حافظ، ٹرمپ ’محبت‘
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 20 / جون / 2025
’پاکستان کے آرمی چیف اپنے ملک کی بااثر شخصیت ہیں۔ پاک ہند کشیدگی روکنے میں پاکستان کی طرف سے جنرل عاصم منیر کا کردار انتہائی مؤثر رہا، اس حوالے سے ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میں نے انہیں وائٹ ہاؤس میں ڈنر پر مدعو کیا‘۔
امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ ایران اور اسرائیل دونوں کو جانتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ خراب تعلقات چاہتے ہیں لیکن ایران کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ تجارت کے علاوہ، ان سے ایران کے معاملے پر بھی بات ہوئی اور وہ مجھ سے متفق تھے۔ ان سے ملاقات اعزاز کی بات ہے، مجھے پاکستان سے پیار ہے۔ میں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ روکی، پرائم منسٹر انڈیا نریندرامودی بھی لاجواب شخص ہیں۔ ان کا بھی شکریہ ادا کرناچاہتا ہوں۔ نریندرامودی اور عاصم منیر دونوں سمارٹ پرسنز ہیں جنہوں نے جنگ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہم پرائم منسٹر مودی کے ساتھ بھی ایک تجارتی معاہدہ کرنے جارہے ہیں‘۔
جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا اور سنا ہے یہ الفاظ ٹھیک امریکن پریذیڈنٹ ٹرمپ کے ہیں۔ کس قدر انہونی اور حیرت انگیز بات ہے کہ عالمی سپر پاور امریکا کا پریذیڈنٹ کسی ملک کے آرمی چیف کو تقریباً سربراہِ مملکت و حکومت جیسا پروٹوکول دیتے ہوئے اس کی ستائش کر رہا ہے۔ بلاشبہ اس میں تنقید کا یہ پہلو موجود ہے کہ اس کے بعد پاکستانی جمہوریت تو کٹہرے میں کھڑی ہوگئی یا گئی تیل لینے یا گھاس چرنے، لیکن ہمارے لوگوں کے لیے شاید اس میں تشویش کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ ہمارے لوگوں کے لیے یہی کیا کم ہے کہ امریکی صدر نے نہ صرف یہ کہ ہمیں بھارت کے برابر لا کھڑے کیا ہے بلکہ ہمارے طاقتور آرمی چیف کو ایک ارب چالیس کروڑ عوام کے منتخب نمائندے سے بڑھ کر قابلِ تحسین سمجھا ہے۔
یہ سب کیوں اور کیسے ہوا؟ اس میں ایم بی ایس کی مہربانی ہے یا اوروں کی اور آگے چل کر ہمارے خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس نوع کی بحثیں ہوتی رہیں گی۔ یہ بھی درست ہے کہ انڈیا میں اس پر حیرت ہی نہیں غصے کا اظہار بھی کیاجارہا ہے۔ بالخصوص پرائم منسٹر مودی کے ناقدین ان سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ آپ تو خود کو ٹرمپ کا متر کہتے نہیں تھکتے تھے، آپ سفارتی آداب سے بھی آگے نکل کر امریکی الیکشن میں یہ کہتے ہوئے ٹرمپ کی کھلی و ننگی حمایت تک چلے گئے تھے کہ “اب کی بار ٹرمپ سرکار”۔ لیکن آج وہی ٹرمپ جو کچھ کر رہے ہیں اور جو کچھ کہہ رہے ہیں، اس میں ہماری خارجہ پالیسی اور بالخصوص خود آپ کے اپنے پلے کیا رہ گیا ہے؟
عین اسی روز جب فون پر آپ کی ٹرمپ سے آدھا گھنٹہ بات چیت ہوئی اور آپ نے ان پر واضح کیا کہ ہم اپنے معاملات میں تھرڈ پارٹی کی مداخلت قبول نہیں کرتے اور نہ ہی پاکستان سے جھڑپوں کے دوران فائر بندی میں ان کا کوئی کردار مانتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ٹرمپ نے آپ کے مؤقف کی ذرا لاج نہیں رکھی فوری بعد کھلے بندوں یہ کہتے پائے گئے کہ دو ایٹمی طاقتوں میں فائر بندی میں نے کروائی تھی۔
