ایران واسرائیل ک حملوں میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ

  • ہفتہ 21 / جون / 2025

اسرائیل نے ایران پر تازہ حملوں میں میزائلوں کے ذخیرے اور انفرااسٹرکچر کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور پاسداران انقلاب کے ایک اور سینئر کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے پہلے رات کے دوران ایران نے تل ابیب  اور دیگر اسرائیلی ٹھکانوں پر میزائل داغے۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے بتایا ہے کہ ایران کے وسطی شہر اصفہان میں ایک دھماکے کی اطلاعات ملی ہیں۔ دھماکے کے بعد شہر میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ شہر اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر کا گھر ہے، جو ایران کا سب سے بڑا جوہری تحقیقی کمپلیکس ہے۔

اصفہان کے نائب گورنر نے صوبے پر اسرائیلی حملوں کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ لنجان، مبارکہ، شہریزہ اور اصفہان کے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان میں جوہری مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم ’خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہوا‘۔

ایران کے سرکاری ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون کو وسطی ایران کے شہر کاشان پر مار گرایا گیا۔ اسرائیل نے قُم شہر میں ایک عمارت پر حملہ کیا جس میں ایک 16 سالہ نوجوان جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ صہیونی فورسز کے حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے مبینہ بیرونی بازو کے سربراہ شہید ہوگئے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے ایرانی پاسداران انقلاب کے تجربہ کار کمانڈر سعید ایزادی کو ایران کے شہر قُم میں ایک حملے میں شہید کیا۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے سعید ایزادی کی شہادت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’اسنا‘ کے مطابق، شمال مغربی ایران کے شہر تبریز میں ایک تربیتی مرکز پر اسرائیلی حملے میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسداران انقلاب) کے 4 اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے یہ حملہ پاسداران انقلاب کے تربیتی مرکز پر کیا۔ 4 اہلکار شہید ہونے کے علاوہ 3 دیگر زخمی بھی ہوئے۔

یہ شہر گزشتہ ایک ہفتے سے ایران پر اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد بارہا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر سید ایثار طباطبائی قمشہ کو قم میں ان کی اہلیہ کے ہمراہ شہید کیا گیا۔ ایران کی جوہری صنعت نمایاں مگر کم معروف شخصیت، ڈاکٹر سید ایثار طباطبائی قمشہ اور ان کی اہلیہ، منصورہ حاجی سالم، کو گزشتہ ہفتے کے آخر میں ان کی رہائش گاہ میں شہید کیا گیا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ہفتہ کو اب تک 3 ہسپتالوں جب کہ ایک اور جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کے وزیر صحت محمد رضا ظفر قندی نے کہا کہ اسرائیل نے تنازع کے دوران 3 ہسپتالوں پر حملہ کیا ہے، جس میں دو ہیلتھ ورکرز اور ایک بچہ شہید ہوا ہے، جبکہ 6 ایمبولینسز بھی نشانہ بنیں۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

دریں اثنا ایران کے ’نور نیوز‘ نے 15 فضائی دفاعی افسران اور فوجیوں کے نام بتائے ہیں جو اس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوئے ہیں۔ ایران کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں آپریشن ’وعدہ صادق تھری‘ بھرپور طریقے سے جاری ہے اور تہران نے تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائلوں کا اٹھارہواں مرحلہ مکمل کرلیا۔

خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے نئی کارروائیوں میں صہیونی فوجی مراکز، دو فضائی اڈے، دفاعی صنعتیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مرکزی اسرائیل کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ کے ایک ہسپتال نے بتایا ہے کہ تازہ ایرانی حملے کے بعد 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں میں اب تک کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