سیاستدان بے زبان
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 19 / جون / 2025
مجھے تو یوں لگتا ہے پاکستان میں سیاست آخری سانسیں لے رہی ہے۔ایک دو کاموں کے لئے جو بعض ماننے والوں نے مجھے کہے ارکان اسمبلی سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔انہوں نے اشارتاً مجھے کنٹونمنٹ کی طرف سے رُخ کرنے کا مشورہ دیا۔
ایک حکومتی رکن اسمبلی نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اب تو سرکاری افسربھی ہماری بات نہیں سنتے، کئی ایک تو کہہ دیتے ہیں ”اوپر“ سے حکم ہے، ایسا کام نہیں کرنا۔انہوں نے کہا پہلے تو ہم سمجھتے تھے یہ اوپر کی بات ہمارے منتخب حکمرانوں یا وزیر وزراکے بارے میں کی جاتی ہے مگر اب علم ہوا ہے اوپر سے مراد بہت اوپر والی مخلوق ہے۔میں نے کہا آپ خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا توبہ کریں،میں ایسا کہہ سکتا ہوں۔تو صاحبو! آٹھ فروری کے انتخابی نتائج کو جس طرح ہنسی خوشی جیتنے والوں نے قبول کیا اس کے اثرات تو بہر طور آنے تھے۔جیتنے والوں کو عوامی مسائل کے لئے میدان میں آنا چاہئے لیکن وہ تو عوام سے چھپتے پھرتے ہیں۔
ایک دور تھا علاقے کا رکن اسمبلی سوائے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے کبھی اپنے حلقے سے غائب نہیں ہوتا تھا۔ اب وہ حلقے میں رہ کر بھی حلقے کے عوام کو دستیاب نہیں ہوتا۔دوسری طرف تحریک انصاف والے سیاستدان ہیں، اُن سے لوگ ڈر کے مارے ملنا نہیں چاہتے کہ کہیں دھر نہ لئے جائیں۔ کہیں کارنر میٹنگ بھی ہو رہی ہو تو پولیس کے ڈالے پہنچ جاتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو آج کے تناظر میں سیاست بھی ختم ہو چکی ہے اور سیاستدان بھی منظر سے غائب نظر آتے ہیں۔ہاں کسی کی وفات یا شادی کی تقریب میں اُن کی رونمائی ضرور ہو جاتی ہےکیونکہ وہ سمجھتے ہیں ایسی تقریبات میں کوئی انہیں کام نہیں کہے گا یا سیاسی گفتگو نہیں ہو گی۔
اب ارکان اسمبلی کی حالت یہ ہو چکی ہے اسمبلی اجلاس کے دوران اُن کی کسی جگہ چلتے چلتے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کے ساتھ تصویر بھی بن جائے تو اُسے اخبارات میں بھجوا کر ساتھ ایک فرضی بیان چڑھا دیتے ہیں کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے ساتھ حلقے کے مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں مشکل سے سلام کا جواب ہی ملا ہوتا ہے۔یہ اُس زمانے کے چونچلے ہیں جب ارکان اسمبلی کسی بندوبستی نظام کے ذریعے اسمبلیوں میں نہیں پہنچتے تھے،پھر اُن کی اس لحاظ سے بھی اہمیت ہوتی تھی کہ کسی وجہ سے ناراض ہو گئے تو حکومت کمزور ہو جائے گی۔اب تو یہ حالت ہے پیپلز پارٹی حکومت سے ناراضی کے ڈرامے کرتی ہے۔ صرف اس لئے کہ اپنی سیاسی ساکھ بچا سکے۔
اب جو پیپلز پارٹی نے یہ مہم شروع کی ہوئی ہے کہ بجٹ میں اُس کی ترامیم کو شامل نہ کیا گیا تو تحریک چلائے گی وہ بھی ایک بڑا فرینڈلی فائر ہے۔ دو دن پہلے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی تو آصف علی زرداری نے اُن سے کہا بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دیا جائے،تنخواہ دار اور پنشنروں کا خاص خیال رکھا جائے۔ وزیراعظم نے یقینا ًسر ہلا کر اُن کی تجاویز کو ماننے کا اقرار کیا ہو گا،مگر جو بات حیرت زدہ کرتی ہے، وہ اس ملاقات کی ٹائمنگ ہے۔یہ ملاقات تو بجٹ پیش کرنے سے پہلے ہونی چاہئے۔ اب اس سارے شو آف کا فائدہ؟
پنجاب کا بجٹ آیا تو مجھے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب نے فون کیا،انہوں نے کہا کسی جاننے والے رکن اسمبلی کے ذریعے پنجاب اسمبلی میں یہ سوال اٹھوائیں کہ تینوں صوبوں اور وفاق میں پنشن سات فیصد بڑھائی گئی ہے ،جو اگرچہ مہنگائی کے تناسب سے بہت کم ہے،مگر پنجاب میں سات فیصد کی بجائے پانچ فیصد کیوں بڑھائی ہے۔کیا پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں یا مہنگائی کم ہے۔ میں نے کہا،میں کوشش کرتا ہوں،تحریک انصاف کے رکن سے رابطہ کروں کیونکہ کسی حکومتی رکن میں تو یہ جرات نہیں اپنے حکومتی بجٹ میں کوئی نقص نکال سکے۔اُس نے واہ واہ ہی کرنی ہے اور مریم نواز کی قیادت میں اسے ایک انقلابی بجٹ ہی قرار دینا ہے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف والوں سے نہ کہیں کیونکہ اُن کی تو ہر بات کے الٹ حکومت نے کام کرنا ہے۔آپ پیپلزپارٹی کے کسی رکن اسمبلی سے رابطہ کریں۔انہوں نے بجٹ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے،اس لئے وہ زیادہ دلیری سے اس معاملے کو اٹھائیں گے۔
اب آپ ہمارے منتخب سیاستدانوں کی اہلیت اور باخبری کا اندازہ لگائیں، انہیں بجٹ کے بارے میں لوگ بتائیں گے کہ کہاں کہاں خرابی ہے اور کہاں کہاں زیادتی ہوئی ہے۔اب اس پنشن کے معاملے ہی کو لیجئے۔78 برسوں میں آج تک یہ روایت نہیں رہی کہ وفاقی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنوں میں جو اضافہ کیا گیا ہو، صوبوں نے اُس سے کم اضافہ دیا ہو۔ تینوں دیگر صوبے اس کی پیروی کر رہے ہیں لیکن نجانے کس بقراطی نے مریم نواز کو یہ مشورہ دیا ہے کہ پنجاب میں پنشن میں اضافہ دو فیصد کم دیا جائے۔لوگ پھر یہ سوال پوچھتے ہیں ارکان اسمبلی،وزرا اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں چھ سو فیصد تک اضافہ کرنے والے کتنی سفاکی سے پنشنروں کو پانچ فیصد اضافہ دے رہے ہیں۔ کیا مہنگائی کی شرح پانچ فیصد ہے۔کیا گزشتہ ایک برس اشیائے خورد و نوش میں بے تحاشہ اضافہ نہیں ہوا،کیا بجلی کے بلوں میں کمی آ گئی ہے یا پٹرول سستا ہو گیا ہے۔
سیاستدانوں کی فعالیت کا بہرطور پر عوام کو فائدہ تھا ۔وہ اور کچھ نہیں تو کسی تھانیدار،کسی پٹواری اور کسی افسر کو جھوٹا سچا فون میں کر دیتے تھےیا اپنے وزیٹنگ کارڈ پر لکھ دیتے تھے سائل میرا ووٹر ہے اس کی داد رسی کی جائے۔ اب نجانے اُن کیا خوف طاری ہو گیا ہے یا پھر وہ اپنی جیت پر شرمندہ ہیں، افسر اتنے تگڑے ہو گئے ہیں کہ کئی مرتبہ اُن کا فون تک نہیں سنتے۔ ایک بار میں ایک بڑے افسر کے پاس بیٹھا تھا،نائب قاصد نے ایک وزیٹنگ کارڈ لا کر صاحب کے سامنے رکھا،انہوں نے دیکھا اور پوچھا کیا وہ خود آئے ہیں،نائب قاصد نے کہا نہیں اُن کا کوئی آدمی آیا ہے۔ انہوں نے کہا اسے کہو صاحب میٹنگ میں ہیں،آج نہیں مل سکتے۔ بعد میں انہوں نے بتایا یہ ایک ایم این اے کا کارڈ ہے۔ سی ایم صاحبہ نے سختی سے کہہ رکھا ہے کوئی سیاسی مداخلت برداشت نہیں کرنی۔ میں نے کہا ممکن ہے اُس کا کوئی جائز کام ہو۔انہوں نے کہا جائز کاموں کے لئے ہمارے دفاتر کھلے ہیں،لوگ سیاست دانوں کے ذریعے کیوں آتے ہیں۔
مجھے سابق ایم این اے حاجی محمد بوٹا یاد آ گئے۔ وہ اپنے حلقے میں ہر وقت موجود رہتے اور کارڈ دینے کی بجائے خود کام کرانے کے لئے اپنے حلقے کے لوگوں کو افسروں کے پاس لے جاتے۔اگر کوئی افسر ملنے سے اجتناب کرتا تو تحریک استحقاق پیش کر کے سبق سکھاتے۔ اب ایسے سیاستدان ناپید ہیں۔ ہاں کچھ بونے ہیں جو سیاست کا البادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)