فیلڈ مارشل کی صدر ٹرمپ سے ملاقات

پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بدھ  کو وہائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ظہرانے میں شرکت کی۔  ملاقات میں میڈیا کو  آنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ابھی تک وہائٹ ہاؤس یا آئی ایس پی آر کی طرف سے  کوئی بیان  سامنے آیا ہے۔ البتہ اس ملاقات کو پاک امریکہ تعلقات کے علاوہ علاقے  میں پائی  جانے والی جنگ کی صورت حال کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔

مئی کے دوران پاک بھارت جنگ کے بعد سے امریکی حکام نے پاکستان کے ساتھ قربت ظاہر کی ہے اور  صدر ٹرمپ نے   جنگ بندی میں اپنے کردار کا دعویٰ کرنے کے علاوہ پاکستانی لیڈروں کی بھی اسی طرح توصیف کی ہے ، جو  الفاظ وہ بھارتی وزیر اعظم  نریندر مودی کے بارے میں ادا کرتے  رہے ہیں۔   فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد سے  پہلے وہائٹ ہاؤس میں رپورٹروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کے بارے میں کہا کہ ’یہ شخص  بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کے معاملہ میں بہت بااثر تھا اور اس نے اہم کردار ادا کیا تھا‘۔ انہوں نے ایک بار  پھردعویٰ  کیاکہ  دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی انہوں نے کرائی تھی۔ بھارت،  صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا لیکن پاکستانی لیڈروں نے جنگ بندی میں  صدر  ٹرمپ کے کردار کی توصیف کی ہے۔  واضح رہے کہ پاکستانی فوجی سربراہ      کو ملنے سے پہلے   بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی   نے ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی۔ بھارت کے سیکرٹری  خارجہ وکرم مصری نے اس فون کال کے بارے میں کہا تھا کہ مودی نے واضح کیا  ہے  کہ بھارت کشمیر کے سوال پر  امریکہ سمیت کسی ملک کی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔  انہوں یہ بھی کہا کہ مودی نے  ٹرمپ پر  واضح کیا  ہےکہ پاک بھارت جنگ بندی دونوں ملکوں کے کمانڈروں کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے ہوئی تھی۔

آرمی چیف کی وہائٹ ہاؤس میں عزت افزائی اور امریکی صدر سے ملاقات ایک اہم وقوعہ ہے۔ خاص طور سے مئی کی پاک بھارت جنگ سے پہلے پاکستان کو امریکہ میں سفارتی دسترس حاصل نہیں تھی۔  فروری 2020 میں   طالبان کے ساتھ افغانستان سے امریکی افواج نکالنے کے لیے دوہا معاہدہ کرنے کے بعد  امریکہ نے پاکستان سے فاصلہ اختیار کیا ہؤا تھا۔  البتہ اب امریکی لیڈر پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھول رہے ہیں جسے عالمی  سطح پر  پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔  صدر ٹرمپ سے پاکستانی  آرمی چیف کی  ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب ایران اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے۔ صدر ٹرمپ کے طرف سے اس جنگ  کے بارے میں بعض انتہاپسندانہ بیانات کے باوجود یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ امریکہ اس جنگ سے دور ہی رہے گا اور وہ مشرق وسطیٰ اور پورے ریجن میں وسیع تر استحکام  چاہتا ہے۔ اس تناظر میں بھی ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دعوت ایک اہم وقوعہ ہے۔ عام طور سے امریکی صدر کسی دوسرے ملک کے آرمی چیف کو مدعو نہیں کرتے۔

عاصم منیر امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا کی دعوت پر اس وقت امریکہ کا دورہ کررہے ہیں۔ انہوں نے دو روز پہلے امریکی افواج کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت بھی کی تھی۔  اب وہائٹ ہاؤس میں ان کی ملاقات صدر ٹرمپ سے ہوئی ہے۔ اس موقع پر میڈیا کی عدم موجودگی کی وجہ سے کوئی براہ راست رپورٹنگ نہیں ہوئی ۔ اس لیے  سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض عناصر   کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک طرف ایران  پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کررہا ہے  اور دوسری طرف اس کا  فوجی سربراہ  وہائٹ ہاؤس میں  امریکی صدر سے بات چیت کررہا ہے۔  البتہ  یہ  دعوت ایران پر اسرائیلی حملے سے پہلے دی گئی تھی ۔ اس لیے اس میں سازش تلاش کرنے کی بجائے اس کے مضمرات پر غور کرنا مناسب ہے۔

پاکستانی نقطہ نظر سے  اس ملاقات کا یہ پہلو اہم ہونا چاہئے کہ  پاکستان میں اس وقت ایک جمہوری نظام کام کررہا ہے اور شہباز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر  فائز ہیں۔ امریکی صدر اگر اہم امور پر پاکستانی حکومت سے رابطہ کی خواہش رکھتے تھے تو وہ پاکستانی وزیر اعظم کو دعوت دے سکتے تھے جو سر کے  وہائٹ  ہاؤس کے ظہرانے میں شریک ہوتے۔  لیکن ا س کی بجائے انہوں نے فیلڈ مارشل کو مدعو کرنے اور ان سے  بات چیت کو ترجیح دی ہے۔  کیوں کہ  انہیں پاکستان کا اسٹرانگ مین سمجھا جاتا ہے اور  یہ باور کیا جاتا ہے کہ  اگر پاکستان کے ساتھ معاشی ، اسٹریٹیجک یا سیاسی  معاونت پر معاملات طے کرنے ہیں تو  براہ راست فوج سے بات کرنی چاہئے۔ تبصروں کی حد تک یہ بات کہنے اور سننے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن  جب عملی طور سے ملک کے منتخب لیڈر کی بجائے فوج کا سربراہ  امریکہ  کے صدر سے ملتا ہے تو اسے پاکستان کے جمہوری نظام کی بے بسی اور کمزوری کے سوا کوئی دوسرا نام دینا مشکل ہے۔   اس حوالے سے یہ بھی واضح ہے کہ نواز شریف اور عمران خان بھی گو فوج کے  تعاون سے  ہی حکومت کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے بھی کبھی اپنے آرمی چیف کی براہ راست  وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی تھی۔  البتہ اب شہباز شریف کو یہ ’اعزاز‘ حاصل ہؤا۔ اس سے ان کی اسٹبلشمنٹ  کے ساتھ قربت  کے علاوہ بطور جمہوری لیڈر شدید سیاسی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