ظاہر ہے مودی کے پاس ان سوالات و اعتراضات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ شاید ٹرمپ تو اس سے بھی بڑھ کر یہ چاہتے تھے کہ جی 7سمٹ کے فوری بعد مودی واشنگٹن آئیں انہوں نے اس سلسلے میں بھارتی وزیراعظم کو فون کرتے ہوئے باقاعدہ مدعو بھی کیا۔ جبکہ اسی دوران انہوں نے جنرل عاصم منیر کو بھی وائٹ ہاؤس مدعو کر رکھا تھا۔ اگر مودی ٹرمپ کی یہ درخواست مان لیتے تو عین ممکن تھا کہ ٹرمپ دونوں کو اپنے دائیں بائیں بٹھاتے ہوئے عالمی میڈیا کے سامنے اپنی امن پسندی کا ڈھول پیٹ رہے ہوتے۔ انڈین پرائم منسٹر کو شاید اس کا احساس ہوگیا تھا، اس لیے وہ بہانہ کرکے نکل گئے۔
درویش کا ماننا ہے کہ ہمارے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنے اس ایک کامیاب سٹروک سے محض مودی کو ہی نہیں عالمِ اسلام کے سابق قائد، پاکستانی نوجوانوں کے انقلابی لیڈر جناح تھرڈ کو بھی کلین بورڈ یا ناک آؤٹ کرڈالا ہے۔ کس قدر شور تھا کہ ٹرمپ آئے گا تو ہمارے لیڈر کو جیل سے نکال کر سیدھا اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھادے گا۔ اقتدار کے گھس بیٹھیوں کو یہ کردے گا وہ کردے گا مگر کیا کہیں “الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ پروپیگنڈے نے کام کیا”۔ اب وائٹ ہاؤس کے مہمان نے زبان حال سے یہ پیغام دیاہے کہ فی الحال جیل میں بیٹھ کر تسبیح پھیرتے ہوئے اپنی اکڑ اور گناہوں پر توبہ کیجئے۔ آرمی چیف کے اس سٹروک کی بال کسی تیسرے کے سر میں بھی لگی ہے۔ لیکن وہ بیچارہ شرمندگی کا مظاہرہ کیے بغیر ان باتوں کو دل پر نہیں لیتا۔ اپنے مشن سے ادھر ادھر نہیں چوکتا۔ بلکہ تیل کی دھار دیکھے بغیر اس کا استعمال مزید بڑھادےگا۔ چاہے اسے کوئی مالشیا کہے یا چیری بلاسم۔ وہ دھن کا اتنا پکا ہے کہ اسے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
درویش کسی دن اس حوالے سے تفصیلی کالم تحریر کرے گا کہ حافظ کے ایک سٹروک نے کس طرح تین بھولو یا انوکی پہلوان چت کردیے۔ اور یہ کہ حافظ کے پاس آخر ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو اس کی الٹی بھی سیدھی پڑرہی ہیں۔ اس وقت پاکستانی ڈیموکریسی کا مرثیہ لکھنے کیلیے سینے میں ایک طوفان موجزن ہے لیکن کالم میں کرنٹ افیئر کا سلگتا ایشو ”ایران اسرائیل جنگ“ اس قدر اہم ہے کہ کچھ بھی اور لکھنا صلاحیتوں کا ضیاع لگ رہا ہے۔
میرے عزیزو! اس وقت کی جنگی آگ اور تپش سے امید کی ایک کرن ابھری ہے۔ یہ کہ وہ امریکی صدر جو جنگ میں براہِ راست کودنے کے لیے جی 7سمٹ کو بھی ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن کے سچوایشن روم کی میٹنگ میں پہنچا تھا، اپنی قوم اور اپنے عالمی اتحادیوں کے دباؤ پر بالآخر سفارت کاری کو دو ہفتے دینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ جس سے امید باندھی جاسکتی ہے کہ شاید خون خرابے اور تباہی و بربادی کی بجائے امن و سلامتی کی کوئی راہ نکلے۔ اس وقت کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ امریکا نے مڈل ایسٹ میں اپنی عسکری طاقت غیر معمولی حد تک بڑھادی ہے۔ جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی طیارے فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے، فضائی دفاعی نظام اور مختلف ممالک میں موجود فوجی اڈے کی مکمل فعال ہوچکے ہیں ۔ اٹلی اور یورپ سے ہیوی جنگی طیارے پرنس سلطان ائیر بیس اور مڈل ایسٹ کی دیگر امریکی بیسز پر منتقل کردیے گئے ہیں۔ جو خطے کی فضاؤں میں مشقوں پر ہیں۔
امریکی بنکر بسٹر بموں کا بڑا ٹارگٹ ایرانی فردو فیول انرچمنٹ پلانٹ ہے جو تہران کے جنوب مغرب میں 95کلومیٹر پر ایک پہاڑ کے اندر 90میٹر یا تین سو فٹ کی گہرائی میں ہے جس کا توڑ دنیا میں صرف امریکی بمبارہیوی طیارہ اور بنکربسٹر بم ہے جس کا وزن تیس ہزار پاؤنڈ بیان کیاجارہا ہے جو زمین میں دو سوفٹ نیچے تک مارکرسکتا ہے۔ اس میں چھ ہزار پاؤنڈ کا دھماکہ خیز وار ہیڈ نصب ہوتا ہے امریکی ایئرفورس کا اسٹیلتھ بمبار ایک وقت میں ایسے دو انتہائی قیمتی بنکر بسٹر لے جاسکتا ہے۔ امریکا پاکستان سے اڈے لینے میں تو شاید کامیاب ہوسکا ہے یا نہیں لیکن ایسی جنگی صورتحال میں اسے غیر جانبدار رکھنے میں ضرور کامیاب ہوگیا ہے۔ ہمارے وزیرخارجہ کی پارلیمنٹ میں وضاحت اور جنرل صاحب کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تفصیلات اس حوالے سے ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ویسے درویش نے ایران اسرائیل تنازعہ بڑھتے ہی یہ کہا تھا کہ ہماری لاٹری نکلنے والی ہے۔
دوسری طرف پریذیڈنٹ ٹرمپ پر ان کے اپنے ہی حلقے سے اس نوع کے سوالات کی بھرمار ہے کہ آپ تو جنگوں کو روکنے کا نعرہ لگا کر برسرِاقتدار آئے تھے۔ اب اس کے خلاف جانا کیوں چاہ رہے ہیں؟ ان کے یورپین اتحادی بالخصوص فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی طرف سے بھی خاصا دباؤ ہے کہ جنگ کی طرف بڑھنے سے پہلے سفارت کاری کو مناسب موقع ملنا چاہیے۔ جینوا میں ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ اس حوالے سے ان یورپین ممالک کی ملاقات بھی ہورہی ہے۔ مڈل ایسٹ میں موجود عرب اتحادیوں کا بھی دباؤ ہے۔ استنبول سے سفارت کاری کو موقع دینے کی آواز اٹھارہی ہے۔ چائینہ اور رشیا کا بھی یہ مطالبہ ہے۔ امید باندھی جاسکتی ہے کہ پندرہ روزہ سفارت کاری ایران کو جوہری پروگرام کے مطلوبہ امریکی مطالبے یا سمجھوتے پر مجبور کردے گی۔
رہ گیا رجیم چینج کا مطالبہ اگر مناسب وقت دیا گیا تو وقت کے ساتھ وہ خود ہی پورا ہوجائے گا۔ لیکن سپریم لیڈر کو ٹارگٹ کرنے کی صورت میں ایران رجیم چینج کی بجائے بدترین خانہ جنگی کا شکارہوسکتا ہے جسے سنبھالنا عالمی برادری کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ بہتر یہی ہے کہ اس کا فیصلہ وقت کے ساتھ خود ایرانی عوام کو کرنے دیا جائے جہاں کی ولایت فقیہہ اتنی بڑی تباہی سے گزرنے کے بعد اس قدر نحیف ہوجائے گی کہ زیادہ مدت نہیں گزار پائے گی۔ درویش نے انقلابِ ایران کے آغاز سے یہ پیشین گوئی کر رکھی ہے کہ اسلامی انقلاب کی عمر شریف سوویت انقلاب سے زیادہ نہیں ہوپائے گی۔