جارحیت کے خاتمے سے پہلے مذاکرات نہیں ہوسکتے: ایران

  • جمعہ 20 / جون / 2025

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن و امان کی کوشش کی ہے لیکن موجودہ حالات میں مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جارحیت کو غیر مشروط طور پر روکنا ہے۔

سماجی رابطہ کی سائٹ ایکس پر انہوں نے لکھا کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ صیہونی دہشت گردوں کی مہم جوئی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی یقینی ضمانت فراہم کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بصورت دیگر دشمن کے خلاف ہمارا ردعمل زیادہ سخت اور افسوسناک ہوگا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی یورپی وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان آج طے شدہ مذاکرات سے قبل جنیوا پہنچ گئے ہیں۔

اس سے پہلے انہوں نے مذاکرات کی فوری ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سفارتی حل حاصل کرنے کے لیے اگلے دو ہفتوں کے اندر ایک ونڈو موجود ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ یورپی رہنماؤں کو امید ہے کہ اس سے پہلے سفارتی حل تلاش کرکے کشیدگی سے بچا جا سکتا ہے۔

اس دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی حملے جاری رہنے تک امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ عراقچی  آج جنیوا میں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے متعدد بار پیغامات بھیجے ہیں جس میں سنجیدگی سے مذاکرات کی اپیل کی گئی ہے۔ لیکن ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک جارحیت نہیں رکتی، سفارت کاری اور بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری طرف روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی غرض سے ثالثی کے لیے تیار ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ عدم استحکام اور جنگ کے گڑھے میں دھنس رہا ہے۔ ماسکو ان واقعات پر فکر مند ہے اور ثالثی کے لیے تیار ہے۔

روس کے ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے اور تہران کے جوہری پروگرام پر بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