آرمی چیف فیلڈ مارشل کی وہائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات

  • بدھ 18 / جون / 2025

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آج وہائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات جصلب۔ یہ ملاقات واشنگٹن یعنی امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تھی۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں لنچ کے دوران امریکی صدر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات ہو گی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں اور کون شریک ہوگا۔ البتہ اس ملاقات کے دوران میڈیا کے نمائندے موجود نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران پر اسرائیل کے 13 جون کو ہونے والے حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع شدت اختیار کر چکا ہے اور اس وقت یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ آیا امریکہ خود بھی ایران کے خلاف کارروائی کا حصہ بنے گا یا نہیں۔

ایران اور اسرائیل کی کشیدگی کے بیچ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ یہ تنازع پھیل سکتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت سی آرا سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم اب تک پاکستانی فوج کے ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی جانب سے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اس ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا۔ یاد رہے کہ پاکستانی آرمی چیف 14 جون سے امریکہ کے دورے پر ہیں اور امریکی صدر سے ان کی ملاقات پہلے سے ہی طے تھی۔

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ملاقات پر تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس ملاقات کو صرف ایران اور اسرائیل کے تنازع کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے‘۔ ان کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان معدنیات، کرپٹو اور انسداد دہشت گردی سمیت کئی معاملات پر شراکت داری ہو رہی ہے۔ مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ ان معاملات میں گہری ذاتی دلچسپی لیتے ہیں اور عاصم منیر اتنے بااختیار ہیں کہ وہ ان سب کے بارے میں ہی بات کر سکتے ہیں۔‘

ساتھ ہی ساتھ مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں کشمیر پر بھی بات ہو گی۔ یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ نے متعدد بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کروائی اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا تاہم انڈیا کی جانب سے ٹرمپ کی پیشکش پر سرکاری طور پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔

مائیکل کوگلمین کا مزید کہنا تھا کہ ’سینیئر امریکی حکام پاکستان کے فوجی سربراہان سے اکثر ملتے ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ امریکی صدر پاکستان کے آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کریں‘۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات اس لیے بھی نہایت اہم ہے کیوں کہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی لڑائی میں اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اس سے قبل آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران اوورسیز پاکستانیوں سے واشنگٹن میں ملاقات کی۔ اوورسیز پاکستانیوں نے افواج پاکستان کی انڈیا کے خلاف کارکردگی کا سراہا جبکہ آرمی چیف نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کے اس اہم کردار پر بات کی جو بطور ملک کے سفیر کے وہ ادا کر سکتے ہیں۔ عاصم منیر نے پاکستان کی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو بھی سراہا اور ملک کی عالمی شہرت میں حصہ ڈالنے پر بھی اوورسیز پاکستانیوں کی تعریف کی۔