عاصم منیر کی ٹرمپ سے ملاقات کے بارے میں تفصیلات دھیرے دھیرے سامنے آئیں گی۔ شاید  آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والا کوئی بیان اس بارے میں مزید معلومات فراہم کرسکے۔ تاہم یہ بھی طے ہے کہ اس ملاقات  میں زیر بحث آنے والے متعدد معاملات پر فوری طور سے  تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آسکیں گی۔ اس لیے اس بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ حامی اور مخالف عناصر اس ملاقات سے اپنی اپنی مرضی کے نتیجے اخذ کریں گے۔ البتہ اگر  دنیا میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کے حوالے سے دیکھا جائے تو  اس ملاقات  سے ریجن میں پاکستان کی اہمیت واضح ہوئی ہے ۔ یہ بھی سامنے آگیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ ، پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔  بعض تجزیہ نگار ضرور یہ سوال اٹھائیں گے کہ کیا  اس ملاقات کے ذریعے  امریکہ پاکستان کو  چین سے دور کرنے اور سی پیک معاہدے پر اثر انداز  ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن  اس کا انحصار بہر صورت پاکستانی لیڈروں پر ہوگا کہ وہ کیسے  دنیا کے دو بڑے ملکوں کے  ساتھ  خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھتے ہیں۔

حالیہ پاک  بھارت جنگ کے بعد  یہ واضح ہؤا ہے کہ چین  صرف معاشی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ  دفاعی طور سے بھی پاکستان کے لیے بے حد اہم ہے۔ امریکہ  پاکستان کی ہر قسم کی امداد بند کرچکا ہے اور پاکستان اب  ماضی کی طرح امریکی حکومت کے زیر اثر بھی نہیں ہے۔ البتہ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور  ہے۔ اس کے ساتھ تعلقات بحال رکھنا اور سفارتی و سیاسی رسائی   بہر صورت پاکستان کے مفاد میں ہے۔ شاید چین بھی پاکستان پر امریکہ کے نئے اعتماد کو اپنے وسیع تر مفاد میں ہی سمجھے گا۔ کیوں اسے بھی ایسے ذرائع کی ضرورت ہے  جو امریکہ کے ساتھ اس کے معاملات میں معاونت کرسکیں۔

پاکستان  میں اس ملاقات کو بڑی سفارتی  کامیابی کے طور  پر دیکھا جارہا ہے۔  خاص طور سے حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دنیا میں سفارتی اثر و رسوخ  بڑھانے اور اپنا مؤقف واضح کرنے کے لیے پر زور کوششیں کی گئی ہیں۔ بھارتی سفارتی وفد  نے حال ہی میں واشنگٹن کے دورے  کے دوران  امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی۔ نئی دہلی نے اسے پاکستان پر بھارتی سبقت کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس تناظر میں امریکی صدر سے پاکستانی آرمی چیف کی ملاقات پاکستان کے لیے  خوش آئیند سمجھی جانی چاہئے۔ سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری  نے ’ایکس‘  پر ایک پیغام میں کہا  کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی یہ ملاقات جنگ بندی کی امریکی کوششوں کے تناظر میں پاک امریکا تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔  حالیہ جنگ کے بعد بھارت نے پائدار امن کی تمام کوششوں کی مزاحمت کی ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ ہم بات چیت کے لیے بے چین نہیں لیکن پاکستان کا مؤقف ہے کہ امن ہی برصغیر کے دونوں ملکوں کے فائدے میں ہے۔ہمارے تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے اور دہشت گردی کو سیاسی بیانیہ بناتا ہے۔ اس مؤقف کوکوئی نہیں مانتا‘۔

بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے اور کشمیر و  سندھ طاس معاہدے پر اختلافات کے حل میں امریکہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ خاص طور سے صدر ٹرمپ اس حوالے سے گہری دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔ اگرچہ بھارت کسی بھی ثالثی کو ماننے سے انکار کرتا ہے  لیکن امریکہ کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ممکن ہے اور وہ پس پردہ سفارتی دباؤ سے  بھارتی لیڈروں کو ہٹ دھرمی کی بجائے کسی مفاہمت کی طرف بڑھنے پر  آمادہ کرسکتا ہے۔   بھارت اس وقت امریکہ کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے  لیکن صدر ٹرمپ کا پاکستان  کی طرف  رجوع،  علاقے میں  پاکستان کی اہمیت و ضرورت کی گواہی بن رہاہے۔

تجزیہ نگار مائیکل کوگلمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘پر لکھا ہے کہ ’اس ملاقات کو صرف ایران اور اسرائیل  تنازع کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے‘۔  یہ ملاقات  پاکستان و امریکہ کے وسیع تر تعلقات میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس  سے دونوں معاشی و سفارتی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔  مستقبل  قریب اس بات کی شہادت دے گا کہ پاکستان ان نئے امکانات سے کیا فائدہ حاصل کرتا ہے۔