اداکار عامر خان کا انٹرویو اور ہندوستانی مسلمان کا مستقبل

بھارت میں رہنے والے مسلمان کس حد تک مجبور اور بے بس ہو چکے ہیں، اس کا اندازہ مشہور اداکار عامر خان کے ٹی وی انٹرویو سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ انٹرویو' حال میں آپ کی عدالت'  نامی ٹی وی شو میں لیا گیا ۔ انٹرویو میں سپر سٹار عامر خان کو دیش بھگت نہ ہونے، لالچ اور آدھا ہندو آدھا مسلمان ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

حتّی کہ اپنے بچوں کے مسلم ناموں کی وضاحت کرنا پڑی۔ انٹرویو میں عامر خان نے اپنے مسلم تشخص کا دفاع کرنے کے بجائے ہندو مذہب اور کلچر کے آگے سر تسلیم خم کیا اور خود کو اور اپنی فیملی کو ہندوؤں سے بھی پکا ہندو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چند روز قبل اسی ٹی وی شو میں پاکستان کے بھگوڑے عدنان سمیع کا بھی انٹرویو لیا گیا جس میں اس نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اس پروگرام کے سیٹ اپ کے مطابق ایک' جج ' مقرر کیا جاتا ہے ۔ متذکرہ دونوں شوز میں 'جج' انڈین آرمی کا جرنیل تھا۔ اسی سے شو کے ٹرینڈ اور سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہندوستان کے مشہور سیاسی اور دینی رہنما مولانا ابو الکلام آزاد کی فیملی میں پیدا ہونے والے عامر خان اور دیگر بے شمار مسلمانوں کو کس حد تک دیوار سے لگایا جا چکا ہےکہ انہوں نے اسلامی روایات اور دینی اقدار کو پس پشت ڈال کر ہندوانہ روایات پر عمل درآمد میں ہی عافیت جانی ہے۔ ابوالکلام آزاد نے کانگریسی لیڈر کے طور قیامِ پاکستان کی سب سبے زیادہ مخالفت کی تھی ۔ آج انہی کی اولاد اس ہندوستان میں اپنا دین ایمان بچانے میں ناکام ہے ۔ کاش ابو الکلام یہ دیکھ پاتے ۔

عامر خان اپنی فلمیں کامیاب بنانے کی دوڑ میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ اپنی دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو مردوں سے کیں۔ خود یکے بعد دیگرے دو ہندو عورتوں سے شادی کی اور کچھ عرصہ قبل بیٹی کی شادی بھی ایک ہندو لڑکےسے کر دی۔ واضح رہے کہ اسلام میں ہندو مرد سے مسلمان عورت کو اور مسلمان مرد کو ہندو عورت سےشادی کی اجازت نہیں ہے۔ اسلامی شریعت اس شادی کو تسلیم نہیں کرتی ۔ گویا وہ بغیر شادی کے ازواجی تعلق قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس رحجان سے نہ صرف ان کے ایمان اور دینی حمیت پر ضرب پڑی ہے بلکہ ہندوستان میں مسلمان اور اسلامی اقدار دونوں کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ جہاں اتنی مشہور اور با وسیلہ شخصیات نے اپنی روایات سے یوں منہ موڑ لیا ہے وہاں عوام الناس کب تک مزاحمت کریں گے۔

پروگرام کے میزبان رجت شرما نے عامر خان سے پوچھا کہ آپ نے ہندو عورتوں رینا اور کرن سے شادی تو کرلی لیکن آپ کے بچوں جنید ، ارا اور آزاد کے مسلمانوں والے نام ہیں۔ اس کے جواب میں عامر خان نے بتایا بچوں کے نام میں نے نہیں میری بیویوں نے رکھے ہیں۔ اس میں میرا عمل دخل نہیں ہے ۔ اس نے بتایا میری بیٹی ارا کا نام مانیکا گاندھی کی کتاب 'ہندو نام' سے لیا گیا ہے ۔ ارا ، ہندو دیوی سروستی کا دوسرا نام ہے۔ جہاں تک چھوٹے بیٹے آزاد خان کا تعلق ہے وہ میرے خاندان کے مولانا ابوالکلام آزاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے رکھا گیا کیونکہ انہوں نے گاندھی اور نہرو کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی تھی۔ ویسے بھی 'آزاد ' مسلم نام نہیں ہے جیسے چندر شیکھر آزاد۔ اس طرح عامر خان نے اپنے عقیدے کا دفاع کرنے کے بجائے اپنے بچوں کے ناموں کو ہندوانہ ثابت کرنے کے پوری کوشش کی۔ اس سے بڑھ کر ہندو نوازی کیا ہو سکتی ہے۔ عامر خان پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے سٹیج پر آئے تو ہندوؤں کی طرح ہاتھ باندھے پرنام کر رہے تھے۔ اسی عامر خان نے کچھ عرصہ قبل کپل شرما شو میں بتایا تھا کہ مسلمان ہاتھ باندھتا نہیں بلکہ اُٹھا کر آدا ب بجا لاتا ہے۔

