کیا امریکہ ،ایران اسرائیل جنگ میں کودنے والا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 17 / جون / 2025
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ امریکہ ، ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم نہ تو امریکہ نے اس کا باقاعدہ اعلان کیا ہے اور نہ ہی ایران کی طرف صدر ٹرمپ کی طرف سے ’غیر مشروط سرنڈر‘ کے مطالبے پر کوئی جواب سامنے آیا ہے۔
صدر ٹرمپ گزشتہ روز کینیڈا میں جی سیون کے دو روزہ اجلاس میں شریک تھے ۔ البتہ کل شام ہی وہ اس اجلاس کو بیچ میں چھوڑ کر واشنگٹن واپس چلے گئے۔ انہوں سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں فرانسیسی صدر میکرون کے اس بیان کو غلط قرار دیا کہ وہ ایران اسرائیل میں جنگ بندی کی کوئی تجویز سامنے لائے ہیں۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں جنگ بندی نہیں کچھ بڑا چاہتا ہوں، میں یہ مسئلہ سرے سے ختم کرنا چاہتا ہوں‘۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر انہوں نے اعلان کیا کہ ’ہم نے ایران کی فضائی حدود کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے‘۔ تھوڑی دیر بعد ایک نئے پیغام میں انہوں نے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو مارنے کی براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ نام نہاد رہبر اعلیٰ کہاں چھپے ہیں۔وہ ایک آسان ہدف ہیں لیکن وہ ابھی محفوظ ہیں۔ ہم فی الحال انہیں نشانہ (ہلاک) نہیں بنا رہے‘۔ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن ہم نہیں چاہتے کہ عام شہریوں یا امریکی فوجیوں پر میزائل داغے جائیں۔ ہماری برادشت جواب دے رہی ہے‘۔ اس سلسلے کی آخری پوسٹ میں امریکی صدر نے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کامطالبہ کیا ۔
ٹرمپ کے ان پیغامات کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث ہورہی ہے کہ کیا امریکہ، اسرائیل کی خواہش کے مطابق جنگ میں شامل ہونے والا ہے۔ عام طور سے خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے جوہری اثاثوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کے لیے فردو کے پہاڑوں میں 90 میٹر زیر زمین مرکز کو تباہ کرنا پڑے گا لیکن اسرائیل کے پاس ایسے مہلک ہتھیار نہیں ہیں ۔ البتہ امریکہ کے پاس یہ ہتھیار موجود ہیں۔ اس ہتھیار کا نام ’جی بی یو 57 ایم او پی‘ ہے جسے انگریزی میں میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر کہتے ہیں ۔ اسے سپر بم کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ تاہم اسے لے جانے اور نشانے پر پھینکنے کے لیے صرف ایک طیارہ ہی کارآمد ہے۔ جو ایک ساتھ ایسے دو بم لے جا سکتا ہے۔ یہ بمبار طیارے بھی امریکہ ہی کے پاس ہیں۔ امریکہ اگر اس جنگ میں شامل ہوتا ہے تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فردو میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
ماہرین یہ طے نہیں کرپارہے کہ صدر ٹرمپ نے آج براہ راست ایران کو دھمکیاں دینے والے پیغام کیوں جاری کیے۔ امریکہ چونکہ سپر پاور کہلاتا ہے ، اس لیے کسی تجزیہ نگار کو یہ سوال اٹھانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی کہ امریکی صدر کی طرف سے ایک خود مختار ملک کے سب سے بڑے لیڈر کو ہلاک کرنے کی دھمکی ، کیا ایک معمول کی سفارتی کارروائی ہے یا اسے دہشت گردی سمجھنا چاہئے۔ اس سے پہلے اسرائیل ، ایران کے جرنیلوں اور سائنسدانوں کو مارنے کے لیے اپنے ایجنٹوں کے علاوہ اور گاڑیوں میں بارود نصب کرکے دھماکوں کے ہتھکنڈے استعمال کرچکا ہے۔ اس قسم کی اسرائیلی کارروائیوں کو بھی کسی ماہر یا مغربی تجزیہ نگار نے دہشت گردی کہنے کا حوصلہ نہیں کیا بلکہ اسے معمول کی جنگی کارروائی سمجھا جارہا ہے۔ حالانکہ کسی فوجی کو عسکری کارروائی کے دوران مارنا تو جنگی اقدام ہوسکتا ہے لیکن گھر میں شہری کے طور پر زندگی گزارنے کے دوران اس پر حملہ مسلمہ بین الاقوامی جنگی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ لیکن اسرائیل کی سرپرستی کے شوق میں کسی عالمی ضابطے یا اخلاق کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔
گزشتہ روز کینیڈا میں منعقد ہونے والی جی سیون کانفرنس میں امریکہ کے سوا باقی 6 ممالک یعنی کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ اور جاپان ، ایران اسرائیل جنگ بند کرانے کے حامی تھے۔ البتہ امریکہ کسی ایسے بیان کا حصہ بننے پر بھی آمادہ نہیں تھا جس میں صرف اس تنازعہ کو ختم کرنے کی بات کی جائے۔ آج صبح اس حوالے سے جاری ہونے والے جی سیون کے بیان میں دونوں ملکوں سے جنگ بند کرنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم اس کے ساتھ ہی اسرائیل کے ’حق دفاع‘ کا حوالہ بھی موجود تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں بناسکتا۔ اس کے باوجود وہائٹ ہاؤس کی طرف سے اشارہ دیا گیا کہ ٹرمپ اس بیان میں شریک نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر امریکی صدر کے بیانات بھی اس مؤقف کی تائد کرتے ہیں۔
