہیں کہ پھر وہ کسی شادی غمی میں شرکت کے قابل نہیں رہتا۔ بھائی کی غیر موجودگی میں تنہائی ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گئی اور ہم نے ہر دوست کو بھائی بنا لیا۔ یہ تنہائی راتوں کی آوارگی ہماری شاعری میں بہت مددگار ثابت ہوئی:
سڑکوں پہ اپنے آپ سے ہوتے ہیں ہمکلام
چلیے ہمارا شہر میں اک آشنا تو ہے
بلا وجہ کی ضد اور خود سری ہمارے مزاج کا حصہ بن گئی اور ہم نے بھی اسے خوش دلی سے تسلیم کرلیا۔ والد کی یاد میں ہم یہ دوسرا مضمون کم وبیش 20برس بعد تحریرکر رہے ہیں ورنہ دوست جانتے ہیں کہ ہم فادرزڈے پر کبھی کوئی تصویر یا تحریر فیس بک پر آویزاں نہیں کرتے۔ آخری بات یہ کہ کل شب میری والدہ نے جانے کیوں مجھ سے پوچھا کہ آج کیا تاریخ ہے؟ میں نے تاریخ بتائی تو کہنے لگیں آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے۔ میں نے انہیں گلے لگایا اور صبح کیک منگوا کر اس کا ایک ٹکڑا انہیں پیش کردیا۔ کہنے لگیں ’ تمہیں بھی یادتھا؟‘ ’جی امی جان،میں کیسے بھول سکتاہوں کہ آج آپ کی شادی کی سالگرہ ہے‘‘ ۔ مجھے اب تک سمجھ نہیں آیا کہ باپ بن کر مجھے پالنے والی میری ماں جو اب اپنی یادداشت بھی کھو چکی ہے، یہ کیسے جان گئی کہ آج فادرز ڈے ہے ۔۔ اور قارئین کرام ذیل میں ہم وہ بیس برس پرانامضمون اس تحریرکا حصہ بنا رہے ہیں جو ہم نے گھر کے ایک کمرے میں بیٹھ کر چھلکتی آنکھوں کے ساتھ تحریر کیا تھا۔ تاکہ جن قارئین نے وہ نثری نوحہ نہیں پڑھا وہ بھی اسے پڑھ لیں اور سیاق و سباق ان پر واضح ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوری کی ایک ٹھٹھرتی صبح سورج ابھی نصف النہار پر نہیں آیا تھا ۔ ملتان چھاؤنی کے بابو محلے میں واقع ایک سہ منزلہ مکان کے صحن میں ایک جنازہ موجود تھا۔ جنازے کے گرد عورتیں بین کرتی تھیں ۔ ایک میت تھی کہ جسے ابھی کفنایا نہیں گیا تھا اور اس کے چہرے پر لہو تھا ۔ چیخ و پکار تھی اور آہ و بکا تھی ۔ عورتوں کے دلخراش بین تھے ۔ پورے محلے کی عورتیں صحن میں جمع ہو کر جوان موت پر آنسو بہا رہی تھیں ۔
اس گھر میں تین سال کے دوران یہ دوسری جوان موت تھی ۔ ایک 30سالہ درزی کی موت جو ٹریفک حادثہ کا شکار ہو گیا تھا ۔ اس گھر کے مکین تو ابھی پہلی موت کا صدمہ ہی نہ بھلا پائے تھے ۔ اسی درزی کا بڑا بھائی تین سال پہلے پاک بھارت جنگ کے دوران گولہ باری کا نشانہ بنا تھا ۔ اس کی ماں صدمے سے بے حال تھی، بہنیں میت سے لپٹتی تھیں، بیوہ پر غشی طاری تھی اور اس سارے کہرام سے بے خبر ایک ساڑھے 3سالہ بچہ جنازے کے پاس کھیل رہا تھا۔ وہ حیرت سے کبھی جنازے کو اور کبھی رونے والوں کو دیکھتا اور پھر دوبارہ کھیل میں مگن ہو جاتا۔ ساڑھے تین سالہ بچہ ۔ جو اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کے کھیلنے کے دن ختم ہو گئے ہیں ۔ مگر وہ کھیلتا تھا ۔ خاموشی کے ساتھ ۔ پھر وہ اس کہرام اور چیخ و پکار سے گھبرا گیا ۔ گھبراتا کیوں نہ اسے بین کرنے والی عورتوں نے باری باری اپنے سینے سے لگا کر رونا جو شروع کر دیا تھا ۔ گھبرائے ہوئے بچے کو کسی ہمسایہ کے گھر بھیج دیا گیا تاکہ وہ مزید نہ روئے ۔ اس کی گھبراہٹ ختم ہو گئی اور اس نے دوبارہ کھیلنا شروع کر دیا حالانکہ اس کے کھیلنے کے دن ختم ہو گئے تھے ۔
جنازہ کب اُٹھا ؟ کس کس نے شرکت کی ؟ کس کس نے کندھا دیا ؟ کلمہ شہادت کس نے کہا اور تدفین کیسے ہوئی ؟ وہ بچہ اس سارے عمل سے بے خبر رہا۔ اُسے شام کو گھر واپس لایا گیا جب گھر خالی ہو چکا تھا ۔ جنوری کی وہ شام اُس گھر میں ہی نہیں کچھ زندگیوں میں بھی تاریکیاں لے کر آئی تھی۔ اور ان میں سے ایک زندگی اس بچے کی اور دوسری اس کی ماں کی تھی ۔جنازے کے قریب کھیلنے والا ساڑھے تین سالہ بچہ کوئی اور نہیں مَیں خود تھا ۔ میں نے زندگی میں پہلا جنازہ اپنے والد کا ہی دیکھا تھا ۔ اس جنازے کے بس یہی چند مناظر میرے ذہن میں محفوظ ہیں اور شاید بچپن کا اس سے پہلے کا کوئی اور واقعہ مجھے یاد بھی نہیں ۔
بس اُسی روز کا ایک اور لمحہ مجھے یاد ہے کہ صبح ساڑھے نو یا دس بجے کے قریب جب وہ گھر سے نکلنے لگے تھے تو میں نے اُن کے ساتھ جانے کی ضد کی تھی ۔ بالکل اسی طرح جیسے باپ کے گھر سے نکلتے وقت ہر بچہ اُس کے ساتھ جانے کی ضد کرتا ہے ۔ جیسے میں گھر سے نکلنے لگوں تو میری دعا میرے ساتھ جانے کی ضد کرتی ہے یا جیسے حنان اور نگین جب ساڑھے تین یا چار سال کے تھے تو میرے ساتھ جانے کی ضد کیا کرتے تھے ۔ سو مَیں نے بھی ضد کی تھی۔ اپنے بچپن کی یہ ایک ہی ضد مجھے یاد ہے جو میں نے اپنے باپ کے ساتھ کی تھی اور یہ ایک بچے کی اپنے باپ کے ساتھ آخری ضد تھی ۔ باپ کی موت سے دس منٹ پہلے ایک ساڑھے تین سالہ بچے کی ضد ۔ اور باپ نے اُسے دلاسہ دیا تھا ”بیٹا میں ابھی آتا ہوں ، تمہار ے لئے ٹافیاں لے کر آؤں گا“ اور پھر پلٹ کر میری ماں سے کہا تھا ”آج آلو والے پراٹھے پکا لینا ۔“
وہ سائیکل پر گئے تھے۔ بابو محلے سے نواں شہر تک سائیکل پر جانے میں انہیں دس منٹ ہی لگے ہوں گے ۔ ابدالی روڈ پر جہاں پریس کلب ہے، اس سے تھوڑا سا آگے ایم سی سی گراؤنڈ میں کرکٹ میچ ہو رہا تھا ۔ وہ سائیکل بھی چلا رہے تھے اور ساتھ ساتھ میچ بھی دیکھ رہے تھے ۔ پیچھے سے ایک جیپ آئی جو کوئی گردیزی چلا رہا تھا ۔ ممکن ہے جیپ والے نے ہارن بھی دیا ہو مگر وہ اُونچا سنتے تھے ۔ مگر میرا خیال ہے ہارن کی نوبت نہیں آئی ہوگی ۔ ہارن تو وہاں دیا جاتا ہے جہاں سڑکوں پر ہجوم ہو ، ٹریفک جام ہو ، کھوئے سے کھوا چھلتا ہو ۔ 1968میں جنوری کی اُس ٹھٹھرتی صبح ابدالی روڈ پر ٹریفک ہی کتنی ہوگی کہ اُن دنوں تو ملتان میں موٹریں اکا دُکا ہی ہوا کرتی تھیں ۔ سو جیپ میں سوار اس گردیزی نے ایک سائیکل سوار درزی کو کچل دیا ۔ ایک سائیکل سوار درزی جو ملتان کی ایک کشادہ سڑک پر اُس گردیزی کی تیز رفتار جیپ کی راہ میں رُکاوٹ پیدا کر رہا تھا اور جس کا بیٹا گھر میں ٹافیوں کا منتظر تھا اور جس کی بیوی اُس کے لئے آلو والے پراٹھے بنانے کا سوچ رہی تھی اور اس بات سے بے خبر تھی کہ وہ اب بیوی نہیں بیوہ ہو گئی ہے۔
کوئی آدھ گھنٹے بعد محلے والوں نے گھر آ کر موت کی اطلاع دے دی ۔ ریلوے کے ریٹائرڈ ہیڈ کلرک شیخ عبدالکریم نے اپنے دوسرے بیٹے کے جنازے کو کندھا دینے کے لئے حوصلے مجتمع کرنا شروع کر دئے ۔”جیپ نے راہ گیر کو کچل دیا“ ۔۔ ’’ جیپ کے حادثے میں سائیکل سوار ہلاک ‘‘ ۔ 30سالہ شیخ ذکاالدین کی موت کی سنگل کالمی خبر9 جنوری کے اخبارات کے صفحہ آخر پر ان کی نعش کی تصویر کے ساتھ شائع ہوئی ۔ میں نے یہ خبر ”امروز “اور ”کوہستان “میں کئی برس بعد پڑھی ۔ ”کوہستان “کا وہ شمارہ میرے دادا نے 1965کی جنگ کے اُن اخبارات کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہوا تھا جن میں میرے تایا میجر ضیاالدین کی شہادت کے حوالے سے فیچر اور خبریں موجود تھیں۔ میں نیوز ڈیسک پر کام کے دوران جب بھی ٹریفک حادثے میں کسی راہگیر کی ہلاکت کی خبر بناتا تھا تو مجھے وہ خبر اور اپنے والد ہمیشہ یاد آتے تھے اور میں سوچتا تھا کہ آج میں جو یہ خبر بنا رہا ہوں کئی برس بعد اس راہگیر کا بچہ جب بڑا ہوگا اور اپنی ماں یا دادا کے سامان میں رکھا اخبار نکالے گا تو اس خبر کو ضرور پڑھے گا۔ اور پھر میری طرح یہ بھی سوچے گا کہ ”کون ہوگا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہوگی؟“ ۔
یہ سوال میں نے بارہا سوچا ۔ وہ خبر کس نے بنائی ہوگی اور کس کیفیت میں بنائی ہوگی؟ چائے ،سگریٹ پیتے ۔ نیوز روم میں خوش گپیاں کرتے اور قہقہے لگاتے بنائی ہوگی؟ کہ خبر کتنی ہی اندوہناک کیوں نہ ہو اِسی ماحول میں بنتی ہے ۔ ہم اخبار نویس بھی گورکن ہی تو ہوتے ہیں ۔ نعشیں گِن گِن کر اور سیاہ حاشیے لگا لگا کر بے حس ہو جاتے ہیں ۔ یا پھر شاید اتنے دکھ سمیٹتے ہیں کہ ہمارے لئے ہر نعش پر آنسو بہانا ممکن ہی نہیں رہتا۔ آنسو بھی تو ایک حد تک بہتے ہیں ناں، پھر اس کے بعد تو آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں بس دل بھیگتا ہے۔ تو پھر میں سوچتا ہوں کہ جس نے بھی یہ خبر بنائی ہوگی کیا اُس نے یہ سوچا ہوگا کہ وہ جو یہ غیر اہم سی خبر بنا رہا ہے، یہ ایک ساڑھے تین سالہ بچے کیلئے کتنی اہم ہوگی ۔ اتنی اہم کہ وہ برسوں بعد جب بھی کسی لائبریری میں اخبارات کی فائلیں دیکھے گا تو اُن میں سے جنوری 1968کی فائل ضرور تلاش کرے گا اور ہر بار اپنے باپ کی موت کی خبر اور نعش کی تصویر اس طرح دیکھے گا کہ جیسے یہ حادثہ ابھی اسی لمحے ہوا ہو۔ ساتھ جانے کی ضد ۔ ٹافیوں کا وعدہ ۔ آلو والے پراٹھے اور چارپائی پر رکھی میت۔ اپنے والد کے حوالے سے بس یہی چند یادیں میرے ذہن میں نقش ہیں۔ ساڑھے تین سالہ کا بچہ اس سے زیادہ یاد بھی کیا رکھ سکتا تھا۔ ان کی آواز کیسی تھی؟ قد کتنا تھا ؟ میں انہیں کیسے پکارتا تھا ؟ ابو کہتا تھا ، ابا جی یا ابا جان کہتا تھا ؟ مجھے کچھ یاد نہیں ۔ میں نے انہیں اُن کی تصویروں اور اپنی ماں کی یادوں کی مدد سے جانا ۔ تعلیم اُن کی واجبی سے تھی ۔ قلمی دوستی ، ڈاک ٹکٹ جمع کرنا ، فوٹو گرافی اور سیاحت اُن کے محبوب مشغلے تھے ۔ دنیا جہان کے خطوط ، ملک ملک کے ڈاک ٹکٹوں کا انبار ، دوستوں کے ساتھ مختلف مقامات پر بنائی گئی تصاویر کے البم اور کپڑوں کی کترنوں کا ایک ڈھیر تھا جو مجھے ورثے میں ملا۔
ایک جواں سال درزی اپنی اولاد کے لئے اس کے سوا چھوڑ بھی کیا سکتا تھا۔ سنا ہے وہ بہت ہنس مکھ تھے ، دوستوں میں خوش رہتے تھے اور ان کے ساتھ بہت سا وقت گزارتے تھے۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ حسن پروانہ قبرستان میں ایک قبر پر ان کے نام کا کتبہ ہے۔ میں ہر عید کی صبح کا آغاز اُن کی قبر پر اگر بتیاں جلا کر کرتا ہوں اور واپسی پر کسی دکان سے ایک ٹافی لے کر اپنی جیب میں ڈال لیتا ہوں کہ اُن کا وعدہ پورا ہو جائے ۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)