ایران پر حملے: کوئی امن کی بات نہیں کرتا!

ایران پر اسرائیلی  حملوں کے تناظر میں  دنیا بھر کی نگاہیں آج جینوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ جرمنی ،فرانس، برطانیہ اور یورپی  یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر ٹکی ہوئی  تھیں لیکن  تین گھنٹے جاری رہنے والی یہ ملاقات یورپ میں شام 7 بجے کے قریب ختم ہوگئی ۔ اورجنگ بندی یا  ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے حوالے سے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

امید تھی کہ یورپی وزرا گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی طرف سے  جنگ میں امریکی شمولیت  کے بارے میں فیصلہ کو مؤخر کرنے  کے بعد کوئی ٹھوس تجویز سامنے لائیں گے۔ اسی طرح ایران بھی  کوئی نرم رویہ اختیار کرکے  تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم ملاقات کے بعد اندازہ ہؤا ہے کہ فریقین، صرف اپنی پہلے سے  تیار رائے ایک دوسرے کو پہنچانے کے لیے ملنے آئے تھے۔ اگرچہ  یورپی وزرا اور ایرانی وزیر خارجہ نے  بات چیت جاری رکھنے پر  اتفاق کیا ہے لیکن نہ تو اگلی ملاقات کا وقت بتایا گیا ہے اور نہ ہی  ایسی کوئی امید افزا معلومات دی گئی ہیں کہ  ایک اور ملاقات میں کیا نیا ہوگا۔

یورپی وزیروں نے ملاقات کے بعد  میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے لیے بہتر ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھے اور امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔ ان کا یہ بھی واضح پیغام تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا۔ یہ ایسا مؤقف ہے جس کے بارے میں ایران کی پوزیشن بہت واضح ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ سے لے کر یورپ تک  جوہری ہتھیار نہ بنانے کے بارے میں  بات  کرتے ہیں۔  اس ملاقات میں یورپی وزیروں نے ایران کے بلاسٹک میزائل پروگرام پر کچھ قدغن لگانے کی بات بھی کی لیکن ایرانی وفد نے اپنے دفاع سے متعلق کسی معاملے پر بات کرنے سے صاف انکار کردیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس اجلاس کے بعد میڈیا کے سامنے لکھا ہؤا مختصر بیان پڑھا لیکن انہوں نے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔ اس بیان میں  وہی پوزیشن  واضح  کی گئی ہے جو ایرانی حکومت گزشتہ چند روز سے  اختیار کیے  ہوئے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت جاری ہے ، اس وقت تک امریکہ سے  کسی جوہری معاہدے کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے دفاع کے کسی معاملہ پر کسی قسم کی بات یا معاہدہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بیان  درحقیقت بلاسٹک میزائل پروگرام پر قدغن کے حوالے سے سامنے آنے والے مطالبے کا جواب تھا۔

گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس  نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کے بارے میں کوئی فیصلہ دو ہفتے میں کریں گے اور صدر مذاکرات کو ایک نیا موقع دینا چاہتے ہیں۔ اس پس منظر میں آج ہونے والی ملاقات میں جنگ بندی اور تنازعہ کے خاتمہ کے لیے کسی پیش رفت کی امید تھی۔  یہ قیاس بھی کیا جارہا تھا کہ  یورپی وزرا کوئی ٹھوس تجاویز لے کر اجلاس میں آئیں گے جس پر ایر ان کی رائے کے بعد کوئی حتمی مسودہ تیار کیا جاسکے گا تاکہ جنگ بندی کا راستہ نکلے اور امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہو کر حالات کو پیچیدہ اور خطرناک نہ کرے۔ البتہ یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ یورپی وزرا کی باتوں اور اجلاس کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کی روشنی میں یہی سمجھا جاسکتا ہے  کہ ان مذاکرات میں شامل یورپین ممالک کی حیثیت امریکہ کے  ’پیام بر‘ سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ ایران تک امریکہ کا صرف یہ پیغام پہنچانے آئے تھے کہ ایران،  امریکہ کے ساتھ فوری بات چیت کے ذریعے کوئی معاہدہ کرلے تاکہ جنگ بندی  ممکن ہو اور امریکہ اس جنگ میں شامل نہ ہو۔  البتہ ایران نے  ملاقات سے پہلے اور دوران اس  ’مشورے‘ کو مسترد کردیا ہے۔

دوسری طرف ایران کے وفد سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس تنازعہ میں اسرائیل کی جارحیت اور عسکری بالادستی اور امریکہ کی طرف سے اس جنگ میں شامل ہونے  کی دھمکیوں کے بعد ایرانی قیادت  کسی سفارتی حل پر آمادگی ظاہر کرے گی اور یورینیم افزودہ کرنے کے بارے میں  امریکہ و یورپ کی ’شرائط‘ کو مان لیا جائے۔  بے شک یہ کڑوی گولی ہوتی اور   بین الاقوامی  قوانین  مسترد کرتے ہوئے  شروع کیے گئے حملوں کی تائد کے مترادف ہوتا۔ تاہم قوموں کی زندگی میں بعض اوقات ایسے مشکل مراحل آتے ہیں جہاں حتمی کامیابی کے لیے کسی مرحلے پر پسپائی اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ لیکن ایرانی لیڈر یہ تلخ  حقیقت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی لیڈر ٹرمپ کے ارادوں اور یورپ کی مجبوری کا حقیقی اندازہ کرنے میں ناکام ہیں۔  قیاس ہے  کہ ایران پر امریکی حملوں کی صورت میں یورپی ممالک فرانس اور برطانیہ بھی اس جنگ جوئی میں شامل ہوں گے۔ گو کہ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔

اس وقت ایران کی یورپی لیڈروں  سے بات چیت کو 2003 میں عراق پر حملے سے پہلے ہونے والی  بات چیت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت  ہے۔ اس وقت  بھی عراق پر ’وسیع تباہی والے ہتھیار ‘   ذخیرہ   کرنے اور القاعدہ کی  اعانت کرنے کا الزام عائد کیا  جارہا تھا (یہ دونوں الزامات بعد میں جھوٹ ثابت ہوئے تھے) ۔جنگ سے پہلے عراق کو بات چیت میں الجھا کر درحقیقت حجت پوری کی جارہی تھی۔ آج جینوا میں یورپی وزرائے خارجہ نے  اسی قسم کی حجت پوری کی ہے۔ اسرائیل بلاشبہ جارح ہے  اور اس نے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا ہے۔ لیکن امریکہ یا اس کے یورہی حلیف اسرائیلی جارحیت کی بات کرنے کی بجائے اس کے ’حق دفاع‘ کی بات کرتے ہیں۔ ایران کے ایسے  جوہری پروگرام     کو ختم کرنے کی بات کی جارہی ہے جو ابھی ایٹم بم بنانے کے قابل ہی  نہیں ہے ۔لیکن اسرائیل کے جوہری  پرگرام اور ایٹم بموں کے  وسیع ذخیرے کا کوئی حوالہ نہیں دیا جاتا  جس کے بارے میں سب ممالک جانتے ہیں کہ اس نے جمع کیا ہؤا ہے۔  اس کے باوجود  وہ اپنے جوہری پرگرام کو عالمی کنٹرول میں لانے پر آمادہ نہیں اور نہ ہی   انٹر نیشنل اٹامک  کنٹرول ایجنسی کو  اپنی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے برعکس ایران ایسا معائنہ کرواتا رہاہے اور  اس نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے والے معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں۔

اس دوران  جنگ بندی کے لیے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کا اجلاس منعقد ہؤا۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اسرائیل فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا  اور کہا کہ  امن کو موقع دیا جائے۔ ’میں فریقین کو جنگ روک کر مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتا ہوں‘۔ لیکن اقوام متحدہ میں کی جانے والی باتیں اس وقت دنیا کے نقار  خانے میں طوطی کی آواز بن چکی ہیں جس پر کوئی کان دھرنے پر آمادہ  نہیں ہے۔ امریکہ  اعلان کیے بغیر اسرائیلی جنگ جوئی کی مکمل معاونت کررہاہے اور اب اس جنگ میں شامل ہونے کے لیے پر تول رہا ہے۔

ایک طرف یورپ  بظاہر ایران کے ساتھ کسی مصالحت کے لیے کام کررہا ہے اور امریکہ کے صدر  براہ راست جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ دو ہفتے تک مؤخر کرچکے ہیں لیکن اسی کے ساتھ امریکی صحافی سیموئر ہرش نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ ویک اینڈ  کے دوران  ایران پر حملے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل میں اپنے دیرینہ اور قابل اعتماد ذرائع  کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی بمباری شدید ہوگی۔ ہرش کے ذرائع نے بتایا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر منظر سے ہٹ جاتے ہیں تو امریکی بمباری کے نتیجے میں حالات پر قابو پانا آسان ہوگا۔ البتہ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ اگر علی خامنہ ای کو قتل نہیں کیاجاتا تو ان کا منظر سے ہٹنا کیسے ممکن ہوگا۔

ان حالات میں ایران کا مؤقف اگرچہ جائز اور اصولی ہے کہ اسرائیل اپنی جارحیت و اشتعال انگیزی بند کرے تو بات چیت اور معاہدہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایرانی لیڈر  اس ’ورلڈ آرڈر‘ کو ماننے میں ناکام ہورہے ہیں کہ اس وقت’  جس کی لاٹھی، اس کی بھینس ‘ والا اصول نافذ العمل ہے۔  جب تک اس غیر منصفانہ اور  استعماری  ضرورتوں پر استوار یہ طریقہ تبدیل ہونے کے حالات پیدا نہیں ہوتے، اس وقت تک حالات سے سمجھوتہ کرنا ہی مناسب  طریقہ ہے تاکہ مکمل تباہی و انتشار سے بچاؤ کی صورت پیدا ہو۔  دوسری طرف  کسی کو یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ  ایران کے پاس کس نوعیت کے کتنے بلاسٹک میزائیلوں کا ذخیرہ ہے اور وہ کتنی دیر تک اسرائیل کا   مقابلہ جاری رکھ سکتا ہے۔  

امریکہ کی اس جنگ میں شمولیت حالات کو  ایک ایسے ڈیڈ اینڈ کی طرف لے جاسکتی ہے جس میں ایران تباہ ہوگا اور جنگ و عدم استحکام ایران سے باہر متعدد دیگر ممالک اور خطے تک پھیل جائے گا۔ اس کے باوجود  امن  کی بات کرنے والا خواہ کوئی ملک ہو یا   اقوام متحدہ ، کوئی اسے سننے پر آمادہ نہیں ہے۔