امریکہ بلا شبہ سپر پاور ہے لیکن دیگر مغربی ممالک ٹرمپ کی صدارت میں اس کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کے باوجود کوئی دوٹوک مؤقف اختیار کرنے اور کسی طرح دنیا میں توازن قائم کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ جی سیون کا بیان درحقیقت امریکہ کے مقابلے میں باقی چھے ممالک کی مکمل بے بسی اور کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی دوسری بڑی وجہ تمام عرب ممالک کی خاموشی ہے۔ وہ اب بھی امریکہ کی چھتری تلے زندہ رہ کر ایران کی تباہی کا منظر دیکھ رہے ہیں۔ البتہ اگر امریکہ اس جنگ میں شامل ہوتا ہے اور اسرائیل و امریکہ کے ایجنٹ تہران میں حکومت تبدیل کرنے کی خواہش میں کامیاب نہیں ہوتے تو دیوار سے لگا ہؤا ایران اگر کسی کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے تو وہ یہی امیر عرب ممالک ہیں جو بے شمار دولت کے باوجود، اتنا سفارتی رسوخ بھی نہیں رکھتے کہ امریکہ سے مطالبہ کرسکیں کہ وہ اسرائیل کو غزہ کے علاوہ ایران کے خلاف جارحیت سے روکے۔
ٹرمپ کے دھمکی نما بیانات کے بعد متعدد تجزیہ نگار یہ قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ صدر ٹرمپ شاید اسرائیل کی براہ راست مدد کے سوال پر کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہوں کہ ایران خوفزدہ ہوکر شکست تسلیم کرلےاور جنگ بند کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ اسی لیے بین السطور یہ اشارے بھی دیے گئے ہیں کہ صدر ٹرمپ اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف یا نائب صدر جے ڈی وینس کو ایرانی قیادت سے بات چیت کے لئے مشرق وسطیٰ بھیجیں گے۔ تاہم ایسا کرنے سے پہلے وہ ایران کی طرف سے ’اعتراف شکست‘ یا اسرائیل پر میزائل حملے بند کرنے کا وعدہ چاہتے ہیں۔ جبکہ ایران نے اگرچہ بار بار سفارتی حل کی طرف اشارہ کیا ہے اور جوہری پروگرام پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا جارہا ہے لیکن موجودہ ایرانی قیادت یک طرفہ طور سے شاید اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ اسرائیل نے پہل کی ہے اور جارحیت کا آغاز کیا ہے، اس لیے اسے پہلے حملے بند کرنے ہوں گے۔ پھر ایران بھی جوابی کارروائی روک دے گا۔ البتہ اس سوال کا جواب بھی کسی کے پا س نہیں ہے کہ ایران کتنی دیر تک اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھ سکتا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسرائیلی حملوں نے ایران کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی سب بڑی کامیابی ایرانی انٹیلی جنس کو ناکارہ کرکے اس کے فوجی لیڈروں اور سائنسدانوں کو ہلاک کرنا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیا ایران کی سیاسی قیادت میں کوئی اعلیٰ شخصیت بھی کمپرومائز ہوچکی ہے، جس کی بنیاد پر اسرائیل کے بعد اب امریکہ تہران میں حکومت تبدیلی کے اشارے دے رہا ہے۔ دوسری طرف اس تنازعہ کا یہ پہلو بھی قابل غور ہونا چاہئے کہ اسرائیل کی تاریخ میں کبھی بھی اسرائیلی لوگوں کو کسی دشمن کی طرف سے ایسے خطرے کا تجربہ نہیں ہؤا۔ ایران میں پائی جانے والی افراتفری کے بارے میں بہت باتیں کی جاسکتی ہیں لیکن اس خوف کا اندازہ بھی کرنا چاہئے جو اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کے باشندوں کو کسی بھی وقت آسمان سے برسنے والی آگ کی صورت میں لاحق ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہی ایرانی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہماری برداشت جواب دے رہی ہے‘۔
یہ تو واضح ہے کہ اسرائیل تن تنہا ایران کا مقابلہ کرنے کی سکت کھوتا جارہا ہے۔ اس کی بنیاد ی وجہ تسلسل سے ایران کی طرف سے ہونے والے میزائل حملے ہیں۔ اسی لیے اب امریکہ کو اس جنگ میں کودنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے حالانکہپ اگر امریکہ جنگ میں ملوث نہ ہو تو شاید اسرائیل خود ہی چند روز میں حملے بند کرنے پر مجبور ہوجائے۔
کسی بھی ماہر کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ کیا امریکہ واقعہ اس جنگ میں کودےگا؟ البتہ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں شامل ہؤا تو مشرق وسطیٰ میں حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟ کوئی بھی ایسی ممکنہ صورت حال کا اندازہ کرنے سے قاصر ہے۔