ہندوستان میں آج حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ مسلمان جتنا بھی محّب وطن ہو اس کی حب الوطنی مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ بلکہ اکثر انہیں غدار سمجھا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں رجت شرما نے عامر خان سے سے پہلا سوال ہی یہی کیا " آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپ دیش بھگت نہیں ہیں"۔  پھر اسی قسم کے سوالات کی بوچھار کر دی۔ پورے پروگرام میں عامر خان اپنی صفائی پیش کرتا رہا ۔ ملک سے وفاداری بلکہ جان نثاری کا مسلسل اظہار کرتا رہا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے بار بار قسمیں اٹھانی پڑتی ہیں ۔ شرط کے طور پر پاکستان کو برا بھلا کہنا پڑتا ہے اور انہیں شر پسند اور دہشت گرد قرار دینا پڑتا ہے ۔ انڈین فوج کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے چاہے وہ موضوع ہو یا نہ ہو یہ ان کی مجبوری ہے۔

عامر خان سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ وہ پاکستان کے خلاف فلمیں نہیں بناتے اور فلموں میں پاکستان، اس کی افواج اور آئی ایس آئی کو نام لے کر برا بھلا نہیں کہتے۔ اس نفرت انگیز سوال کے جواب میں عامر خان کو پاکستان اور پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بولنا پڑا ۔ اس نے وضاحت کی کہ میری فلم سرفروش ہندوستان کی پہلی فلم تھی جس میں پاکستان کا اور آئی ایس آئی کا باقاعدہ نام لے کر ان پر سخت الزامات لگائے گئے تھے۔ اس سے پہلے نام نہیں لیا جاتا تھا صرف پڑوسی ملک کہا جاتا تھا ۔ میں پہلا شخص ہوں جس نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ نسل در نسل ہندوستان میں رہنے والے عامر خان کو ملک سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے ہندوستانی فوجیوں کی پشت پناہی نہ کرنے کا الزام سننا پڑا۔ جواب میں عامر خان نے کہا کہ میں نے کارگل جنگ کے بعد پورا ایک ہفتہ ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ بارڈر پر گزارا تھا اور اپنی فوج کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں۔

مسلمانوں پر دیش بھگت اور ملک کا وفادار نہ ہونے کے الزامات کا سلسلہ دن بدن بڑھ رہا ہے ۔ چمپئنز ٹرافی میں پاکستان بھارت سے میچ جیتا تو تو فیس بک پر ایک ہندوستانی مسلمان نے لکھا، ہندوستان پاکستان کا میچ نہیں ہونا چائیے کیونکہ ہندوستان میچ ہارتا ہے تو ہمارے اُوپر غلط او ربے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ مسلمان ہر وہ قدم اٹھا رہے ہیں جو ہندوؤں کو خوش کر سکیں ۔ لیکن پھر بھی ان کی وفاداری کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ عامر خان ہو یا جاوید اختر، سلمان خان ہو یا شاہ رخ خان یا سمیع عدنان ہندوستان میں رہنے کے لیے انہیں پاکستان کو گالی دینا ضروری ہے۔ ورنہ ان کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔  

حال ہی میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو جنگ ہوئی ۔ کئی ہندوستانی ادبی دوستوں نے فیس بک پر تلخ اور نفرت انگیز پوسٹیں لگائیں جو شاعروں اور ادیبوں کو زیب نہیں دیتیں۔ کیونکہ ہمارا کام نفرت نہیں محبت پھیلانا ہے۔ یہی صورتحال فنکاروں، فلمی ستاروں، مصوروں اور کھلاڑیوں کی ہے انہیں جنگ ، بیان بازی اور دونوں ملکوں کی عداوت میں نہیں دھکیلنا چاہیے بلکہ ان کے ذریعے امن، آشتی اور محبت عام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ عامر خان اپنی عمدہ اداکاری کے لیے مشہور ہے اور سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہتا ہے ۔ وہ شوکت خانم ہسپتال کا چندہ جمع کرنے کے لیے پاکستان بھی آ چکا ہے۔ اسے پاکستان ، ہندوستان اور دنیا بھر میں فلم بین پسند کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو امن کا پیامبر بننا چاہیے نہ کہ نفرت کا۔ ہندوستان کی حکومت میڈیا اور ٹی وی چینل بھی نفرت کی اس مہم سے باز آ جائیں تو بہتر ہے۔ ورنہ یہ نفرت خود ان کے لیے بھی زہر قاتل ثابت ہوگی کیونکہ نفرت کرنے والا سب سے زیادہ نقصان اپنا کرتا ہے۔

متذکرہ پروگرام 'آپ کی عدالت ' میں ہر اس شخص کو مدعو کیا جاتا ہے جو پاکستان کے خلاف ہو اور پھر ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان کےخلاف زہریلا منفی پروپگنڈا کیا جا سکے۔ اگر ایک سماجی شو کا یہ حال ہے تو ان کے کرنٹ افیئر کے پروگراموں میں کتنا زہریلا اور نفرت انگیز مواد شامل ہوتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ شکر ہے پاکستان کے کسی چینل میں ایسے نفرت انگیز پروگرام نہیں دکھائے جاتے۔ پاکستان میں عمومی طور پر لوگ امن کے حق میں ہیں اور ان کے دلوں میں ہندوستانی عوام کے لیے نفرت نہیں ہے۔ جو خوش آئند بات ہے کاش یہی جذبہ سرحد کے دوسری طرف بھی نظر آئے۔ بھارتی میڈیا کی اس پروپیگنڈا مہم سے عوام میں جو نفرت پیدا ہوگی، اس کو زائل کرنے کے لیے صدیاں درکار ہوں گی ۔ کیونکہ نفرت پل جھپکتے میں پھیلتی ہے اور محبت کا پودا پروان چڑھنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں:

ایک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے